زرداری سے متعلق بیان: پیپلز پارٹی کی شازیہ سومرو نے مراد سعید کو ہیڈ فون دے مارا

اپ ڈیٹ 09 جولائ 2020

ای میل

قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کی شازیہ سومرو نے مراد سعید کو ہیڈ فون دے مارا — فائل فوٹو: ڈان نیوز
قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کی شازیہ سومرو نے مراد سعید کو ہیڈ فون دے مارا — فائل فوٹو: ڈان نیوز

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی شازیہ سومرو نے تحریک انصاف کے مراد سعید کو ہیڈ فون پھینک کر مارا تاہم خوشی قسمتی سے وہ محفوظ رہے۔

جمعرات کو ایوان زیریں کے اجلاس کے دوران مراد سعید نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کئی دنوں سے یہ بحث چل رہی ہے کہ سندھ حکومت کی جے آئی ٹی درست ہے یا علی زیدی کی لیکن اس کے مواد پر غور نہیں ہو رہا جہاں اس میں قتل، بھتہ اور ڈاکے سمیت دیگر باتیں اٹھائی گئیں۔

مزید پڑھیں: عذیر بلوچ کا جاسوسی، 198 افراد کے قتل کا اعتراف، جے آئی ٹی رپورٹ جاری

انہوں نے ایوان میں عذیر بلوچ کے 164 کے بیان حلفی کو پڑھتے ہوئے کہا کہ ملزم نے کہا کہ 2008 میں جب میں جیل میں تھا تو پیپلز پارٹی نے قیدی کارکنوں کا انچارج بنایا، 2008 میں رحمٰن ڈکیٹ کی پولیس مقابلے میں ہلاکت کے بعد لیاری گینگ وار کی مکمل کمان سنبھالی اور پیپلز امن کمیٹی کے نام سے مسلح دہشت گرد گروپ بنایا۔

انہوں نے بیان حلفی کے حوالے سے مزید کہا کہ 2008 سے 2013 تک مختلف ذرائع سے اسلحہ خریدا، پولیس مقابلے، اغوا برائے تاوان، قتل غارت گری، تھانوں پر حملے اور ہڑتالوں کو کامیاب بنانے کے لیے طاقت کا مظاہرہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ عذیر نے مزید کہا کہ لیاری کے علاقے میں اپنی مرضی کے پولیس افسران لگائے، جوئے کے اڈوں کی سرپرستی کی، بھتہ وصولی کے لیے مسلح گروپ بنائے اور بھتہ آصف زرداری کی بہن اور عذیر بلوچ کو جا رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: عذیر بلوچ کی جے آئی ٹی سے متعلق علی زیدی کا تہلکہ خیز انکشاف

مراد سعید نے کہا کہ عذیر بلوچ کے مطابق مجھے قتل کرنا تھا، قتل کے لیے تین پولیس موبائلیں میں نے جمع کیں، انسپکٹر یوسف بلوچ، ایس ایچ او جاوید بلوچ اور انسپکٹر چاند خان کو استعمال کیا، بندے اغوا کیے، سر تن سے جدا کیا، اس سے فٹبال کھیلی، اس کی ویڈیو بنائی، لاشوں کو آگ لگائی اور سرپرستی آپ کی تھی۔

رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ عذیر نے مزید بتایا کہ میں نے سینیٹر یوسف بلوچ کے کہنے پر 500 سے زائد نوکریاں جرائم پیشہ افراد میں تقسیم کیں، میں نے اویس مظفر ٹپی کو آصف زرداری کے لیے 14 شوگر پر قبضے میں مدد کے لیے استعمال کیا، میں نے اپنے گروپ کے 15-20 لڑکے آصف زرداری کے کہنے پر بلاول ہاؤس میں بھیجے جنہوں نے بلاول ہاؤس کے گردونواح میں لوگوں کو ہراساں کیا اور 30-40 گھر خالی کرائے۔

اس دوران پیپلز پارٹی کے اراکین ایوان سے احتجاجاً واک آؤٹ کر گئے اور پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی شاہد رحمانی نے ایوان میں کورم نامکمل ہونے کی نشاندہی کرائی۔

مزید پڑھیں: سندھ حکومت نے عذیر بلوچ سمیت تمام جے آئی ٹیز کو پبلک کرنے کا اعلان کردیا

پیپلز پارٹی کے اکثر اراکین کے واک آؤٹ کے بعد پیپلز پارٹی کی شازیہ سومرو نے مراد سعید کو ہیڈ فون اٹھا کر مار دیا۔

پیپلز پارٹی اراکین کے واک آؤٹ کے بعد کورم کی گنتی کا عمل جاری تھا کہ شازیہ سومرو اپنی بینچز سے اٹھ کر مسلم لیگ (ن) کے اراکین کے لیے مختص بینچز پر آئیں اور انہوں نے ہیڈ فون اٹھا کر مراد سعید کو پھینک کر مارا البتہ خوش قسمتی سے انہیں ہیڈ فون نہیں لگا۔

اس کے بعد کورم مکمل ہونے تک اجلاس کو ملتوی کردیا گیا۔