’ارطغرل غازی‘ کی ’بانو چیچک‘ پاکستانی چائے پینے کی خواہاں

اپ ڈیٹ جون 05 2020

ای میل

بانو چیچک کا کردار ڈرامے کے ابتدائی سیزن میں شامل ہے—اسکرین شاٹ
بانو چیچک کا کردار ڈرامے کے ابتدائی سیزن میں شامل ہے—اسکرین شاٹ

پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) پر اپریل کے آخر سے نشر ہونے والے ترکی کے شہرہ آفاق ڈرامے ’ارطغرل غازی‘ پر ایک طرف جہاں ملک بھر کے سیاستدانوں اور شوبز شخصیات میں اسے سرکاری ٹی وی پر نشر کرنے پر بحث جاری ہے۔

تو دوسری طرف ڈرامے کے مقبولیت میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور ساتھ ہی ڈرامے کی کاسٹ کو بھی پاکستان میں پذیرائی مل رہی ہے۔

اگرچہ پاکستان میں ابھی تک ڈرامے کے پہلے سیزن کی 40 قسطیں تک ہی نشر ہوئی ہیں اور ابھی تک پاکستانی شائقین نے ڈرامے کی محدود مگر مرکزی کاسٹ کو ہی دیکھا ہے۔

تاہم اب تک ڈرامے میں نظر آنے والی کاسٹ پاکستان میں مشہور ہوچکی ہے اور پاکستانی شائقین ڈرامے کی کاسٹ سے سوشل میڈیا پر رابطہ کرکے انہیں وطن آنے کی دعوت دے رہے ہیں۔

بانو چیچک کا کردار نبھانے والی اداکارہ نے ایک انٹرویو کےدوران پاکستان آنے کی خواہش ظاہر کی—اسکرین شاٹ
بانو چیچک کا کردار نبھانے والی اداکارہ نے ایک انٹرویو کےدوران پاکستان آنے کی خواہش ظاہر کی—اسکرین شاٹ

پاکستانی شائقین کی دعوت ملنے اور شائقین کی محبت کو دیکھ کر ماضی میں جہاں ڈرامے کے مرکزی کردار (ارطغرل غازی) کا کردار ادا کرنے والے اداکار انجین التان دوزیتان اور ڈرامے میں ان کی بیوی (حلیمہ سلطان) کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ اسرا بیلگیج بھی پاکستان آنے کی خواہش کا اظہار کر چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: 'ارطغرل غازی' کی 'حلیمہ' پاکستان آنے کے لیے بیتاب

وہیں اسی ڈرامے کے دو معروف اداکاروں دوآن بے (روشان) کا کردار ادا کرنے والے جاوید چتین گونر اور اصلحان خاتون کا کردار ادا کرنے والی گلثوم علی نے بھی پاکستان آنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

حلیمہ سلطان کا کردار نبھانے والی اسرا بیلگیج نے بھی پاکستان آنے کی خواہش ظاہر کی تھی—اسکرین شاٹ
حلیمہ سلطان کا کردار نبھانے والی اسرا بیلگیج نے بھی پاکستان آنے کی خواہش ظاہر کی تھی—اسکرین شاٹ

اور اب اسی ڈرامے کے ایک اور معروف کردار (بانو چیچک) کی اداکارہ ایزگی ایسما کرکلو نے بھی پاکستان آنے کی خواہش کا اظہار کردیا۔

انڈیپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے ایزگی ایسما کرکلو نے کہا کہ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان بھی ترکی کی طرح بارونق اور زندہ دل لوگوں کا ملک ہے۔

اداکارہ کے مطابق انہیں لگتا ہے کہ پاکستان کسی حد تک ترکی جیسا ہی ہے اور چونکہ ان ممالک میں کہا جاتا ہے کہ یہ دو ممالک اور ایک قوم ہیں، تو انہیں بھی لگتا ہے کہ یہ دونوں ممالک بہت قریب ہیں۔

مزید پڑھیں: 'ارطغرل غازی' خود بھی پاکستان آنے کے خواہاں

اداکارہ نے مختصر انٹرویو میں ارطغرل غازی کی شوٹنگ کے دوران اپنی کچھ یادوں کا ذکر بھی کیا اور ساتھ ہی پاکستانی شائقین کی جانب سے محبت کے پیغامات پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔

(ارطغرل غازی کا کردار ادا کرنے والے اداکار انجین التان دوزیتان نے بھی پاکستان آنے کی خواہش ظاہر کی تھی—اسکرین شاٹ
(ارطغرل غازی کا کردار ادا کرنے والے اداکار انجین التان دوزیتان نے بھی پاکستان آنے کی خواہش ظاہر کی تھی—اسکرین شاٹ

ترک اداکارہ نے کہا کہ انہیں پاکستان سے ڈھیر سارے محبت کے پیغام موصول ہو رہے ہیں اور وہ ضرور پاکستان آنا چاہیں گی، لیکن انہیں یہ نہیں پتہ کہ وہ کب تک پاکستان آ سکیں گی۔

اداکارہ نے وضاحت کی کہ شاید وہ اس وقت ہی پاکستان آسکیں جب کورونا کے باعث فضائی سفر کی پابندیاں ختم ہوں لیکن وہ پاکستان ضرور آئیں گی۔

یہ بھی پڑھیں: 'حلیمہ سلطان' کے بعد ارطغرل کے مزید 2 اداکار پاکستان آنے کیلئے تیار

ساتھ ہی انہوں نے پاکستانی مداحوں سے اردو میں منفرد فرمائش بھی کر ڈالی اور انٹرویو کے آخر میں کہا کہ وہ پاکستان آکر چائے ضرور پینا چاہیں گی اور انہوں نے مداحوں سے سوال بھی کیا کہ انہیں کون چائے پلائے گا؟

اصلحان خاتون کا کردار ادا کرنے والی گلثوم علی نے بھی پاکستان آنے کی خواہش ظاہر کی تھی—اسکرین شاٹ/ انسٹاگرام
اصلحان خاتون کا کردار ادا کرنے والی گلثوم علی نے بھی پاکستان آنے کی خواہش ظاہر کی تھی—اسکرین شاٹ/ انسٹاگرام

خیال رہے کہ ارطغرل غازی کے مجموعی طور پر 5 سیزن ریلیز کیے جا چکے ہیں اور اس ڈرامے کے 179 تک قسطیں ہیں، پاکستان میں ابھی ڈرامے کے پہلے سیزن کو اردو میں ترجمہ کرکے چلایا جا رہا ہے۔

اس ڈرامے کا ترک زبان میں نام 'دیریلیش ارطغرل' ہے اور اس میں درجنوں اداکاروں نے کردار ادا کیے ہیں، تاہم چند مرکزی اور اہم کردار ہیں جو پہلے سے آخری سیزن تک رہتے ہیں۔

A photo posted by Instagram (@instagram) on

اس ڈرامے میں بانو چیچک کا کردار بھی تمام سیزن میں نہیں ہے بلکہ یہ کردار ابتدائی سیزنز میں ہے۔

اس ڈرامے کی کہانی 13 ویں صدی میں مسلمانوں کی فتوحات کے گرد گھومتی ہے، یہ فتوحات اسلامی بادشاہت سلطنت عثمانیہ کے قیام سے قبل کی ہیں، تاہم ڈرامے کے آخری سیزن میں سلطنت عثمانیہ کی بنیادی کہانی کو بھی دکھایا گیا ہے۔

A photo posted by Instagram (@instagram) on