وزیر اعظم پورٹل کی شکایتوں میں سب سے بُری کارکردگی سندھ کے اداروں کی رہی، شہباز گل

اپ ڈیٹ جون 05 2020

ای میل

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط شہباز گل اسلام آباد میں پریس کانفرنس کر رہے ہیں — فوٹو: ڈان نیوز
وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط شہباز گل اسلام آباد میں پریس کانفرنس کر رہے ہیں — فوٹو: ڈان نیوز

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط شہباز گل کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم پورٹل پر موصول شکایتوں میں سے زیادہ غیر حل شدہ شکایتیں سندھ کے اداروں کی ہیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے وزیر اعظم کے پورٹل کی کارکردگی بتائی۔

انہوں نے بتایا کہ اب تک تقریباً پونے 22 لاکھ شکایتیں اس پورٹل پر موصول ہوئی ہیں جن میں سے 94 فیصد پاکستان کے اندر سے، 5.5 فیصد تارکین وطن پاکستانی اور غیر ملکیوں کی جانب سے 0.32 فیصد شکایتیں شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا جب ایک شکایت موصول ہوتی ہے تو افسران کو 20 سے 21 روز کا وقت دیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم عمران خان ٹائیگر فورس کے حوالے سے خصوصی خطاب

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے 7 ہزار 500 محکموں کی شکایتیں وزیر اعظم پورٹل پر موصول ہوسکتی ہیں جہاں سے اس شکایت کو اس کے متعلقہ محکمے بھیجا جاتا ہے اور اس محکمے کو انہیں 20 سے 21 روز میں حل کرنا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’اس کے بعد انہیں ایک الرٹ جاری کردیا جاتا ہے اور اگر 41 روز میں بھی وہ شکایت حل نہیں ہوپاتی تو اس شکایت کو کالا رنگ دے دیا جاتا ہے اور وزیر اعظم کا دفتر اس محکمے کو ایک خط ارسال کرتا ہے جس کے ذریعے اس پر عدم اعتماد کا اظہار کیا جاتا ہے‘۔

شہباز گل کا کہنا تھا کہ ’اس کام کی ذمہ داری وزیر اعظم کے دفتر میں اعلیٰ افسران کو سونپی گئی ہے تاہم صحافیوں کی جانب سے افسران کا نام پوچھے جانے پر انہوں نے نام بتانے سے گریز کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت تک مجموعی طور پر تقریباً 22 لاکھ شکایتوں میں سے حل نہ ہونے والی شکایتیں صرف 28 ہزار 118 ہیں جن میں سے خیبر پختونخوا کی 5.5 فیصد، پنجاب کی 7.3 فیصد، بلوچستان کی 2.2 فیصد، وفاق کی 20 فیصد، گلگت بلتستان کی 0.2 فیصد جبکہ آزاد جموں و کشمیر کی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا سٹیزن پورٹل پر شکایات کے حل میں تاخیر کا نوٹس

انہوں نے کہا کہ ’اس کے علاوہ ایک صوبہ ہے جو کہتا ہے کہ ان کی کارروائی مغربی ممالک کی طرح ہے اور بہت زیادہ بیان بازی کرتا ہے جبکہ وہاں سے غیر حل شدہ شکایتیں کل 28 ہزار میں سے 17 ہزار سے زائد ہیں جن میں 6 ہزار وفاقی حکومت کے اداروں کی شکایتیں بھی شامل ہیں۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کے سامنے 10 سب سے زیادہ عدم اعتماد والے اداروں میں سے 8 کا تعلق سندھ سے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں عوام کو بنیادی سہولتوں کا فقدان تھا، تحریک انصاف نے نچلے طبقے سے بھی عوامی نمائندوں کو سامنے آنے کا موقع دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’وزیر اعظم نے وعدہ کیا تھا کہ نچلے طبقے کی آواز سنی جائے گی اور انہوں نے یہ کرکے دکھایا ہے‘۔