ہانگ کانگ میں سیکیورٹی قانون کے خلاف خاموش احتجاج

اپ ڈیٹ 28 جون 2020

ای میل

ہانگ کانگ کے عوام نے کہا کہ قانون کی مخالفت جاری رہے گی—فائل/فوٹو:رائٹرز
ہانگ کانگ کے عوام نے کہا کہ قانون کی مخالفت جاری رہے گی—فائل/فوٹو:رائٹرز

ہانگ کانگ میں ہزاروں شہریوں نے چین کی حکومت کے مجوزہ نیشنل سیکیورٹی قانون کے خلاف شہر کی سڑکوں میں مارچ کیا۔

خبرایجنسی رائٹرز کے مطابق ہانگ کانگ کے ضلع کوولون میں جارڈن سے مونگ کوک تک شہریوں نے خاموش مارچ کیا اور مظاہرے میں روایتی نعرے ناپید تھے۔

مزید پڑھیں:امریکا نے ہانگ کانگ کے معاملے پر چینی عہدیداروں پر ویزا پابندی عائد کردی

خاموش احتجاج کے دوران شیلڈ سے لیس پولیس بھی موجود تھی تاہم مظاہرین خاموش مارچ کرتے رہے۔

بیجنگ میں نیشنل پیپلز کانگریس کی اسٹینڈنگ کمیٹی میں مجوزہ نیشنل سیکیورٹی قوانین پر تین روزہ بحث ہوئی۔

مجوزہ قانون جون کے آخر میں متوقع طور پر منظور ہوگا لیکن تاحال اس کا ڈرافٹ جاری نہیں کیا گیا۔

ہانگ کانگ میں جارڈن میں مارچ میں شریک 25 سالہ ایستھر کا کہنا تھا کہ 'میں یہاں نیشنل سیکیورٹی قوانین کی مخالفت کے لیے آیا ہوں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'یہ آخری جنگ نہیں ہے بلکہ ان قوانین کے خلاف ایک طویل مزاحمت ہے'۔

قبل ازیں ہانگ کانگ پولیس نے یکم مارچ کو ہونے والے سالانہ مارچ کی اجازت دینے سے انکار کیا تھا اور یہ دن ہانگ کانگ کی 23 برس قبل برطانیہ سے چین کے ہاتھوں منتقلی کے دن کی مناسبت سے منایا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کی چین کو ہانگ کانگ پر قانون سازی کے معاملے پر دھمکی

پولیس نے مارچ کے حوالے سے ایک بیان میں کہا کہ مارچ ہانگ کانگ میں 50 سے زائد لوگوں کے جمع ہونے پرعائد پابندی کی خلاف ورزی ہے، جو کورونا وائرس کے باعث لگادی گئی ہے۔

ہانگ کانگ پبلک اوپینین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے کیے گئے ایک سروے کے مطابق ہانگ کانگ کے معاشی مرکز میں عوام کی اکثریت نے نیشنل سیکیورٹی قانون کی مخالفت کردی۔

سروے میں کہا گیا کہ احتجاج کے حق میں پائی جانے والی 58 فیصد رائے میں کمی ہوئی ہے اور اب 51 فیصد حمایت باقی ہے جبکہ مخالفت میں 28 فیصد سے 34 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔

خیال رہے کہ امریکا نے گزشتہ روز ہانگ کانگ کی 'آزادی اور خودمختاری' پر قدغن لگانے کے الزام میں چین کے متعدد عہدیداروں پر ویزا کی پابندیاں لگانے کا اعلان کیا تھا۔

امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو نے بیان میں کہا تھا کہ 'میں موجودہ اور سابق چینی حکام پر ویزا پابندیوں کا اعلان کر رہا ہوں جنہوں نے ہانگ کانگ کی خودمختاری کو نظر انداز کیا، جو چین اور برطانیہ کے مابین 1984 کے معاہدے میں درج تھا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'چین نے ہانگ کانگ میں انسانی حقوق کی پامالی کی اور آزادی کے بنیادی حق کو تسلیم نہیں کیا'۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ پابندیوں کی زد میں آنے والے چینی عہدیداروں کے اہل خانہ پر بھی ویزا پابندیوں کا اطلاق ہوگا۔

مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہانگ کانگ کی خود مختاری کو نقصان پہنچانے کے چین کے مجوزہ سیکیورٹی قانون پر بیجنگ کو سزا دینے کا وعدہ کیا تھا۔

مزید پڑھیں: چین کی پارلیمنٹ نے ہانگ کانگ نیشنل سیکیورٹی بل منظور کرلیا

یاد رہے کہ گزشتہ برس ہانگ کانگ میں جمہوریت کے لیے احتجاج کرنے والوں کے حق میں امریکی کانگریس نے ایک قانون منظور کیا تھا جس سے ہانگ کانگ کو دنیا کی بڑی معیشت سے تجارت کی اجازت دی گئی تھی۔

برطانیہ نے چین کی جانب سے ہانگ کانگ میں قومی سلامتی کے قانون کے نفاذ پر ردعمل دیتے ہوئے ہانگ ہانگ کے شہریوں کو شہریت دینے کا عندیہ دیا تھا۔

چین نے جواب میں برطانیہ کو خبردار کیا تھا کہ ہانگ کانگ میں مداخلت کی صورت میں اسے مناسب ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

امریکا اور برطانیہ کی معاملے پر تنقید سے چین مشتعل نظر آتا ہے اور ناقدین کا خیال ہے کہ قانون کے نفاذ سے نیم خود مختار ہانگ کانگ کی محدود آزادی ختم ہوجائے گی۔

امریکا نے چین کی جانب سے ہانگ کانگ کی خود مختاری کے خاتمے کے فیصلے پر دھمکی دی تھی کہ خصوصی تجارتی حیثیت ختم کردی جائے گی۔

خیال رہے کہ 1991 میں برطانیہ نے اس شہر کو چین کے حوالے کیا تھا اور چین یہاں 'ایک ملک، دو نظام' فریم ورک کے تحت حکمرانی کر رہا ہے اور ہانگ کانگ کو نیم خود مختاری حاصل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چین نے ہانگ کانگ کے معاملے پر برطانیہ کو ’جوابی ردعمل‘ سے خبردار کردیا

گزشتہ سال اکتوبر میں ہانگ کانگ میں مجرمان کی حوالگی سے متعلق مجوزہ قانون کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج و مظاہرے کیے گئے تھے، جس نے جمہوری سوچ رکھنے والے ہانگ کانگ کے عوام اور بیجنگ کی حکمراں جماعت کمیونسٹ پارٹی کے درمیان شدید اختلافات کو واضح کردیا تھا۔

ہانگ کانگ میں اس احتجاج کا آغاز پرامن طور پر ہوا تھا تاہم حکومت کے سخت ردعمل کے بعد یہ احتجاج و مظاہرے پرتشدد ہوگئے تھے۔

شدید احتجاج کے بعد ہانگ کانگ کے شہریوں کو ٹرائل کے لیے چین بھیجنے کی اجازت دینے والے قانون کو واپس لے لیا گیا تھا تاہم اس کے باوجود احتجاج کئی ماہ تک جاری رہا تھا جس میں حقوق کے لیے ووٹنگ کرانے اور پولیس کی پرتشدد کارروائیوں کی آزادانہ تحقیقات کے مطالبے شامل تھے۔