فارن فنڈنگ کیس: اسکروٹنی کمیٹی کے اسٹیٹس پر رپورٹ ایک ہفتے میں جمع کروانے کی ہدایت

اپ ڈیٹ جون 02 2020

ای میل

چیف الیکشن کمشنر نے ہدایت کی کہ اسکروٹنی کمیٹی کے اسٹیٹس رپورٹ ایک ہفتے کے اندر پیش کریں—فائل فوٹو: اے ایف پی
چیف الیکشن کمشنر نے ہدایت کی کہ اسکروٹنی کمیٹی کے اسٹیٹس رپورٹ ایک ہفتے کے اندر پیش کریں—فائل فوٹو: اے ایف پی

چیف الیکشن کمشنر نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) فارن فنڈنگ کیس میں اسکرروٹنی کمیٹی کے اسٹیس پر رپورٹ ایک ہفتے میں پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) میں پی ٹی آئی پارٹی فنڈنگ کیس کے درخواست گزار اکبر ایس بابر کو مبینہ دھمکیوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

سماعت میں اکبر ایس بابر کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ ان کے مؤکل کو حکمران جماعت کی جانب سے کیس واپس لینے کے لیے ہراساں کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم الیکشن کمیشن کے رحم و کرم پر ہیں، کسی کی آزادی اور زندگی کو خطرہ نہیں ہونا چاہیے، الیکشن کمیشن تحفظ دے۔

یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی کیخلاف فارن فنڈنگ کیس کی سماعت آج ہوگی

وکیل کا مزید کہنا تھا کہ میں عدالتی احکامات کی مثالیں پیش کرسکتا ہوں کہ جس عدالت میں کیس ہو وہ درخواست گزار کو تحفظ دے

دورانِ سماعت درخواست گزار اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ ہم پر جھوٹے مقدمات بنائے جا رہے ہیں۔

وکیل نے کہا کہ اکبر ایس بابر واحد ایسے پارٹی رکن ہیں جو شفافیت کے لیے فنڈنگ کی تحقیقات کرانا چاہتے ہیں۔

اس پر الیکشن کمیشن کے رکنِ پنجاب نے درخواست گزار نے کہا کہ آپ 249 اے کا سہارا لے سکتے ہیں، آپ کو دھمکیوں کے معاملے پر متعلقہ فورمز سے رابطہ کرنا چاہیے۔

جس پر اکبر ایس بابر کے وکیل نے کہا کہ ہم نے متعلقہ فورمز سے بھی رابطہ کیا ہے۔

رکن پنجاب کا کہنا تھا کہ ہمیں کیا پتا کے آپ کے باہر پی ٹی آئی سے کیا معاملات ہیں، آپ کے دلائل دیکھ کر فیصلہ کریں گے، آپ اس متعلق اور کیا کہنا چاہتے ہیں۔

مزید پڑھیں: الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کی سماعت

سماعت میں پی ٹی آئی کے وکیل خاور شاہ نے کہا کہ ہم الیکشن کمیشن کی اسکروٹنی کمیٹی کے ٹی او آرز کے مطابق چل رہے ہیں اور کمیٹی میں اپنے دلائل مکمل کرچکے ہیں۔

وکیل پی ٹی آئی کا مزید کہنا تھا کہ اب تو ہمارے دلائل پر درخواست گزار نے جواب جمع کروانا ہے، ہمارے پارٹی اکاؤنٹس کی تفصیلات کے ساتھ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کے سرٹیفکیٹ موجود ہیں۔

وکیل خاور نے سماعت میں مؤقف اختیار کیا کہ اسکروٹنی کمیٹی ٹی او آرز کے مطابق اپنی اسکروٹنی کررہی ہے، کمیٹی درخواست گزار کی خواہشات پر اپنے دائرہ اختیار سے باہر تو نہیں جاسکتی۔

اس پر ڈائریکٹر جنرل لا نے کہا کہ اسکروٹنی کمیٹی کی کارروائی کے موجودہ اسٹیٹس کے حوالے سے رپورٹ ایک ہفتے میں مکمل کر لیں گے، انہوں نے کمیشن کو آگاہ کیا کہ کمیٹی کے اراکین گھر سے کام کر رہے ہیں۔

چیف الیکشن کمیشن نے ڈی جی لا سے دریافت کیا کہ اسکروٹنی کمیٹی کی حتمی رپورٹ کب تک دیں گے؟

یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کی روزانہ سماعت کا حکم

جس کے جواب میں ڈی جی لا کا کہنا تھا کہ ابھی تو بینک اکاؤنٹس کا آڈٹ کرنا ہے، اسٹیٹ بینک کے مہیا کردہ اکاونٹ کا جائزہ لینا ہے۔

جس پر چیف الیکشن کمشنر نے ہدایت کی کہ اسکروٹنی کمیٹی کے اسٹیٹس رپورٹ ایک ہفتے کے اندر پیش کرے۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اسکروٹنی کمیٹی کی حتمی رپورٹ کے حوالے سے 4 ہفتے بعد دوبارہ جائزہ لیں گے امید ہے 4 ہفتے میں آپ کام مکمل کر چکے ہوں گے۔

فارن فنڈنگ کیس

خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کیس نومبر 2014 سے زیر التوا ہے جو اس پارٹی کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے دائر کیا تھا۔

کیس میں الزام لگایا گیا تھا کہ غیر قانونی غیر ملکی فنڈز میں تقریباً 30 لاکھ ڈالر 2 آف شور کمپنیوں کے ذریعے اکٹھے کیے گئے اور یہ رقم غیر قانونی طریقے 'ہنڈی' کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے پی ٹی آئی ملازمین کے اکاؤنٹس میں بھیجی گئی۔

ان کا یہ بھی الزام تھا کہ جو فنڈز بیرونِ ملک موجود اکاؤنٹس حاصل کرتے تھے، اسے الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی سالانہ آڈٹ رپورٹ میں پوشیدہ رکھا گیا۔

بعد ازاں ایک سال سے زائد عرصے تک اس کیس کی سماعت ای سی پی میں تاخیر کا شکار رہی تھی کیونکہ پی ٹی آئی کی جانب سے اکتوبر 2015 میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی کہ اس کے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال سے ای سی پی کو روکا جائے۔

جس کے بعد فروری 2017 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے دائرہ اختیار پر جائزہ لینے کے لیے کیس کو دوبارہ ای سی پی کو بھیج دیا تھا، اسی سال 8 مئی کو ای سی پی کے فل بینچ نے اس کیس پر اپنے مکمل اختیار کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی ٹی آئی اس طرح کے ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی کہ درخواست گزار کو پارٹی سے نکال دیا گیا اور وہ پی ٹی آئی اکاؤنٹس پر سوالات اٹھانے کا حق کھو بیٹھے۔

علاوہ ازیں مارچ 2018 میں پی ٹی آئی کے فارن فنڈنگ اکاؤنٹس کے معاملات کو دیکھنے کے لیے ایک اسکروٹنی کمیٹی قائم کی گئی تھی جو اب تک فارن فنڈنگ کی تحقیقات کررہی ہے۔

امید ہے کہ الیکشن کمیشن اس کیس کو حتمی انجام تک پہنچائے گا، رہنما مسلم لیگ (ن)

سماعت کے بعد بات کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ فارن فنڈنگ کیس میں اگر اس وقت کے چیف الیکشن کمشنر، وزیراعظم عمران خان کو نہیں بلائیں گے تو آپ کے کمیشن کا کوئی مقصد نہیں ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ ہم نے اپنے دور حکومت میں پی ٹی آئی کے خلاف کیسز کی پیروی اس لیے بھرپور طریقے سے نہیں کی کہ ہم پر انتقامی کارروائی کا الزام عائد کیا جاتا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ ہماری محاذ آرائی تھی اس لیے ہم نے اس طرح ان کیسز پر زور نہیں دیا کیوں کہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ یہ تاثر جائے کہ ہم انتقامی کارروائی کررہے ہیں۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اسی لیے ہم نے فارن فنڈنگ کیس بھی اداروں پر چھوڑ دیا تھا اس لیے ہماری حکومت نے اس میں غیر معمولی دلچسپی اس لیے نہیں لی کہ یہ تاثر نہ جائے کہ ہم اسے سیاسی طور پر استعمال کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب ہم حکومت میں نہیں ہیں اس لیے ہم اُمید کرتے ہیں کہ ادارے ان کیسز کا نوٹس لیں گے کیوں کہ یہ پاکستان کی جمہوریت کے لیے اہم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیا الیکشن کمیشن اتفاق رائے سے تشکیل پایا اس لیے ہم اُمید رکھتے ہیں کہ یہ اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچائے گا۔

اپوزیشن کو لینے کے دینے پڑگئے، علی محمد خان

دوسری جانب پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا تمام ریکارڈ آڈٹ شدہ ہے اور ہم تمام تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع کرواچکے ہیں۔

وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ اپوزیشن پارٹیوں کو لینے کے دینے پڑگئے ہیں کہ آئے تو ہماری اسکروٹنی کے لیے تھے لیکن ان کو یہاں بھی شاید قطری کی ضرورت پڑے۔

انہوں نے کہا آپ نے تحریک انصاف سے پوچھا تو ہم نے تو اپنے ہزاروں اکاؤنٹس کی تفصیلات فراہم کردیں تو شہباز شریف، بلاول بھٹو اور آصف زرداری آپ لوگ اپنا حساب کتاب کب الیکشن کمیشن میں جمع کروائیں گے۔