صومالیہ: ریسٹورنٹ پر حملے میں 6 افراد ہلاک

اپ ڈیٹ 05 جولائ 2020

ای میل

خودکش حملے میں 7 افراد زخمی ہوئے—فوٹو:رائٹرز
خودکش حملے میں 7 افراد زخمی ہوئے—فوٹو:رائٹرز

صومالیہ کے ہر بیدوا میں مبینہ دہشت گردوں نے ایک ریسٹورنٹ پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں کم ازکم 6 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی رپورٹ کے مطابق دارالحکومت موغادیشو کی بندرگارہ کے قریب ایک خودکش حملہ بھی ہوا جس میں کم ازکم 7 افراد زخمی ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق دہشت گرد تنظیم 'الشہاب' نے دونوں حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

مزید پڑھیں:صومالیہ میں کار بم دھماکا، 76 افراد ہلاک

صومالیہ کی حکومت کو تقریباً ایک دہائی سے الشہاب کے حملوں کا سامنا ہے اور اب تک شہریوں کی بڑی تعداد ان حملوں میں لقمہ اجل بن چکی ہے۔

الشہاب نے اپنے بیان میں کہا کہ بیدوا میں ان کا نشانہ ٹیکس جمع کرنے والے عہدیدار اور فوجی تھے اور وہ ریسٹورنٹ میں ایک ملاقات کر رہے تھے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ حملے میں 2 فوجی بھی مارے گئے لیکن مقامی عہدیداروں نے کہا کہ ہلاک ہونے والے افراد عام شہری تھے۔

دوسری جانب پولیس کا کہنا تھا کہ موغادیشو میں چیک پوائنٹ پر ایک گاڑی پر اشارے کے باوجود نہ رکنے پر اہلکاروں نے فائرنگ کی۔

ان کا کہنا تھا کہ خودکش بمبار گاڑی چلارہا تھا اور بندرگاہ کے سامنے بنائی گئی چیک پوسٹ سے گاڑی کو ٹکرانا چاہتا تھا تاہم فائرنگ کرکے اس کو ہلاک کردیا گیا جبکہ گاڑی دھماکے سے اڑ گئی۔

پولیس نے کہا کہ واقعے میں 2 پولیس اہلکار اور 5 راہگیر زخمی ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں: صومالیہ میں الشباب کے حملے، دبئی کی کمپنی کے افسر سمیت 10 افراد ہلاک

بندرگارہ میں کام کرنے والے ایک مزدور نے بتایا کہ بندرگار کے اندر دھات کا ملبہ ہمارے اوپر آگرا اور ہمیں فائرنگ کی آواز بھی سنائی دی۔

یاد رہے کہ دسمبر 2019 میں صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو کے مصروف علاقے میں ایک کار بم دھماکے میں 76 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔

نجی ایمبولینس سروس امین کے ڈائریکٹر عبدالقدیر عبدالرحمٰن نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ’ہلاک افراد میں 2 ترک شہری بھی شامل ہیں تاہم ہمیں اس کی ابھی اطلاع نہیں کہ وہ راہ گیر تھے یا اس علاقے میں قیام پذیر تھے‘۔

صومالیہ کی تاریخ میں سب سے خونریز حملہ اکتوبر 2017 میں موغادیشو میں پیش آیا تھا جہاں ٹرک دھماکے کی وجہ سے 512 افراد ہلاک اور 295 زخمی ہوگئے تھے۔