غزہ میں اسرائیل کا گھر پر فضائی حملہ، فلسطینی کمانڈر ہلاک

اپ ڈیٹ نومبر 12 2019

ای میل

اسرائیلی حملے میں عمارت کا ایک حصہ تباہ ہوگیا — فوٹو: اے ایف پی
اسرائیلی حملے میں عمارت کا ایک حصہ تباہ ہوگیا — فوٹو: اے ایف پی

غزہ اور شام میں اسرائیلی فضائیہ کے علیحدہ حملوں میں سینئر فلسطینی کمانڈر اور ان کی اہلیہ ہلاک ہوگئیں۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق مشرقی غزہ میں اسرائیلی فضائیہ کے حملے میں بھاء ابو العطا اور ان کی اہلیہ ہلاک ہوئیں۔

اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ بھاء ابو العطا اسرائیل پر ہونے والے حالیہ حملوں کا ماسٹر مائنڈ تھا۔

دریں اثنا شامی حکام کا کہنا تھا کہ دمشق میں اسرائیل نے جنگجوؤں کے ایک اور کمانڈر اکرم الجوری پر فضائی حملہ کیا تاہم وہ حملے میں محفوظ رہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل نے معروف فلسطینی قانون ساز کو دوبارہ گرفتار کرلیا

شام کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل کے لڑاکا طیاروں نے اکرم الجوری کے گھر پر 3 میزائل داغے جس کی وجہ سے ان کا بیٹا اور پوتی بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔

اسرائیلی فوج نے اس حملے کے بارے میں بات کرنے سے انکار کردیا۔

واضح رہے کہ اسرائیل کا ایران اور اس کی پروکسیز سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر خطے میں تشدد میں اضافہ سامنے آیا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نتن یاہو نے متعدد مرتبہ ایران کو جارحیت کرنے پر خبردار کیا جبکہ ان کی سیکیورٹی کابینہ مزید اقدامات کے حوالے سے ہنگامی سیکیورٹی اجلاس بھی کر رہی ہے۔

غزہ میں ہونے والا حملہ رات کی تاریکی میں کیا گیا تھا جب بھاء ابو العطا اپنے گھر پر سو رہے تھے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل جوناتھن کونریکس نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بھاء ابو العطا ایک 'ٹائم بم' تھا جو جنوبی اسرائیل پر متعدد راکٹ حملوں میں ملوث تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہلاک کیے جانے والے کمانڈر نئے حملوں کی تیاریوں میں مصروف تھے۔

یہ بھی پڑھیں: نیتن یاہو کا وادی اردن کو اسرائیل میں شامل کرنے کا اعلان

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم گزشتہ ایک ہفتے سے سرجیکل اسٹرائکس کے لیے موقع کی تلاش کر رہے تھے، حملے میں عمارت کے صرف ایک حصے کو تباہ کیا گیا تاکہ نقصان کو کم کیا جاسکے۔

بھاء ابو العطا کے رشتہ داروں کا کہنا تھا کہ حملے میں ان کی اہلیہ بھی ہلاک ہوئیں اور 2 بچے زخمی ہوئے۔

ایران کی حمایت یافتہ فلسطینی تنظیم کی جانب سے ہلاکت کی تصدیق کے فوری بعد ہی اسرائیل کی جانب کئی راکٹ فائر کیے گئے۔

غزہ سے فائر کیا گیا راکٹ اسرائیلی ہائی وے پر گرا — فوٹو: رائٹرز
غزہ سے فائر کیا گیا راکٹ اسرائیلی ہائی وے پر گرا — فوٹو: رائٹرز

اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ چند گھنٹوں میں 50 سے زائد راکٹ فائر کیے گئے جن میں سے 20 کو ڈیفنس سسٹم کے ذریعے غیر موثر کردیا گیا تھا۔

راکٹ حملوں میں اسرائیل کا کوئی جانی نقصان سامنے نہیں آیا۔

رد عمل میں اسرائیل نے غزہ میں جانے والا کراسنگ پوائنٹ بند کردیے اور مچھلی کے شکار کی اجازت کو محدود کردیا جبکہ غزہ سرحد سے تل ابیب تک 90 کلومیٹر تک اسکول بند رہے اور عوام کو گھروں میں رہنے کا کہا گیا، شیلٹرز کھول دیے گئے اور عوامی اجتماع پر پابندی عائد کردی گئی۔

دوسری جانب دمشق میں فوجی حکام کا کہنا تھا کہ اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے شامی دارالحکومت میں 3 میزائل داغے، جن میں سے ایک کو شامی فضائی ڈیفنس سسٹم نے ہدف تک پہنچنے سے پہلے تباہ کردیا جبکہ دو اکرم الجوری کے گھر سے ٹکرائے۔

مزید پڑھیں: اسرائیل کا خلیجی ممالک کے ساتھ عدم جارحیت کے معاہدے کا عندیہ

شام کے سرکاری میڈیا نے نامعلوم ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ واقعے میں اکرم الجوری کے بیٹے معاذ اور پوتی بتول ہلاک ہوئے۔

اس کے علاوہ ایک اور شخص عبداللہ یوسف حسان بھی واقعے میں ہلاک ہوئے جبکہ 9 شہری زخمی ہوئے۔

موقع پر موجود صحافی کا کہنا تھا کہ حملے میں لبنانی سفارتخانے سے 50 میٹر کے فاصلے پر قائم 3 منزلہ عمارت پوری طرح تباہ ہوگئی۔