بھارت میں کورونا کیسز میں ریکارڈ اضافہ، دنیا کے 10 بدترین متاثرہ ممالک میں شامل

اپ ڈیٹ 25 مئ 2020

ای میل

بھارت میں کورونا کیسز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے—فائل فوٹو: رائٹرز
بھارت میں کورونا کیسز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے—فائل فوٹو: رائٹرز

دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے اور اب اس سے زیادہ تیزی سے متاثرہ ہونے والے ممالک میں بھارت بھی شامل ہوگیا ہے جہاں ایک روز میں ریکارڈ کیسز میں اضافے کے بعد یہ دنیا کے ان 10 ممالک میں سے ایک ہوگیا جو کورونا سے بدترین متاثر ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق پیر کو بھارت میں ایک روز کے اب تک کے سب سے زیادہ کورونا کیسز سامنے آئے اور یہ ایران کو بھی پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کے 10 بدترین متاثر ممالک کی فہرست میں شامل ہوگیا۔

واضح رہے کہ بھارت میں کیسز میں اضافے کے باوجود حکومت کی جانب سے مقامی فضائی سفر کی اجازت دی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس سے تباہی جاری، روس اور بھارت میں ریکارڈ اموات اور کیسز

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے مارچ میں نافذ کیے گئے دنیا کے طویل ترین لاک ڈاؤن کے باوجود بھارت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایک روز میں 6 ہزار 977 مزید کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد وہاں متاثرین کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 38 ہزار 845 ہوگئی جبکہ اموات 4 ہزار سے تجاوز کرگئیں۔

یہاں یہ بات مدنظر رہے کہ نئے کیسز میں اضافہ کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے نئے فیز کے تحت کچھ کاروبار اور سفر کے دوبارہ بحال ہونے کے ساتھ ہی سامنے آیا۔

ادھر پیر کو نئی دہلی ایئرپورٹ پر پرواز میں سفر کرنے والے کچھ مسافروں اور عملے کے اراکین کی جانب سے کہا گیا کہ سیکیورٹی فورسز نے سخت سماجی فاصلوں پر عمل کروایا اور مسافروں نے ماسک بھی پہنے۔

تاہم وفاقی حکومت کی جانب سے ان پروازوں کے بعد مسافروں کو قرنطینہ کرنے پر زور نہیں دیا گیا لیکن کچھ ریاستوں کی جانب سے اپنی طرف سے اٹھائے گئے قرنطینہ کے اقدامات نے مسافروں کو الجھن میں ڈال دیا۔

اس حوالے سے شمال مشرقی ریاست آسام کا سفر کرنے والے ایک انجینئر سبہم دے کا کہنا تھا کہ اپنے اہل خانہ سے ملنے کے لیے پرواز کرنا ایسا محسوس ہوا جیسے میں وار زون میں داخل ہورہا ہوں جبکہ ماسک اور دستانوں نے مجھے مزید پریشان کیا۔

علاوہ ازیں بھارتی ریلوے کا بھی کہنا تھا کہ وہ آئندہ 10 روز میں 2 ہزار 600 اضافی خصوصی ٹرینیں چلائیں گی جس سے تقریباً 35 لاکھ پھنسے ہوئے پناہ گزین ورکرز کو اپنے گھروں کو جانے میں مدد ملے گی۔

خیال رہے کہ 24 مارچ کو اچانک لاک ڈاؤن کے اعلان سے لاکھوں پناہ گزین مزدوروں کو چونکا دیا اور کچھ نے دیگر آپشن کا استعمال کیا اور پیدل گھروں کا رخ کیا جس کے لیے انہیں کئی مرتبہ ایک ہزار سے زائد کلو میٹر کا سفر کرنا پڑا۔

یہی نہیں بلکہ لاکھوں یومیہ اجرت والے مزدور شہروں میں اپنی نوکریاں کھو چکے ہیں یا انہوں نے کام چھوڑ دیا ہے کیونکہ وہ شہر کی کچی آبادیوں میں رہنے سے خوفزدہ ہیں جس کی وجہ گزشتہ 2 ماہ میں وہاں انفیکشن کے کیسز کا تیزی سے بڑھنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس: چین میں کوئی کیس نہیں آیا، بھارت اور لاطینی امریکا میں غیرمعمولی اضافہ

اس کے علاوہ ان میں سے 100 سے زائد لوگ آیا حادثوں یا گھر کو واپس جاتے ہوئے تھکن کی وجہ سے ہلاک بھی ہوچکے ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس چین سے شروع ہونے والا نوول کورونا وائرس دنیا بھر میں پھیل چکا ہے اور اس سے اب تک 54 لاکھ سے زائد لوگ متاثر جبکہ 3 لاکھ 45 ہزار سے زائد اموات ہوچکی ہیں۔

اس وائرس سے سب سے زیادہ امریکا متاثر ہوا ہے جبکہ دوسرا نمبر برازیل اور روس کا ہے تاہم چوتھے نمبر پر موجود برطانیہ میں اموات کی تعداد دنیا میں دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ ہے۔