’دیریلیش ارطغرل‘ یکم رمضان سے پی ٹی وی پر نشر ہوگا

اپ ڈیٹ 20 اپريل 2020

ای میل

ڈرامے میں ارطغرل کی اذدواجی زندگی بھی دکھائی گئی، فوٹو: اسکرین شاٹ
ڈرامے میں ارطغرل کی اذدواجی زندگی بھی دکھائی گئی، فوٹو: اسکرین شاٹ

مسلمانوں کی فتوحات کی کہانی پر مبنی شہرہ آفاق ترکش ڈراما ’دیریلیش ارطغرل‘ رواں سال یکم رمضان سے اردو زبان میں ترجمہ کرکے پی ٹی وی پر نشر ہوگا۔

اس خبر کا اعلان سینٹر فیصل جاوید خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ایک ٹوئٹ میں کیا۔

انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ ’دیریلیش ارطغرل یکم رمضان سے رات 9 بج کر 10 منٹ پر پی ٹی وی ہوم پر اردو ترجمے کے ساتھ نشر کیا جائے گا‘۔

مزید پڑھیں: انٹرنیٹ و کیبل کی بندش کے باوجود کشمیر میں ’دیریلیش ارطغرل‘ دیکھا جانے لگا

پی ٹی وی کے اکاؤنٹ پر بھی اس ڈرامے کی ایک ویڈیو شیئر کی گئی، جس میں لکھا گیا کہ اس ڈرامے میں 13ویں صدی میں مسلمانوں کی عالمی فتوحات کی عکاسی کرتی دنیا پیش کی گئی ہے۔

مذکورہ ڈرامے کو ترکی کا ’گیم آف تھرونز‘ بھی کہا جاتا ہے اور اس ڈرامے کو 13 ویں صدی میں اسلامی فتوحات کے حوالے سے انتہائی اہمیت حاصل ہے۔

’دیریلیش ارطغرل‘ ڈرامے کی کہانی 13 ویں صدی میں ’سلطنت عثمانیہ‘ کے قیام سے قبل کی کہانی ہے اور اس ڈرامے کی مرکزی کہانی ’ارطغرل‘ نامی بہادر مسلمان سپہ سالار کے گرد گھومتی ہے جنہیں ’ارطغرل غازی‘ بھی کہا جاتا ہے۔

ابتدائی طور پر اس ڈرامے کو 2014 میں ریلیز کیا گیا، فوٹو: اسکرین شاٹ
ابتدائی طور پر اس ڈرامے کو 2014 میں ریلیز کیا گیا، فوٹو: اسکرین شاٹ

ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح 13 ویں صدی میں ترک سپہ سالار ارطغرل نے منگولوں، صلیبیوں اور ظالموں کا بہادری سے مقابلہ کیا اور اپنی فتوحات کا سلسلہ برقرار رکھا۔

یہ بھی پڑھیں: کیا ترک ڈرامے دیریلیش ارطغرل کی اردو ڈبنگ روک دی گئی؟

ڈرامے میں سلطنت عثمانیہ سے قبل کی ارطغرل کی حکمرانی، بہادری اور محبت کو دکھایا گیا ہے۔

ٖڈرامے کی کہانی کو مسلمان ممالک میں سراہا گیا، فوٹو: اسکرین شاٹ
ٖڈرامے کی کہانی کو مسلمان ممالک میں سراہا گیا، فوٹو: اسکرین شاٹ

یہ ڈراما پاکستان میں اردو زبان میں پیش کیے جانے سے قبل ہی دنیا کے 60 ممالک میں مختلف زبانوں میں نشر کیا جا چکا ہے۔

ڈراما 5 سیزن اور مجموعی طور پر 179 قسطوں پر مبنی ہے، اس ڈرامے کو ابتدائی طور پر 2014 میں ٹی آر ٹی پر نشر کیا گیا تھا اور اب یہ ڈراما ’نیٹ فلیکس‘ سمیت دیگر آن لائن اسٹریمنگ چینلز پر موجود ہے۔

واضح رہے کہ ارطغرل نامی سپہ سالار کی وفات کے چند سال بعد ہی ان کے چھوٹے بیٹے ’عثمان‘ نے 13 ویں صدی کے آغاز میں ہی ’سلطنت عثمانیہ‘ کے قیام کا اعلان کیا اور مسلمانوں کی یہ عظیم سلطنت تقریبا 600 سال تک 1920 تک قائم رہی۔

ڈرامے کو ترکی کا گیم آف تھرونز بھی کہا جاتا ہے، فوٹو: اسکرین شاٹ
ڈرامے کو ترکی کا گیم آف تھرونز بھی کہا جاتا ہے، فوٹو: اسکرین شاٹ

سلطنت عثمانیہ کو پہلی جنگ عظیم کے بعد انگریزوں نے سازش کے تحت ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور اسی سلطنت میں موجود کئی علاقے آج دنیا کے نقشے میں آزاد ملک کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان بھی پاکستانیوں کو دیریلش ارطغرل دیکھنے کی تجویز دے چکے ہیں۔