'کورونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے' کے استعمال پر غور کیلئے معاملہ اسلامی نظریاتی کونسل کے سپرد

اپ ڈیٹ 02 جولائ 2020

ای میل

عدالت عالیہ کے چیف جسٹس قاسم خان نے کیس کی سماعت کی—فائل فوٹو: لاہور ہائیکورٹ ویب سائٹ
عدالت عالیہ کے چیف جسٹس قاسم خان نے کیس کی سماعت کی—فائل فوٹو: لاہور ہائیکورٹ ویب سائٹ

لاہور ہائیکورٹ نے مختلف ذرائع ابلاغ پر 'کورونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے' کے الفاظ کے استعمال پر غور کرنے کے لیے معاملہ اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوادیا۔

صوبائی دارالحکومت میں عدالت عالیہ کے چیف جسٹس قاسم خان نے اخبارات، ٹی وی چینلز، اور سرکاری ذرائع ابلاغ میں 'کورونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے' کہ الفاظ کے استعمال کے خلاف سلمان ادریس ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ اخبارات، ٹی وی چینلز اور سرکاری ذرائع ابلاغ میں غیراخلاقی اور غیر اسلامی الفاظ کا استعمال کیا جارہا ہے۔

اس سلسلے میں جب سماعت ہوئی تو چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ دنیا میں صرف 2 ریاستیں ہیں جو مذہب کی بنیاد پر قائم ہیں، اس میں ایک اسرائیل اور دوسرا پاکستان ہے۔

مزید پڑھیں: کورونا وبا: ملک میں کیسز 2 لاکھ 17ہزار سے زائد، ایک لاکھ 4 ہزار 694 صحتیاب

انہوں نے کہا کہ اللہ کی حکمرانی کے بعد پارلیمنٹ کی بالادستی محدود ہوجاتی ہے، ساتھ ہی انہوں نے پوچھا کہ کورونا سے لڑنا نہیں ڈرنا ہے کہ الفاظ کے استعمال سے قبل اسلامی نظریاتی کونسل سے رائی لی گئی ہے؟

جس پر عدالت میں موجود ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے پتا کرنا پڑے گا کہ کس محکمے نے ان الفاظ کا استعمال کیا ہے۔

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ کے وزیراعظم نے یہ الفاظ استعمال کیے ہیں، جس پر وفاقی حکومت کے وکیل نے بتایا کہ پارلیمنٹ سے ایسے الفاظ کے استعمال کی کوئی منظوری نہیں ہوئی۔

وکیل کی بات کے جواب میں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ لگتا ہے کہ آپ پارلمینٹ کو مان ہی نہیں رہے، وزیراعظم کس حیثیت میں یہ الفاظ استعمال کررہے ہیں جب یہ پارلمینٹ سے منظور ہی نہیں ہوئے۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ کچھ لوگوں کے جملے، الفاظ، کلمات حکومت پاکستان کے نظریے کو ظاہر کرتے ہیں۔

بعدازاں عدالت نے 'کورونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے' کے الفاظ غور کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوادیے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل آئندہ اجلاس میں ان الفاظ پر غور کرکے بتائے کہ کیا یہ الفاظ درست ہیں؟

ساتھ ہی یہ بھی حکم دیا گیا کہ اسلامی نظریاتی کونسل اپنی رائے سے صدر مملکت، وزیراعظم اور لاہور ہائیکورٹ کو آگاہ کرے جبکہ وفاقی حکومت مذکورہ معاملے پر تفصیلی تحریری جواب بھی جمع کروائے۔

خیال رہے ملک میں کورونا وائرس کی وبا کے سامنے آنے کے بعد حکومت کی جانب سے مختلف پلیٹ فارمز پر آگاہی مہم شروع کی گئی تھی، جس میں ذرائع ابلاغ میں ان الفاظ کا استعمال کیا جارہا تھا کہ 'کورونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے'۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس کے پیچھے اصل سازش کس کی ہے؟

تاہم یہاں یہ بات مدنظر رہے کہ اپریل کے مہینے میں وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کورونا وائرس سے لگنے والے لاک ڈاؤن سے متاثر افراد کی مدد کے لیے کی گئی ایک ٹیلی تھون میں معروف عالم دین مولانا طارق جمیل نے بھی ان الفاظ میں لڑنے کے لفظ پر بات کی تھی۔

انہوں نے کہا تھا کہ 'یہ آسمانی آفت ہے اس سے لڑنا نہیں بلکہ اس کا علاج کرکے اللہ کو عاجزی دکھانی ہے اور اپنا سر سجدے میں رکھ کر رونا ہے، اس سے ہم لڑ نہیں سکتے ہیں، اس لفظ کو اپنی زبان سے نکال دیں، چاہے دل میں کوئی تکبر نہ ہو لیکن یہ لفظ اللہ کو پسند نہیں ہے'۔

واضح رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 2 جولائی کی دوپہر تک 2 لاکھ 17 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ اموات بھی 4400 سے زائد ہیں۔