پاکستان کا بھارتی فورسز کے ہاتھوں 13 کشمیریوں کے ماورائے عدالت قتل پر اظہار مذمت

اپ ڈیٹ 02 جون 2020

ای میل

دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی—فائل فوٹو: ریڈیو پاکستان
دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی—فائل فوٹو: ریڈیو پاکستان

پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے ایک روز میں 13 کشمیریوں کے ماورائے عدالت قتل پر سخت مذمت کا اظہار کیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر عائشہ فاروقی کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کو مقبوضہ کشمیر میں جعلی انکاؤنٹرز میں کشمیری نوجوانوں کے بلا روک ٹوک قتل عام اور نام نہاد 'انسداد دراندازی' آپریشنز پر سخت تحفظات ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ جہاں اس وقت بین الاقوامی برادری عالمی وبا کووڈ 19 سے لڑ رہی ہیں وہیں بھارت اس دوران کشمیریوں پر ظلم و جبر کو تیز کرنے میں مصروف ہے۔

دفتر خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ایک ہی روز میں 13 کشمیریوں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا جو بھارتی حکومت کے انسانیت کے خلاف جاری جرائم کی عکاسی ہے۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج سے جھڑپ میں حزب المجاہدین کا کمانڈر جاں بحق

ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ ان جرائم کو چھپانے کے لیے بھارتی حکام متعدد بار کشمیری حریت پسندوں کی 'تربیت' اور 'دراندازی' کے غیریقینی الزامات کا سہارا لیتے رہے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے کہا گیا کہ بھارت کو یہ یقین کرلینا چاہیے کہ اس کے اس بے بنیاد پروپیگینڈے کی بین الاقوامی برادری میں کوئی ساکھ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس اور بی جے پی کا انتہا پسند 'ہندوتوا' ایجنڈا اور غیرانسانی اور غیرقانونی کارروائیوں کا مشترکہ نظریہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہوگیا ہے۔

مزید یہ بھی کہا گیا کہ بھارت کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اس کے مظالم نہ تو کشمیری عوام کے حوصلے کو پست کرسکتے ہیں اور نہ اس کا پاکستان مخالف ایجنڈا مقبوضہ کشمیر میں جاری ریاستی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹا سکتا ہے۔

اپنے بیان میں ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ 'ہر کشمیری کی شہادت کشمیریوں کے بھارتی قبضے سے آزادی کی جدوجہد کو مزید تقویت دے گی، کشمیری عوام اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے تحت اپنے ناقابل تنسیخ حق خود ارادیت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور پاکستانی عوام کشمیریوں کے لیے اپنی مکمل حمایت جاری رکھیں گے۔

ترجمان دفترخارجہ کی جانب سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ بین الاقوامی برادری کو بھارت کے کشمیری عوام کے خلاف سنگین جرائم کو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانے چاہیئیں۔

مختلف آپریشنز میں 15 کشمیری نوجواں جاں بحق

قبل ازیں کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کے ظلم و جبر کے نتیجے میں 15 کشمیری نوجوان جاں بحق ہوگئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ آج ضلع پلوامہ میں 2 جبکہ گزشتہ روز وادی کے مختلف اضلاع میں 13 کشمیری نوجوانوں کو قتل کردیا گیا تھا۔

کے ایم ایس کے مطابق ضلع پلوامہ کے علاقے سائےموہ میں بھارتی فوج نے محاصرے کے دوران سرچ آپریشن کرتے ہوئے 2 نوجوانوں کو قتل کردیا۔

مزید برآں گزشتہ روز ضلع پونچھ کے میندھر اور دیگر گاؤں میں فوجی آپریشن میں 10 جبکہ ضلع راجوڑی کے علاقے نوشہرا میں 3 نوجواں جاں بحق ہوگئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی مقبوضہ کشمیر میں پیر معراج الدین کے قتل کی شدید مذمت

خیال رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کا ظلم و جبر کئی دہائیوں سے جاری ہے تاہم 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ وادی کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد سے اس میں شدت آگئی ہے۔

یاد رہے کہ 5 اگست کو بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرتے ہوئے اسے 2 حصوں میں تقسیم کردیا تھا، ساتھ ہی وہاں مکمل لاک ڈاؤن اور کرفیو نافذکرتے ہوئے اضافی فوج تعینات کردی تھی۔

گزشتہ ماہ بھی مقبوضہ کشمیر کے علاقے بڈگام میں بھارتی قابض فوج نے پیر معراج الدین کو قتل کردیا تھا جس پر پاکستان نے اظہار مذمت کرتے ہوئے اسے دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا تھا۔

قبل ازیں مئی کے اوائل میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج سے جھڑپ میں حزب المجاہدین کے کمانڈر ریاض نائیکو ساتھی سمیت جاں بحق ہوگئے تھے۔

حزب المجاہدین کے کمانڈر ریاض نائیکو مقبوضہ کشمیر کے جنوبی ضلع پلوامہ میں موجود تھے کہ وہاں بھارتی سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کیا تھا۔

اسی روز اور مسلح تصادم میں مزید دو کشمیری نوجوان مارے گئے تھے۔