کے-الیکٹرک کو اضافی گیس کی فراہمی، سی این جی اسٹیشنز 48 گھنٹوں کیلئے بند

اپ ڈیٹ 10 جولائ 2020

ای میل

شہر میں  بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی صورتحال حالیہ بارشوں کے باعث بدترین ہوگئی تھی—فائل فوٹو: اے ایف پی
شہر میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی صورتحال حالیہ بارشوں کے باعث بدترین ہوگئی تھی—فائل فوٹو: اے ایف پی

کے الیکٹرک کو اضافی گیس کی فراہمی کے بعد سندھ بھر میں سی این جی اسٹیشن آج (10 جولائی) صبح 8 بجے سے 48 گھنٹوں کے لیے بند کردیے گئے جبکہ حکومت نے صنعتوں کو جمعہ، ہفتہ، اتوار گیس نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) حکام کا کہنا تھا کہ شہر میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے کے-الیکٹرک کو اضافی گیس کی فراہمی کے لیے سی این جی بند کیے گئے ہیں۔

ایس ایس جی سی حکام کا کہنا تھا کہ کے-الیکٹرک کو 50 ملین ایم ایم سی ایف ڈی اضافی گیس فراہم کی جارہی ہے اور مجموعی طور پر سوئی سدرن کے الیکٹرک کو 290 ملین کیوبک فیٹ روزانہ (ایم ایم سی ایف ڈی) گیس فراہم کررہا ہے۔

حکام کا کہنا تھا کہ سندھ بھر میں سی این جی اسٹیشنز اتوار کی صبح 8 بجے کھول دیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: بجلی بحران: کے-الیکٹرک سسٹم اپ گریڈنگ میں ناکامی پر مسائل کا شکار ہے، وزارت توانائی

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں کے الیکٹرک کی جانب سے بجلی کی طویل بندش کا ذمہ دار بجلی کی طلب میں اضافے، فرنس آئل کی کمی اور ایس ایس جی سی کی جانب سے گیس کی فراہمی میں کمی کو قرار دیا گیا تھا۔

جس کے جواب میں سوئی سدرن نے یہ کہا تھا کہ ایس ایس جی سی اور کے الیکٹرک کے درمیان کئی دہائیوں قبل صرف 10 ملین کیوبک فیٹ یومیہ گیس فراہم کرنے کا معاہدہ ہوا تھا۔

واضح رہے کہ شہر میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی صورتحال حالیہ بارشوں کے باعث بدترین ہوگئی تھی اور کئی علاقے 8-10 گھنٹوں تک بھی بجلی سے محروم رہے۔

دوسری جانب سے صنعتکاروں نے کراچی کی صنعتوں کو گیس کی 3 دن عدم فراہمی پر احتجاج کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے کراچی کی صنعتوں کو تباہی سے بچانے کی اپیل کی ہے۔

مزید پڑھیں: نیپرا کا غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ، زائد بلنگ پر 'کے الیکٹرک' کو نوٹس

صدر سائٹ ایسوسی ایشن سلیمان چاؤلہ نے کہا کہ حکومت نے تمام صنعتوں کو جمعہ، ہفتہ، اتوار گیس نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے، صنعتوں میں گیس کی بندش سے پیداواری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوں گی، صنعتوں کی گیس کے الیکٹرک کو دینا سراسر ناانصافی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ رات میں بجلی بند اور دن میں گیس بند، صنعتیں کیسے چلائیں ساتھ ہی انہوں نے اپیل کی کہ حکومت صنعتوں کو جمعہ، ہفتہ، اتوار کو گیس نہ دینے کے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔

خیال رہے کہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب سے کراچی میں لوڈشیڈنگ کے معاملے پر کی گئی عوامی سماعت میں کے الیکٹرک نے بجلی کی ترسیل میں خامیوں کی ذمہ داری وفاق پر عائد کی تھی۔

سی ای او کے-الیکٹرک نے بتایا تھا کہ ہم 3 ہزار 300 میگاواٹ کی طلب کے مقابلے میں ڈھائی ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کے-الیکٹرک نے بجلی کی ترسیل میں خامیوں کی ذمہ داری وفاق پر ڈال دی

ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں تقریباً 3 سے ساڑھے 7 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے، ہم نے یہ کبھی نہیں کہا کہ کراچی لوڈشیڈنگ فری ایریا ہے۔

اسی سماعت میں انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ کے-الیکٹرک کو 280 ایم ایم سی ایف ڈی گیس نہیں بلکہ صرف 250 ایم ایم سی ایف ڈی گیس دی جارہی ہے۔

دوسری جانب وزارت توانائی نے کے-الیکٹرک (کے ای) کی جانب سے کراچی میں بجلی کی طویل بندش کو مارکیٹ میں فرنس آئل کی کمی کا ذمہ دار قرار دینے کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بجلی کی فراہمی کے نظام میں موجود خامیاں اس مسئلے کو حل کرنے میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔

وزارت توانائی کے ترجمان نے بیان میں کہا کہ بدقسمتی کی بات ہے کہ کے الیکٹرک نے اپنے سسٹم کو اپ گریڈ کرنے میں سرمایہ کاری نہیں کی جس کی وجہ سے طلب عروج پر پہنچنے کے وقت اسے مشکلات کا سامنا ہے۔

علاوہ ازیں گزشتہ روز وزیر توانائی عمر ایوب نے کہا تھا کہ کراچی کو 30 ایم ایم سی ایف ڈی گیس دوسری جگہوں سے دی جائے گی جس سے مزید 200 میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی۔

انہوں نے کہا تھا کہ اس کے علاوہ کراچی کو علیحدہ 100 ایم ایم سی ایف ڈی دے رہے ہیں بلکہ 180تک چلے گئے ہیں اور 100 میگاواٹ بھی نیشنل گرڈ سے دے رہے ہیں۔