کورونا سے بچنے کے لیے برطانوی حکومت کی انوکھی منطق پر لوگ حیران

اپ ڈیٹ جون 03 2020

ای میل

برطانوی حکومت نئے ضوابط یکم جون کو متعارف کرائے—فائل فوٹو: رائٹرز
برطانوی حکومت نئے ضوابط یکم جون کو متعارف کرائے—فائل فوٹو: رائٹرز

اس وقت اگرچہ دنیا کے بیشتر ممالک میں کورونا وائرس کے نئے کیسز آنے کے باوجود جہاں لاک ڈاؤن کو نرم کرنے کا سلسلہ جاری ہے، وہیں کئی ممالک وبا سے بچنے کے لیے منفرد طریقے اور قوائد و ضوابط بھی متعاف کرا رہے ہیں۔

ایسے ہی طریقے اور قوائد و ضوابط متعارف کرانے والے ممالک میں برطانیہ بھی شامل ہے، جس نے یکم جون لاک ڈاؤن میں نرمیوں کا اعلان کرتے ہوئے کسی بھی جگہ دو افراد کے اکٹھے ہونے پر پابندی عائد کردی۔

تاہم حکومت کی جانب سے ایسے ضوابط کو متعارف کرائے جانے کے بعد برطانوی میڈیا سمیت سوشل میڈیا پر حکومتی فیصلے پر طنز و مزاح کا سلسلہ جاری ہے اور لوگ ان ضوابط کو دوسرے نظریے سے دیکھ رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ابتدائی طور پر حکومتی ضوابط پر برطانیہ کے اہم نشریاتی اداروں نے طنز کرنا شروع کیا اور حکومت کی انوکھی منطق کو جنسی تعلقات کی بندش سے تشبیح دی۔

رپورٹ کے مطابق متعدد برطانوی نشریاتی اداروں نے کسی بھی نجی یا عوامی مقام پر دو افراد کے میل ملاپ کی ممانعت کو جنسی تعلقات کی بندش سے تشبیح دیتے ہوئے اس پر طنز کیا۔

یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں پر عدم مساوات جنم لے رہی ہے،میئر لندن

برطانوی میڈیا کے بعد سوشل میڈیا پر بھی کئی لوگوں نے (سیکس بین) کا ہیش ٹیگ استعمال کیا۔

رائٹرز کے مطابق برطانوی حکومت نے اپنے کورونا ضوابط میں تبدیلی لاتے ہوئے کسی بھی جگہ 2 افراد کے میل میلاپ پر پابندی عائد کی تو لوگوں نے اس پابندی کو جنسی تعلقات کی بندش کے تناظر میں دیکھا۔

تاہم ہاؤسنگ کے جونیئر وزیر سائمن کلارکے نے حکومت پر طنز ہونے کے بعد ایک ریڈیو پروگرام میں وضاحت کی کہ حکومت کا واضح طور پر ایسا کوئی ارادہ نہیں تاہم حکومت چاہتی ہے کہ کوئی بھی ایسے کام کے لیے باہر نہ جائے۔

سائمن کلارکے کے مطابق گھر کے بجائے باہر جانے سے کورونا وائرس کے خطرات بڑھتے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ کوئی بھی گھر سے باہر نہ نکلے۔

حکومت کی جانب سے کسی بھی جگہ پر 2 افراد کے ملنے کی ممانعت کے ضوابط کا اعلان کیے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر لوگوں نے حکومتی منطق پر خوب طنز و مزاح کیا اور حکومتی فیصلے کو جنسی تعلقات کی بندش سے تشبیح دی۔

بعض افراد نے تو حکومت کو یہ تجویز بھی دے ڈالی کہ وہ (سیکس فورس) کا قیام عمل میں لائے جو ایسا عمل کرنے والوں پر نظر رکھے اور اسے ہونے نہ دے۔

بعض افراد نے کورونا سے بچنے کے لیے انوکھے ضوابط متعارف کرائے جانے پر حکومت اور یہاں تک کہ وزیر اعظم بورس جانسن کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ حکومتی ارکان خود ضوابط پر عمل نہیں کرتے۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس، برطانیہ میں معمولات زندگی کیسے ہیں؟

کئی افراد نے ٹوئٹر پر سیکس بین کا ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے بورس جانسن سمیت دیگر حکومتی عہدیداروں کی ذاتی اور جنسی زندگی کے حوالے بھی دیے اور کسی بھی جگہ پر 2 افراد کے ملنے کی ممانعت کی حکومتی منطق پر خوب طنز کیے۔

خیال رہے کہ برطانیہ کے علاوہ دنیا کے دیگر ممالک نے بھی لاک ڈاؤن کو نرم کرتے ہوئے کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نئے ضوابط متعارف کرائے ہیں۔

زیادہ تر ممالک نے فیس ماسک پہننے، سینیٹائیزر استعمال کرنے، سماجی دوری اختیار کرنے اور ہجوم میں جانے سے روکنے جیسے ضوابط متعارف کرائے ہیں۔

بعض ممالک نے ضوابط پر عمل نہ کرنے والے افراد پر جرمانہ و قید کے قوانین بھی بنائے ہیں اور لوگوں کو ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایات کی جا رہی ہیں۔