پی ٹی آئی نے رکن پنجاب اسمبلی عظمیٰ کاردار کی پارٹی رکنیت ختم کردی

اپ ڈیٹ 06 جولائ 2020

ای میل

عظمیٰ کاردار کو ترجمان پنجاب حکومت کے عہدے سے بھی ہٹادیا گیا تھا—فوٹو:عظمیٰ کاردار ٹوئٹر
عظمیٰ کاردار کو ترجمان پنجاب حکومت کے عہدے سے بھی ہٹادیا گیا تھا—فوٹو:عظمیٰ کاردار ٹوئٹر

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پارٹی نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر کارروائی کرتے ہوئے رکن پنجاب اسمبلی عظمیٰ کاردار کی پارٹی کی بنیادی رکنیت ختم کردی۔

پی ٹی آئی کے مرکزی میڈیا ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق پی ٹی آئی کی قائمہ کمیٹی برائے نظم و احتساب نے عظمیٰ کاردار کی بنیادی پارٹی رکنیت ختم کرنے کا حکم دیا۔

کمیٹی کے تحریری حکم نامے کے مطابق رکن وصوبائی اسمبلی عظمیٰ کاردار کو 15 جون کو اظہار وجوہ کا نوٹس بھیجا گیا تھا اور پارٹی کی بنیادی رکنیت ایک ماہ کے لیے معطل کرتے ہوئے قائمہ کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کے روبرو پیش ہونے کی ہدایت کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:رہنماؤں کے اختلافات نے پی ٹی آئی کے سیاسی لوگوں کو باہر کردیا، فواد چوہدری

حکم نامے میں کہا گیا کہ عظمیٰ کاردار کے شوہر کی علالت کے باعث 17 جون کی سماعت مؤخر کرکے 27 جون کو کی گئی۔

کمیٹی نے کہا ہے کہ تمام ثبوت و شواہد کے معائنے اور عظمیٰ کاردار کے مؤقف کو سننے کے بعد قائمہ کمیٹی برائے نظم و احتساب اس بات پر قائل ہیں کہ پارٹی رہنما نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔

ذیلی کمیٹی نے حکم نامے میں کہا کہ بطور پنجاب اسمبلی کی مخصوص نشست پر رکن کے طور پر عظمیٰ کاردار کا رویہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور آپ کا عمل پارٹی کی رکن کی حیثیت سے مناسب نہیں۔

حکم نامے میں کہا گیا کہ عظمیٰ کاردار کی پارٹی کی بنیادی رکنیت کو ختم کردی جاتی ہے۔

اس میں مزید کہا گیا کہ فیصلے کے نتیجے میں عظمیٰ کاردار پارلیمانی سطح پر کسی عہدے یا منصب کے لیے بھی اہل نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:فواد چوہدری کے بیان پر وزیراعظم ناخوش، کابینہ اجلاس میں وزرا الجھ پڑے

عظمیٰ کاردار سے کہا گیا کہ اگر وہ اپنا حق استعمال کرنا چاہتی ہیں تو قائمہ کمیٹی کے فیصلے کے خلاف کو 7 روز میں تحریک انصاف کی ایپلٹ کمیٹی کے پاس اس فیصلے کو چیلنج کرسکتی ہیں۔

یاد رہے کہ پی ٹی آئی کی رکن پنجاب اسمبلی عظمیٰ کاردار کی پارٹی قیادت کے خلاف مبینہ آڈیو سامنے آنے پر 15 جون کو عارضی طور پر ایک ماہ کے لیے ان کی پارٹی رکنیت معطل کردی گئی تھی اور انہیں کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی تھی۔

عظمیٰ کاردار سے ترجمان پنجاب حکومت کا عہدہ بھی واپس لے لیا گیا تھا۔

سوشل میڈیا پر آڈیو کلپ وائرل ہونے کے بعد صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے کہا تھا کہ عظمیٰ کاردار بطور ممبر میڈیا اسٹریٹجی کمیٹی ترجمان حکومتِ پنجاب تھیں۔

فیاض الحسن چوہان نے واضح کردیا تھا کہ عظمیٰ کاردار کی برطرفی کا باقاعدہ نوٹی فکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ عظمیٰ کاردار کو کسی سے فون پر عمران خان کی حکومت میں اسٹیبلشمنٹ کے بڑھتے کردار سے متعلق بات کرتے سنا گیا تھا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے اہم معاملات کے فیصلوں جیسا کہ سینئر عہدیداران کی تعیناتیوں میں خاتون اول کے بااثر ہونے پر بھی تبصرہ کیا تھا۔

آڈیو کلپ میں عظمیٰ کاردار کو یہ کہتے سنا جاسکتا ہے اسٹیبلشمنٹ نے حکومتی امور میں اپنا کردار بڑھادیا ہے اور پورے میڈیا کو (اس سے متعلق معاملات) تبدیل کرنے میں کامیاب ہوئی۔

ریکارڈنگ میں کہا گیا کہ ' اسٹیبلشمنٹ، حکومت اور وزیراعظم عمران خان ایک ساتھ چل رہے ہیں'۔

حکومتی ایم پی اے کی مبینہ آواز میں آڈیو کلپ میں یہ کہتے ہوئے پایا گیا کہ پاکستان میں کوئی حکومت، اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کے بغیر نہیں چل سکتی۔

انہوں نے اس حوالے سے بھی بات کی کہ کس طرح وزیراعظم کے بہت قریبی شخص نے پرانے دوستوں کی حمایت کی تھی اور دیگر کو وزیراعظم تک رسائی سے روکا۔

عظمیٰ کاردار نے مختلف نیوز چینلز کے شوز میں شرکت کی اجازت نہ ملنے پر پنجاب کے محکمہ اطلاعات کو بھی برا بھلا کہہ رہی تھیں۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ میڈیا کو آرڈینیٹرز یقینی بنارہے ہیں کہ وہ ٹاک شوز میں شرکت نہ کریں کیونکہ وہ دوسرے ترجمانوں کی سفارش کررہے تھے۔

بعدازاں عظمیٰ کاردار نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام جاری کیا تھا اور آڈیو کو ان کی اصل بات چیت میں جوڑ توڑ قرار دیا تھا جو عظمیٰ کاردار کے مطابق ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے کیا گیا تھا۔

انہوں نے مواد کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا اعلان کیا تھا جو ایک نامعلوم اکاؤنٹ کے ذریعے سوشل میڈیا پر وائرل کیا گیا تھا۔

ڈان نے عظمیٰ کاردار سے بات کرنے کی کوشش کی تھی لیکن ان کا موبائل فون آف تھا اور ابہوں نے تادم تحریر فون پر بھیجے گئے میسیج کا جواب نہیں دیا تھا۔