ڈونلڈ ٹرمپ نے دیرینہ دوست، مشیر کی قید کی سزا معاف کردی

11 جولائ 2020

ای میل

روجر اسٹون نے فلوریڈا میں جشن منایا—فوٹو:رائٹرز
روجر اسٹون نے فلوریڈا میں جشن منایا—فوٹو:رائٹرز

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے دیرینہ دوست اور مشیر راجر اسٹون کو حلف لینے کے بعد جھوٹ بولنے پر ملنے والی سزا معاف کردی۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق راجر اسٹون کو 2016 کے امریکی صدارتی انتخاب میں روسی مداخلت سے متعلق تحقیقات میں حلف اٹھا کر جھوٹ بولنے پر سزا سنائی گئی تھی جس کو ٹرمپ نے ناانصافی سے تعبیر کیا تھا۔

وائٹ ہاؤس سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ 'روجر اسٹون پہلے ہی بدترین تکالیف کا سامنا کر چکے ہیں اور ان کے ساتھ ایک کیس میں دیگر کئی افراد کی طرح ناانصافی کی گئی'۔

مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی روجر اسٹون گرفتار

بیان میں کہا گیا کہ 'روجر اسٹون اب آزاد شہری ہیں'۔

ٹرمپ کی جانب سے سزا معاف کرنے کا فیصلہ دارالحکومت واشنگٹن کی اپیل کورٹ کی جانب سے روجر اسٹون کی سزا سے متعلق درخواست کو مسترد کرنے کے چند لمحوں بعد سامنے آیا ہے۔

ڈیموکریٹس کی جانب سے ٹرمپ کے اس فیصلے پر سخت تنقید کی گئی اور اس قدم کو قانون کی بالادستی پر حملہ قرار دیا گیا ہے۔

روجر اسٹون نے اپنے ردعمل میں کہا کہ 'صدر نے مجھے کہا تھا کہ انہوں نے میری سزا کو مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور زور دیا کہ پوری شد ومد کے ساتھ اپیل کروں اور بری ہوجاؤں'۔

روجر اسٹون فلوریڈا میں فورٹ لاؤڈرڈیل میں اپنے دوستوں کے ساتھ سزا معاف ہونے پر خوشی منا رہے تھے۔

رپورٹ کے مطابق سزا معافی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ روجر کا جرم ختم ہوا بلکہ انہیں جیل سے خلاصی ملے گی۔

وائٹ ہاؤس کے پریس سیکریٹری کیلف مک اینامی کا کہنا تھا کہ روجر اسٹون 'روسی واویلا کا نشانہ بنے جو بائیں بازو اور اس کے اتحادیوں نے میڈیا میں مچا رکھا ہے'۔

یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی مہم کے مشیر کو 14 روز قید کی سزا

انہوں نے کہا کہ 'روجر اسٹون کو ایک ایسے کیس میں سزا سنائی گئی جس کی کوئی بنیاد ہی نہیں تھی اور بغیر منظوری کے گرفتار کیا گیا تھا'۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ 'کیس میں منصفوں کے بارے میں سنجیدہ سوالات کھڑے ہوگئے ہیں'۔

امریکا میں انصاف کی دو قسمیں ہیں، ڈیموکریٹس

ڈیموکریٹس نے فوری ردعمل دیتے ہوئے ٹرمپ کے فیصلے کو مسترد کردیا۔

ایوان نمائندگان کی انٹیلی جنس کمیٹی کے چیئرمین ایڈم شیف نےکہا کہ 'اس معافی سے ٹرمپ نے واضح کردیا ہے کہ امریکا میں دو طرح کا انصاف ہے، ایک جرائم پیشہ دوستوں کے لیے اور دوسرا سب کے لیے'۔

سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے رکن اور ڈیموکریٹس کے مرکزی رہنما مارک وارنر نے کہا کہ 'امریکا کی بنیاد قانون کی بالادستی پر رکھی گئی تھی، لگتا ہے کہ ہمارے صدر کو اس سے کوئی غرض نہیں لیکن یہ توہین ہے'۔

یاد رہے کہ 67 سالہ روجر اسٹون کو کانگریس کے سامنے جھوٹ بولنے، انصاف کی راہ میں رکاوٹ بننے اور گواہی میں ہیرپھیر کے جرم میں رواں برس فروری میں 40 ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

اسٹون کو سزا 2016 کے صدارتی انتخاب میں ٹرمپ کو جتوانے کے لیے روسی مداخلت پر رابرٹ میولرز کی تفتیشی رپورٹ کی روشنی میں سنائی گئی تھی اور وہ ٹرمپ کے دیگر کئی قریبی ساتھیوں میں سے ایک تھے جنہیں سزا ہوئی۔

تحقیقات کرنے والی کونسل نے 2019 کے اوائل میں اسٹون کو فلوریڈا سے مختلف الزامات میں گرفتار کرلیا تھا۔

اسٹون پر صدارتی انتخاب کے دوران ہیک کی گئیں ای میلز کے حوالے سے وکی لیکس کی ریلیز پر گواہی میں ہیرپھیر اور جھوٹے بیانات دینے سمیت 7 مختلف الزامات میں فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:امریکی انتخاب میں مبینہ روسی مداخلت: ٹرمپ بری الذمہ نہیں، رابرٹ مولر

رابرٹ میولر کی خصوصی کونسل کی جانب سے عائد کی گئی فرد جرم میں روجر اسٹون کو 2016 کے انتخاب میں روسی حکومت کی مداخلت میں کردار ادا کرنے کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا تھا۔

امریکا میں صدارتی انتخابات 2016 کے لیے 8 نومبر کو پولنگ ہوئی تھی، جس کے بعد آنے والے نتائج نے اُس وقت سب کو حیران کردیا، جب ری پبلکن پارٹی کے رہنما ڈونلڈ ٹرمپ، ڈیموکریٹک پارٹی کی ہیلری کلنٹن کو اَپ سیٹ شکست دے کر 4 سال کے لیے امریکا کے 45ویں صدر منتخب ہوگئے۔

انتخابات میں سامنے آنے والے حیران کن نتائج کے بعد یہ الزام عائد کیا جارہا تھا کہ روس ان انتخابات میں ملوث رہا ہے۔

امریکا کے تحقیقاتی ادارے 'ایف بی آئی' نے انتخابات میں روس کی مبینہ مداخلت کے حوالے سے تحقیقات کا آغاز کردیا تھا تاہم یہ تحقیقات ابھی بھی جاری ہیں۔

یاد رہے کہ رواں برس اگست میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں اٹارنی جنرل کو صدارتی انتخاب میں مبینہ روسی مداخلت کی تحقیقات ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔