کورونا وائرس: چین میں کوئی کیس نہیں آیا، بھارت اور لاطینی امریکا میں غیرمعمولی اضافہ

اپ ڈیٹ 23 مئ 2020

ای میل

جرمن چانسلر نے کورونا وائرس کے خلاف حکومت کی کارکردگی تسلی بخش قرار دی—فوٹو: اے پی
جرمن چانسلر نے کورونا وائرس کے خلاف حکومت کی کارکردگی تسلی بخش قرار دی—فوٹو: اے پی

چین میں کورونا وائرس کا کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا لیکن بھارت اور لاطینی امریکا میں کیسز کی بھرمار سے ہسپتالوں میں جگہ تنگ پڑگئی۔

ترکی میں ہفتے سے شروع ہونے والی عیدالفطر کی تعطیلات کے ساتھ ہی سخت ترین لاک ڈاؤن کے اقدامات نافذ کردیے گئے اور یمن کے حوثی باغیوں نے شہریوں کو فیس ماسک استعمال کرنے اور گھروں کے اندر رہنے کی تاکید کی ہے۔

مزیدپڑھیں: امریکا کی چین کو ہانگ کانگ پر قانون سازی کے معاملے پر دھمکی

کورونا وائرس سے متعلق تفصیلات فراہم کرنے والی ویب سائٹ جان ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق صرف چند ہی مہینوں میں وبائی مرض سے دنیا بھر میں کم از کم 3 لاکھ 38 ہزار افراد ہلاک اور 50 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔

جرمنی میں جہاں وائرس سے نمٹنے کے لیے قابل تعریف اقدامات اٹھائے گئے، وہیں ملک کے شمال مغرب میں واقع ایک ریسٹورنٹ میں 7 افراد وائرس میں مبتلا پائے گئے۔

جرمنی میں 2 ہفتے قبل ریسٹورنٹس دوبارہ کھولنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

علاوہ ازیں جرمنی کے ہی جنوب مغربی شہر فرینکفرٹ میں 10 مئی کو چرچ سروس کے بعد 40 سے زائد افراد میں کورونا وائرس کے مثبت نتائج آئے جس میں سے ایک شخص کو ہسپتال میں داخل کردیا گیا۔

دوسری جانب جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے کہا ہے کہ ملک ’کے شعبہ صحت پر دباؤ نہیں ہے، ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے‘۔

فرانس میں عبادت گاہوں کی جانب سے حکومتی لاک ڈاؤن میں عائد پابندیوں کو چیلنج کرنے بعد حکام نے مذہبی سروس کو دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دی۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر نے طبی محققین کے نتائج کو ’ٹرمپ دشمن بیان‘ قرار دے دیا

لاطینی امریکا وائرس کا تازہ ترین مرکز ہے اور ماہرین نے کے مطابق سرکاری اقدامات انتہائی محدود ہیں جہاں لاکھوں غیر رسمی ملازمتیں ہیں اور پولیس کمزور یا بدعنوان ہے اور پابندیاں نافذ کرنے سے قاصر ہے۔

برازیل اور میکسیکو میں رواں ہفتے تقریباً روزانہ کورونا کے کیسز اور اموات میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔

جہاں دونوں ممالک کے صدور کو محدود لاک ڈاؤن کے سبب تنقید کا سامنا ہے۔

امریکا میں کچھ خطے دوسروں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے لاک ڈاؤن میں نرمی لارہے ہیں۔

کیلیفورنیا میں اگلے ہفتے شراب خانے دوبارہ کھولنے کی تیاری کی جارہی ہے اور لاس ویگاس کیسینو 4 جون کو دوبارہ کھل سکتے ہیں۔

ویب سائٹ کے مطابق امریکا، وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جہاں 16 لاکھ افراد متاثرہ ہوئے 96 ہزار اموات ہوئیں۔

اعداد و شمار کے مطابق کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرین ممالک میں امریکا کے بعد روس اور برازیل کا نمبر ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کووڈ 19 کے مریضوں کے لیے ایک اور تجرباتی دوا کی آزمائش

دوسری جانب چین میں امید کی ایک کرن نظر آئی جہاں گزشتہ برس کے آخر میں وبا شروع ہوئی تھی، وہاں پہلی مرتبہ کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا۔

علاوہ ازیں جاپان نے لاک ڈاؤن میں نرمی کرتے ہوئے دوبارہ کھلنے والے بار میزبانوں اور نائٹ لائف ورکرز کو ماسک پہننے، ہر 30 منٹ پر گارگل کرنے اور ہر استعمال کے بعد مائیکروفون کو جراثیم کش کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

دوسری جانب جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیئول میں 200 سے زیادہ کیسز کے بعد ہزاروں کلبوں کو دوبارہ بند کردیا۔

بھارت میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز پر تشویش پائی جارہی ہے۔

خیال رہے کہ بھارت میں ملک گیر لاک ڈاؤن جاری ہے اور لگاتار دوسرے دن بھی 6 ہزار کیسز سامنے آئے۔

یہ بھی پڑھیں: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کووڈ 19 کیلئے تجویز کردہ ادویات نقصان دہ قرار

حالیہ دنوں میں نسبتاً بہت کم کیسز والی ریاستوں میں بھی تیزی دیکھنے میں آئی ہے جب سے خصوصی ٹرینوں میں سفر کرنے والے تارکین وطن مزدوروں سمیت رہائشی اپنے گھر واپس لوٹ رہے ہیں۔

جبکہ کچھ ممالک کو وبا کی دوسری لہر کا سامنا ہے۔