قانون پر عملدرآمد تک مندر کی تعمیر نہیں ہوسکتی، اسلام آباد ہائیکورٹ

اپ ڈیٹ 08 جولائ 2020

ای میل

اگر درخواست گزار کی شکایت دور نہیں ہوتی تو وہ مستقبل میں عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں، عدالت عدالیہ — فائل فوٹو / اے ایف پی
اگر درخواست گزار کی شکایت دور نہیں ہوتی تو وہ مستقبل میں عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں، عدالت عدالیہ — فائل فوٹو / اے ایف پی

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں مندر کی تعمیر کے خلاف دائر درخواستیں نمٹاتے ہوئے کہا ہے کہ قانون پر عملدرآمد تک مندر کی تعمیر رُکی رہے گی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے مندر کی تعمیر کے خلاف درخواستوں پر دلائل مکمل ہونے کے بعد محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ مندر کا نقشہ جمع کرانے کے حوالے سے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی گئی، لہٰذا قانون پر عملدرآمد تک مندر کی تعمیر رُکی رہے گی۔

عدالت نے کہا کہ چونکہ مندر کی تعمیر کی فنڈنگ کا معاملہ اسلامی نظریاتی کونسل (سی آئی آئی) کو بھی بھیج دیا گیا ہے اور اب تک کوئی فنڈ جاری نہیں کیا گیا، اس لیے عوام کا پیسہ ضائع ہونے کا کوئی معاملہ نہیں اٹھتا۔

عدالت نے مندر کی تعمیر کے خلاف کوئی حکم جاری نہیں کیا اور درخواست گزار کو متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے تینوں مماثل درخواستیں نمٹا دیں۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

عدالت کا کہنا تھا کہ اگر درخواست گزار کی شکایت دور نہیں ہوتی تو وہ مستقبل میں عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز عدالت عالیہ نے مندر کی تعمیر کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

مندر کی تعمیر کا معاملہ

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے وفاقی دارالحکومت میں پہلے مندر کی تعمیر کے لیے 10 کروڑ روپے کی گرانٹ کی منظوری دی تھی، یہ منظوری وزیر برائے مذہبی امور پیر نور الحق قادری کی وزیراعظم سے ملاقات میں گرانٹ کے لیے کی گئی درخواست کے بعد سامنے آئی تھی۔

اس سے قبل 23 جون کو ایچ 9 ایریا میں دارالحکومت کے پہلے مندر کی تعمیر شروع کرنے کے لیے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب منعقد ہوئی تھی۔

پارلیمانی سیکریٹری برائے انسانی حقوق لال چند ملہی کی جانب سے مندر کا سنگ بنیاد رکھا گیا تھا۔

خیال رہے کہ اسلام آباد ہندو پنچایت نے مذکورہ مندر کا نام شری کرشنا مندر رکھا ہے۔

یہ بات مدنظر رہے کہ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے حکم پر 2017 میں سی ڈی اے کی جانب سے اسلام آباد کے ایچ 9/2 میں 20 ہزار اسکوائر فٹ کا پلاٹ ہندو پنچایت کو دیا گیا تھا۔

تاہم سائٹ میپ، سی ڈی اے اور دیگر متعلقہ اتھارٹیز سے دستاویزات کی منظوری سمیت دیگر رسمی کارروائیوں کے پورے ہونے میں تاخیر کی وجہ سے تعمیرات کام شروع نہیں ہوسکا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سی ڈی اے نے اسلام آباد میں مندر کے مقام پر چار دیواری کی تعمیر روک دی

خیال رہے کہ سیاسی جماعت مسلم لیگ (ق) سمیت مذہبی جماعتوں جمعیت علمائے اسلام (ف)، مرکزی جمعیت اہل حدیث اور اسلام آباد میں لال مسجد اور دیگر مدارس سے وابستہ مذہبی رہنماؤں سمیت چند عام شہریوں کی جانب سے اس مندر کی تعمیر کی مخالفت کی جارہی ہے۔

اس حوالے سے گزشتہ ماہ کے آخر میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک شہری چوہدری تنویر نے درخواست بھی دائر کی تھی جس پر عدالت نے سی ڈی اے سے جواب طلب کرلیا۔

درخواست گزار وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اسلام آباد کے سیکٹر ایچ 9 میں مندر کی تعمیر کے لیے دی گئی زمین واپس لی جائے، مزید یہ کہ مندر کی تعمیر کے لیے تعمیراتی فنڈز بھی واپس لیے جائیں۔

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ سید پور گاؤں میں پہلے سے مندر موجود ہے، حکومت اس کی تزئین و آرائش کرسکتی تھی۔

اسلام آباد کے سیکٹر ایچ 9 میں مندر کو دی گئی زمین دارالحکومت کے ماسٹر پلان کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ اسلام آباد کے ماسٹر پلان پر عمل درآمد کرایا جائے جبکہ مندر کی تعمیر پر حکم امتناع جاری کیا جائے، جس پر عدالت نے مندر کی تعمیر کو فوری روکنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے حکم امتناع کی درخواست پر نوٹس جاری کردیے۔