’بھارت جعلی خبروں، پروپیگنڈا مشینری تیز کر کے حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتا‘

اپ ڈیٹ 02 جولائ 2020

ای میل

ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے دفتر خارجہ میں ہفتہ وار بریفنگ دی —تصویر: ڈان نیوز
ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے دفتر خارجہ میں ہفتہ وار بریفنگ دی —تصویر: ڈان نیوز

پاکستان نے بھارتی فورسز کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں بے گناہ عوام پر جاری ظلم و ستم کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے کہا کہ کل دنیا نے بھارت کے ظالمانہ رویے کی تصویر دیکھی جو بھارتی قابض افواج کی ڈھٹائی اور غیر انسانی سلوک کی صورتحال کو ظاہر کرتی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سو پور میں ایک 3 سالہ بچے کی دل دہلا دینے والی تصویر ہمیشہ ان کے لوگوں ذہنوں کے لیے تکلیف دہ رہے گی جو انسانیت، انسانی حقوق اور بنیادی آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ بھارت جعلی خبروں اور پروپیگنڈا مشینری کو تیز کر کے حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر میں ایک چھوٹے بچے کی اپنے نانا کی لاش پر بیٹھی تصویر دنیا بھر میں وائرل ہوئی تھی، جن کے بارے میں اہلِخانہ کا کہنا تھا کہ بزرگ شخص کو بھارتی سیکیورٹی فورسز نے قتل کیا۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر: بھارتی فورسز کے ہاتھوں 'قتل' نانا کی لاش پر بیٹھے نواسے کی تصویر نے دنیا کو ہلادیا

ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں اور سال 2020 کے 6 ماہ کے دوران ایک ہزار 546 مرتبہ خلاف ورزی کی گئی جس کے نتیجے میں 14 شہری شہید اور 114 زخمی ہوئے۔

ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے 25 ہزار بھارتی شہریوں کو ڈومیسائل دینے کو سختی سے مسترد کرتا ہے، کشمیری عوام نے بھی بوگس ڈومیسائل سرٹفکیٹس کو مسترد کیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان مسلسل بین الاقوامی برادری کو بھارتی قیادت کی جانب پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے دہشت گردی کے استعمال کے دھمکی آمیز بیانات سے خبردار کرتا آرہا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے عالمی برادری کو بھارتی خفیہ ادارے ’را‘ کی پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہونے کے شواہد فراہم کیے ہیں۔

مزید پڑھیں: لائن آف کنٹرول پر بھارت کی بلا اشتعال شیلنگ سے نوجوان شہید

افغان امن عمل کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکی سفیر زلمے خلیل زاد سے ملاقات کی اور پاکستان کی جانب سے پرامن، خوشحال اور مستحکم افغانستان کے لیے کام جاری رکھنے کے عزم کو دہرایا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان علاقائی رابطوں کے منصوبوں اور پاک افغان اقتصادی شراکت داری میں سہولت کے لیے کوششوں میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیر خارجہ سے ملاقات میں امریکی نمائندہ خصوصی نے کراچی اسٹاک ایکسچینج پر ہونے والے حملے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار تعزیت کیا اور امریکی حمایت کا یقین دلایا۔

بریفنگ کے دوران عائشہ فاروقی نے بتایا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اراکین نے ایک بیان میں کراچی میں ہونے والے بزدلانہ اور گھناؤنے حملے کی سخت مذمت کی ہے جبکہ حکومت پاکستان اور حملے کے متاثرین کے اہلِ خانہ سے تعزیت اور ہمدری کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا افغان امن عمل کو نقصان پہنچانے والے ’تخریبی عناصر‘ سے متعلق انتباہ

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے یورپی یونین کے امور خارجہ اور سیکیورٹی پالیسی کے اعلیٰ عہدیدار جوزف بوریل سے ٹیلیفونک گفتگو کی۔

دونوں رہنماؤں نے تجارت سمیت پاکستان اور یورپی یونین کی پارٹنر شپ کے متعدد پہلوؤں جی ایس پی پلس کے آئندہ مرحلے اور اسٹریٹجک انگیجمنٹ کو جلد فعال کرنے پر گفتگو کی۔

ترجمان دفتر خارجہ نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ چند روز میں 257 پاکستانیوں کو ملائیشیا، کمبوڈیا، سنگاپور اور برونائی سے وطن واپس لایا گیا۔

اس کے علاوہ 9 ہزار 504 پاکستانی دبئی اور مارات کے شمالی علاقوں، ایک ہزار 403 جدہ، 25 دوشنبہ اور 96 کرغستان سے وطن واپس آئے ہوں ان تک دنیا کے مختلف حصوں سے ایک لاکھ 13 ہزار 154 پاکستانی شہری وطن واپس آچکے ہیں۔