امریکا: بالٹی مور میں مظاہرین نے کولمبس کا مجسمہ گرادیا

اپ ڈیٹ 05 جولائ 2020

ای میل

بالٹی مور کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی کولمبس کے مجمسوں کو گرادیا گیا—فوٹو:اے پی
بالٹی مور کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی کولمبس کے مجمسوں کو گرادیا گیا—فوٹو:اے پی

امریکا کے شہربالٹی مور میں مظاہرین نے کرسٹوفر کولمبس کا مجمسہ گرادیا اور اسے سمندر میں پھینک دیا۔

خبر ایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق مظاہرین نے لٹل اٹلی کے علاقے کے قریب بنائے گئے مجسمے کو گرانے کے لیے رسی استعمال کی۔

خیال رہے کہ امریکا میں گزشتہ ماہ سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد احتجاج شروع ہوگیا تھا جو پورے ملک اور دنیا میں پھیل گیا تھا۔

مزید پڑھیں:بائیں بازوں کا ثقافتی انقلاب امریکا کی بنیادیں ہلا رہا ہے، ٹرمپ

مظاہرین نے مطالبہ کیا تھا کہ کولمبس سمیت کنفیڈریشن کے دیگر رہنماؤں کے مجسموں کو گرادیا جائے اور ان کا مزید کہنا تھا کہ نسلی کشی اور مقامی امریکیوں کے ساتھ جبر کے ذمہ دار اٹلی کے مظالم پسند افراد تھے۔

بالٹی مور سن کی رپورٹ کے مطابق مجمسے کی ذمہ داری شہری انتظامیہ کے پاس تھی اور اسے 1984 میں سابق میئر ولیم ڈونلڈ شیئفر اور صدر رونالڈ ریگن کے لیے خرج عقیدت پیش کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔

شہر کے میئر کے ترجمان برنارڈ سی جیک ینگ کا کہنا تھا کہ مجسمے کو گرانا قومی اور عالمی سطح پر یادگاروں کی دوبارہ آزمائش ہے کیونکہ اس کا اظہار مختلف لوگوں میں مختلف ہوتا ہے۔

لیسٹر ڈیوس کا کہنا تھا کہ 'ہمیں معلوم ہے کہ بالٹی مور میں کھیلے جانا والے معاملات قومی بیانیے کا حصہ ہیں'۔

بالٹی مور کے علاوہ میامی، رچمنڈ، ورجینیا، سینٹ پال، مینیسوٹا اور بوسٹن جیسے شہروں میں بھی کولمبس اور دیگر کے مجمسوں کو گرادیا گیا یا نقصان پہنچایا گیا۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز اپنے خطاب میں مجسموں کو گرانے کے عمل کو امریکی اقدار کی بنیادیں ہلانے سے تعبیر کیا تھا۔

امریکی کنفیڈریشن کے رہنماؤں اور دیگر تاریخی شخصیات کے مجسمے گرانے کی کوشش کرنے والے ہجوم پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا تھا کہ مظاہرین ملک کی تاریخ کو مٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کے قومی دن کے موقع پر ماؤنٹ رشمور میں ہزاروں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ عدم مساوات کے خلاف ہونے والے احتجاج سے ملک کے سیاسی نظام کی بنیادوں کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ نے پولیس کی ناکام حکمت عملی کے خاتمے کیلئے اصلاحات پر دستخط کردیے

انہوں نے کہا تھا کہ 'کوئی غلطی نہیں کرنا، بائیں بازو کا یہ ثقافتی انقلاب امریکی انقلاب کو نکال باہر کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے'۔

امریکی صدر کا کہنا کہ 'ہمارے بچوں کو اسکولوں میں اپنے ملک سے نفرت کرنے کا سبق پڑھایا جارہا ہے'۔

انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ 'نیشنل گارڈن آف امریکن ہیروز' بنائیں گے جہاں امریکا کے عظیم لوگوں کے مجسمے ہوں گے اور بڑا پارک ہوگا۔

واضح رہے کہ انہوں نے یہ بات ایسے وقت میں کہی تھی جب مظاہرین نے وائٹ ہاؤس کے باہر مقبول پالیسیوں کے باعث مشہور امریکا کے ساتویں صدر اینڈریو جیکسن کا مجسمہ گرانے کی کوشش کی تھی۔

ٹرمپ نے کہا تھا کہ 'وہ سمجھتے ہیں کہ امریکا کے لوگ نرم اور کمزور ہیں لیکن امریکا کے عوام مضبوط اور قابل فخر ہیں اور وہ ہمارے ملک، اس کے اقدار اور ثقافت کو ان سے چھیننے کی اجازت نہیں دیں گے'۔

خیال رہے کہ 25 مئی کو ایک سیاہ فام شخص کی ہلاکت کی ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں ایک پولیس اہلکار نے اس کی گردن پر اس سختی سے اپنا گھٹنا رکھا ہوا تھا کہ وہ آخر کار سانس نہ آنے کی وجہ سے دم توڑ گیا تھا۔

اس واقعے کے بعد مینیا پولس شہر میں ہنگامہ مچ گیا اور مشتعل مظاہرین گھروں سے نکل آئے، پولیس اسٹیشنز سمیت کئی عمارتوں کو آگ لگائی، کھڑکیاں توڑ دی گئیں اور اسٹورز کو لوٹ لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا:شہری کی ہلاکت کے خلاف کرفیو کے باوجود ہزاروں افراد کا احتجاج

اس کے علاوہ مظاہرین نے پولیس کی گاڑیوں کو آگ لگادی اور براہِ راست پتھراؤ بھی کیا جبکہ پولیس کی جانب سے ان پر ربڑ کی گولیاں اور آنسو گیس کے شیلز برسائے گئے۔

بعد ازاں احتجاج کا یہ سلسلہ امریکا کی کئی ریاستوں تک پھیل گیا اور بد امنی کے واقعات کے پیشِ نظر حکام نے نہ صرف نیشنل گارڈز کو متحرک کیا بلکہ کئی شہروں میں کرفیو بھی ناٖفذ کردیا گیا۔

پرتشدد مظاہروں کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے احتجاج کرنے والے شہریوں کو مقامی دہشت گرد سے تعبیر کرتے ہوئے ان پر لوٹ مار کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

جس کے بعد شہری کے قتل میں ملوث پولیس اہلکار کو گرفتار کر کے دوسرے درجے کے قتل کی فرد جرم عائد کردی گئی جبکہ ان کے 3 ساتھیوں کو بھی فرد جرم کا سامنا ہے۔