چمن: ٹینک کی صفائی کے دوران زہریلی گیس کے باعث 7 مزدور ہلاک

ای میل

مزدوروں کی لاشوں کو سول ہسپتال چمن منتقل کیا گیا — فائل فوٹو: اے ایف پی
مزدوروں کی لاشوں کو سول ہسپتال چمن منتقل کیا گیا — فائل فوٹو: اے ایف پی

صوبہ بلوچستان کے علاقے چمن میں پانی کے ٹینک کی صفائی کرتے ہوئے زہریلی گیس کے باعث 7 مزدور ہلاک ہوگئے۔

پولیس افسر محمد محسن نے ڈان نیوز کو بتایا کہ مزدور ٹینک کی صفائی میں مصروف تھے کہ اس دوران زہریلی گیس کے باعث ان کی حالت غیر ہوگئی۔

مزید پڑھیں: بلوچستان: کوئلے کی کان میں دھماکے سے 7 مزدور جاں بحق، 3 زخمی

ان کا کہنا تھا کہ پانی کے ٹینک کے اندر موجود مزدوروں کو بچانے کے لیے دیگر مزدور بھی اس میں کود گئے اور زہریلی گیس کی وجہ سے ان کی حالت بھی غیر ہوگئی اور ان سب کی موت ہوگئی۔

واقعے کے بعد مزدوروں کی لاشوں کو سول ہسپتال چمن منتقل کیا گیا جہاں واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد لوگوں کی بڑی تعداد پہنچی تھی۔

مقامی افراد نے ڈان نیوز کو بتایا کہ پانی کا ٹینک چمن میں ٹرنچ روڈ پر موجود ایک معروف دکان کے نیچے قائم ہے۔

ہسپتال میں پوسٹ مارٹم کے بعد مزدوروں کی لاشوں کو ان کے اہل خانہ کے سپرد کردیا گیا۔

یاد رہے کہ پاکستان میں مختلف شعبوں میں کام کرنے والے مزدوروں کے لیے حفاظتی انتظامات نا ہونے کے برابر ہیں اس لیے ملک میں مزدوروں کی ایک بڑی تعداد اس قسم کے حادثات میں جانی نقصان اٹھاتی ہے یا پھر اپاہج ہوجاتی ہے اور اس صورت میں ان کے اہل خانہ بھی متاثر ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا: بونیر میں لینڈ سلائیڈنگ، 9 مزدور جاں بحق

خیال رہے کہ اس سے قبل 20 مارچ کو بلوچستان کے علاقے ڈیگاری مچھ میں کوئلے کی کان میں دھماکے سے 7 کان کن جاں بحق ہوگئے تھے۔

رواں سال فروری میں خیبرپختونخوا کے ضلع بونیر کے علاقے بامپوخہ میں چیلی کار مائننگ درنگ میں لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آکر کان میں کام کرنے والے 9 مزدور جاں بحق جبکہ مزید 30 مزدور ملبے تلبے دب گئے تھے۔