مصر، فرانس، جرمنی، اردن کا اسرائیل سے انضمام کا منصوبہ ترک کرنے کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 08 جولائ 2020

ای میل

امریکا کی جانب سے تاحال الحاق کے اسرائیلی منصوبے کو منظوری دینا باقی ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی
امریکا کی جانب سے تاحال الحاق کے اسرائیلی منصوبے کو منظوری دینا باقی ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی

مصر، فرانس، جرمنی اور اردن نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ فلسطینی علاقوں کے حصے کو منسلک کرنے سے دو طرفہ تعلقات پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق جرمن وزارت خارجہ کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق مذکورہ ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے مابین مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔

مصر، فرانس، جرمنی اور اردن کے علاوہ دیگر یورپی ممالک بھی اسرائیل کے اس منصوبے کی مخالفت کر رہے ہیں جس کے تحت وہ فلسطین کے بعض مغربی علاقوں کو اپنے اندر ضم کرنا چاہتا ہے۔

مزید پڑھیں: غزہ میں اسرائیل کا گھر پر فضائی حملہ، فلسطینی کمانڈر ہلاک

واضح رہے کہ فلسطینی اتھارٹی جو مستقبل میں فلسطینی ریاست کے لیے مغربی کنارے کی خواہاں ہے، نے بھی اسرائیل کے منصوبے کی مخالفت کی ہے۔

خیال رہے کہ امریکا کی جانب سے تاحال الحاق کے اسرائیلی منصوبے کو منظوری دینا باقی ہے۔

یورپی اور مشرق وسطیٰ کے وزرائے خارجہ نے اپنی ویڈیو کانفرنس کے بعد کہا کہ ہم متفق ہیں کہ 1967 میں فلسطینی علاقوں پر کسی بھی طرح کا قبضہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور امن عمل کی بنیادوں کو ختم کردے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم 1967 کی سرحدوں میں ہونے والی کسی تبدیلی کو تسلیم نہیں کریں گے جس میں تنازع میں دونوں فریقوں کے اتفاق رائے نہیں ہیں اور اسرائیل کے ساتھ دوطرفہ تعلقات پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیل نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

تاہم ایک الگ بیان میں وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ روز برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن سے کہا تھا کہ وہ خطے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ’حقیقت پسندانہ‘ منصوبے پر کاربند ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: غزہ پر اسرائیلی فضائی حملے جاری، جاں بحق افراد کی تعداد 22 ہوگئی

اسرائیلی وزیراعظم کے بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل، امریکی صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کی بنیاد پر مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہے، جو تخلیقی اور حقیقت پسندانہ ہے اور ماضی کے ناکام فارمولوں کی طرف واپس نہیں آئے گا۔

اقوام متحدہ اور عرب لیگ (اے ایل) نے بھی اسرائیل سے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقوں کو ضم کرنے کا منصوبہ ترک کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ ’میں اسرائیلی حکومت سے اپنے انضمام کے منصوبے کو ترک کرنے کا مطالبہ کرتا ہوں‘۔

اس سے قبل 25 ممالک کے ایک ہزار سے زائد یورپی قانون سازوں نے بھی اپنے حکمرانوں کو اس معاملے میں مداخلت کرنے اور اسرائیلی منصوبہ روکنے کا کہا تھا۔

واضح رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کہہ چکے ہیں کہ اسرائیل کی آزاد فلسطین کے علاقوں تک توسیع اور اس کے اسرائیلی ریاست میں انضمام کے منصوبے پر یکم جولائی سے کابینہ میں بحث شروع ہوگی۔

مزید پڑھیں: اسرائیلی فوج سے 'جھڑپوں' میں 3 فلسطینی جاں بحق

خیال رہے کہ یورپی یونین اسرائیل کو اپنے منصوبے سے پیچھے ہٹنے پر راضی کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اگر اسرائیلی وزیراعظم آگے بڑھے تو اس کے جواب میں انتقامی اقدامات پر زور دے رہے ہیں۔

تاہم اسرائیل پر پابندیوں کے لیے تمام 27 رکن ممالک کے معاہدے کی ضرورت ہوگی۔

اس سے قبل فلسطین کے وزیر اعظم محمد اشتیہ نے کہا تھا کہ اگر اسرائیل نے مقبوضہ علاقوں کو ضم کیا تو فلسطین مقبوضہ بیت المقدس کو اپنا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے تمام مغربی کنارے اور غزہ پر ریاست کا اعلان کردے گا۔

خیال رہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن مذاکرات 2014 میں ختم ہوگئے تھے جبکہ فلسطین نے ٹرمپ کی جانب سے امن منصوبے کو پیش کیے جانے سے قبل ہی مسترد کردیا تھا۔

فلسطین اور عالمی برادری اسرائیلی آبادیوں کو جنیوا کنونشن 1949 کے تحت غیر قانونی قرار دیتی ہے جو جنگ کے دوران قبضے میں لی گئی زمین سے متعلق ہے جبکہ اسرائیل بیت المقدس کو اپنا مرکز قرار دیتا ہے۔