بھارت میں سخت پابندیوں کے ساتھ تاج محل کھولنے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 05 جولائ 2020

ای میل

تاج محل میں آنے والوں کے لیے ماسک لازمی قرار دیا گیا ہے— فائل فوٹو: رائٹرز
تاج محل میں آنے والوں کے لیے ماسک لازمی قرار دیا گیا ہے— فائل فوٹو: رائٹرز

بھارت میں 3 ماہ کے شٹ ڈاؤن کے بعد تاج محل دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور یہاں آنے والوں کو ہر وقت ماسک پہننا ہو گا اور انہیں اس کے ماربل کو چھونے کی اجازت نہیں ہو گی۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق 17ویں صدی میں تعمیر کی گئی محبت کی اس علامت تاج محل کو پیر سے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس میں ایک دن میں 5ہزار افراد کو دورے کی اجازت ہو گی اور انہیں دو گروپس میں تقسیم کردیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: تاج محل بھی کورونا وائرس کے خدشے پر بند

واضح رہے کہ اس محل کو مغل بادشاہ شاہجہاں نے اپنی بیوی کے لیے آگرہ میں تعمیر کرایا تھا اور اسے 22 سال کی طویل جدوجہد کے بعد تعمیر کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ حکومت نے ابھی پانچ ہزار افراد کو داخلے کی اجازت دی ہے جو روزانہ یہاں دورہ کرنے والوں کے مقابلے میں انتہائی کم تعداد ہے کیونکہ کورونا وائرس سے قبل ایک دن میں اوسطاً 80 ہزار افراد تاج محل کا دورہ کرتے تھے۔

وفاقی وزارت سیاحت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق تمام مزارات اور مقامات کو محفوظ کرنے کے لیے سیناٹائزیشن، سماجی فاصلے اور صحت کی دیگر ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہوں گی۔

حکام، تاج محل کے ساتھ ساتھ دہلی کے لال قلعے کو بھی کھول رہے ہیں حالانکہ بھارت میں کورونا وائرس کی وبا انتہائی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

اتوار کو بھارت کی وزارت صحت کے مطابق ایک دن میں سب سے زیادہ اور ریکارڈ 24ہزار 850 کیسز رپورٹ ہوئے اور 600 سے زائد اموات ہوئیں جس کے ساتھ ہی بھارت میں مجموعی کیسز کی تعداد 6 لاکھ 73 ہزار 165 ہو گئی ہے۔

تاہم بڑھتے ہوئے کیسز کے باوجود سوا ارب آبادی کے حامل بھارت میں حکومت کی جانب سے مستقل کیسز بڑھنے کا سلسلہ جاری ہے کیونکہ لاک ڈاؤن کے باعث ہزاروں افراد بے روزگار اور کئی کاروبار برباد بند ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی سطح پر کورونا وائرس کے کیسز میں ریکارڈ اضافہ ہوا، ڈبلیو ایچ او

بھارت میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے باوجود بین الاقوامی پروازوں پر پابندی بدستور برقرار ہے تاہم مقامی سطح پر سفری سہولیات کھول دی گئی ہیں اور حکومت کو امید ہے کہ مشہور مقامات پر عوام دوبارہ واپس لوٹ سکیں گے۔

بھارت میں آگرہ سب سے زیادہ متاثرہ شہروں کی فہرست میں شامل ہے اور یہ ریاست اترپردیشن کا سب سے زیادہ متاثر شہر ہے۔

ایک مقامی ضلعی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تاج محل کے اطراف کے تمام علاقوں میں وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے پابندیاں عائد اور سخت لاک ڈاؤن نافذ ہے۔

مزید پڑھیں: شام:حکومتی فورسز کی داعش سے جھڑپیں، 80 سے زائد افراد ہلاک

ایسے تمام علاقے وائرس سے شدید متاثرہ قرار دیے گئے ہیں اور اس میں لوگوں کو محض ضروری اشیا کی خریداری کے لیے نقل و حرکت کی اجازت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم تاج محل میں زیادہ افراد کی آمد کی توقع نہیں کررہے کیونکہ اطراف کے علاقے وائرس سے شدید متاثر ہیں جس کی وجہ سے دکانیں اور ہوٹل بند ہیں۔