سمندری حدود میں آنے والی 3 ایرانی کشتیوں کو واپسی پر مجبور کردیا، سعودی عرب

اپ ڈیٹ 28 جون 2020

ای میل

سعودی کوسٹ گارڈ نے انتباہی فائرنگ کی—فائل فوٹو: بشکریہ ایس پی اے
سعودی کوسٹ گارڈ نے انتباہی فائرنگ کی—فائل فوٹو: بشکریہ ایس پی اے

سعودی عرب نے کہا ہے کہ اس نے اپنے پانیوں (سمندری حدود) میں گھس آنے والی 3 ایرانی کشتیوں کو انتباہی فائرنگ کے بعد واپس جانے پر مجبور کردیا۔

اس حوالے سے عرب ویب سائٹ اردو نیوز نے سعودی عرب کے سرکاری خبررساں ادارے ایس پی اے کے حوالے سے رپورٹ کرتے ہوئے بتایا کہ سعودی رائل کوسٹ گارڈز کے ترجمان نے کہا کہ 25 جون کو ہمیں سعودی سمندری حدود میں ایرانی کشتیوں کے داخلے کی اطلاع ملی، جس پر کوسٹ گارڈز کا مخصوص دستہ اس مقام پر پہنچا۔

انہوں نے بتایا کہ ایرانی کشتیوں کی اس خلاف ورزی پر کوسٹ گارڈ کے کمانڈر کو بین الاقوامی قوانین کے تحت رکنے کا پیغام دیا تاہم ایرانی کشتیوں کی جانب سے اس کا جواب نہیں دیا گیا۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی کشتیوں کی جانب سے پیغام کا جواب نہ دینے پر کوسٹ گارڈ نے انتباہی فائرنگ کی جس پر وہ کشتیاں واپس جانے پر مجبور ہوگئیں۔

ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملک کی سمندری حدود کی خلاف ورزی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

دوسری جانب برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایرانی سرکاری میڈیا نے مقامی عہدیدار کو نقل کرتے ہوئے بتایا کہ سعودی کوسٹ گارڈ نے ان ایرانی مچھیروں پر فائرنگ کردی جو سعودی پانیوں میں بھٹک گئے تھے لیکن ابتدائی رپورٹ میں کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

ایرانی رپورٹ میں کہا گیا کہ مچھیرے 21 جون کو 10 روز کے لیے روانہ ہوئے تھے، تاہم یہ واضح نہیں کیا کہ سعودی کوسٹ گارڈ کے ساتھ یہ واقعہ کب پیش آیا۔

مزید برآں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ دونوں رپورٹس ایک ہی واقعے کی ہیں یا نہیں۔

سعودیہ اور ایران کشیدگی

یاد رہے کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے پراکسی جنگ جاری ہے اور دونوں ممالک مشرق وسطیٰ میں اپنے اثر و رسوخ کے لیے ایک دوسرے سے مقابلے میں ہیں اور دونوں شام اور یمن میں مخالف گروہوں کی حمایت میں مصروف ہیں۔

سعودی عرب یمن جنگ میں مسلسل ایران پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ حوثی باغیوں کی مدد کر رہا ہے جہاں متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک ان کے اتحادی ہیں جبکہ ایران ان دعوؤں کو مسترد کرتا آیا ہے۔

تاہم سعودی عرب اور ایران کے درمیان جاری اس کشیدگی میں شدت گزشتہ برس 14 ستمبر کو پیش آئے اس واقعے کے بعد آئی تھی جس میں سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو کی تنصیبات پر حملے کیے گئے تھے۔

مزید پڑھیں: ایران کا سعودی عرب سے یمن میں جارحیت ختم کرنے کا مطالبہ

ان حملوں کے بعد سعودی عرب نے کہا تھا کہ یہ حملے یمن سے نہیں بلکہ ایران سے کیے گئے جبکہ امریکا نے بھی ان حملوں کی ذمہ داری ایران پر عائد کی تھی۔

جس کے بعد خطے کی مجموعی صورتحال کافی کشیدہ ہوگئی تھی جبکہ اس کشیدہ صورتحال کا اثر رواں ماہ فروری میں ہونے والے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے اجلاس میں بھی نظر آیا تھا جہاں ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق سعودی عرب نے جدہ میں ہونے والے او آئی سی کے اجلاس میں ایرانی وفد کو شرکت سے روک دیا تھا۔

بعد ازاں 5 فروری کو عراق میں تعینات ایرانی سفیر ایرج مسجدی نے کہا تھا کہ ایران چاہتا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے اختلافات جلد سے جلد ختم ہوجائیں۔