بوسنیا: سربرینکا میں مسلم نسل کشی کے 25 سال مکمل

اپ ڈیٹ 11 جولائ 2020

ای میل

بوسنیا میں تقریباً ایک لاکھ مسلمانوں کو موت کےگھاٹ اتار دیا گیا تھا—فوٹو:بشکریہ اناطولو
بوسنیا میں تقریباً ایک لاکھ مسلمانوں کو موت کےگھاٹ اتار دیا گیا تھا—فوٹو:بشکریہ اناطولو

بوسنیا میں مسلم نسل کشی کے 25 سال مکمل ہوگئے جہاں صرف سربرینکا کے قصبے میں 8 ہزار سے زائد مسلمانوں کو لقمہ اجل بنا دیا گیا تھا اور اس واقعے کو جنگ عظیم دوم کے بعد یورپ کا تاریک ترین واقعہ گردانا جاتا ہے۔

خبر ایجنسی 'رائٹرز' کے مطابق سرب فوجیوں کا نشانہ بننے والے مزید 9 متاثرین کی شناخت ہوئی تھی اور انہیں دیگر 6 ہزار 643 قبروں کے درمیان دفنایا گیا۔

مزید پڑھیں: ’بوسنیا کا قصائی‘ نسل کشی کا مجرم قرار

نسل کشی میں جاں بحق ہونے والے مسلم شہری کے بیٹے فکریت پیزک نے بتایا کہ '25 سال بعد ہم ان کا جسد خاکی شناخت کرنے میں کامیاب ہوئے اور وہ اپنی آخری آرام گاہ میں سکون پاسکتے ہیں'۔

—فوٹو:بشکریہ انادولو
—فوٹو:بشکریہ انادولو

رپورٹ کے مطابق 1992 سے 1995 کے درمیان جاری رہنے والی بوسنیا جنگ میں مشرقی علاقے میں جاں بحق ہونے والے تقریباً ایک ہزار مسلمانوں کی لاشیں تاحال غائب ہیں۔

عفیتہ حسنوویک نے اپنے شوہر کی نامکمل لاش کو دفنانے کا فیصلہ کیا اور ان کا کہنا تھا کہ 'ہمیں معلوم تھا کہ 25 سال بعد بھی وہ مکمل نہیں مل سکتے لیکن کم ازکم کچھ تو ملا اور اب میں مزید تاخیر نہیں کرنا چاہتی'۔

عالمی رہنماؤں نے کورونا وائرس کے باعث شرکت نہیں کی تاہم ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا تاہم ہزاروں مسلمانوں نے ہر سال کی طرح زخموں کو تازہ کیا لیکن منتظمین کی جانب سے پابندی کے باعث یہ تعداد معمول سے کم تھی۔

سربرینکا میں ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام

نوے کی دہائی میں بوسنیا اور سربیا کی فوج نے نسلی تنظمیوں اور دیگر منافرت پسند جماعتوں کی آشیرباد سے غیرسرب کو بے دخل کرنے کے لیے کارروائی شروع کی تھی جو نسل کشی پر اختتام پذیر ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں: ’بوسنیا کے قصائی‘ کی کہانی کا المناک اختتام

فوج کی بے رحم کارروائیوں سے جان بچانے کے لیے ہزاروں مسلمانوں نے گھربار چھوڑ دیا اور سربرینکا سمیت مشرقی علاقے میں پناہ لی، اس علاقے کو اقوام متحدہ نے سیف زون قرار دیا تھا۔

—فوٹو:بشکریہ اناطولو
—فوٹو:بشکریہ اناطولو

جنرل راتکو ملادک کی کمان میں سربیا کی فورسز نے 11 جولائی 1995 کو سربرینکا میں حملہ کیا حالانکہ نیدرلینڈز کی فوج امن کے قیام کے لیے تعینات تھی۔

سرب فوجیوں نے مردوں اور بچوں کو عورتوں سے الگ کیا اور انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا اور اجتماعی قبر میں دفن کردیا۔

بعد ازاں اقوام متحدہ نے اجتماعی قبر کھول دی اور بوسنیا کے سرب رہنماؤں کے خلاف جنگی جرائم کے تحت مقدمات قائم کیے اور اس کو ثبوت کے طور پر پیش کیا۔

سربرینکا میں مسلمانوں کی نسل کشی کے 25 سال مکمل ہونے پر یورپ سمیت دنیا کے دیگر ممالک کے رہنماؤں نے افسوس کا اظہار کیا اور واقعے کو نسل کشی کا بدترین واقعہ قرار دیا۔

امریکا کے سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ 'ہم متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کرتے ہیں جو 8 ہزار معصوموں کے خون پر انصاف کے طلب گار ہیں اور اتنے سال گزر گئے ہیں'۔

یاد رہے کہ سربرینکا میں بدترین نسل کشی کے بعد امریکا نے بوسنیا میں امن معاہدے کے لیے ثالثی کی تھی۔

رپورٹ کے مطابق 25ویں برسی کے موقع پر صرف مسلمان ہی تھے جو اس خون ریزی پر متضاد بیانیے پر افسردہ تھے۔

مزید پڑھیں: بوسنیا میں قتل عام، جنگ کے 21 سال بعد بھی تدفین جاری

بوسنیا کے مسلمان جنگ کے اختتام کے 25 سال بعد بھی تقریباً ایک لاکھ مسلمانوں کے قتل پر انصاف کے طلب گار ہیں۔

اقوام متحدہ کی جنگی جرائم کی عدالت نے سابق جنرل راتکو ملادک اور ان کے سیاسی سربراہ ریڈووان کاراڈزک کو سربرینکا میں نسل کشی کے جرم میں سزا سنائی تھی لیکن وہ سرب علاقوں میں ہیروز ہیں اور ان کے اکثر ساتھی نسل کشی سے انکار کر رہے ہیں۔

نسل کشی کے 25 سال مکمل ہونے کے موقع پر سرب باشندوں نے قریبی قصبے براتوناک میں 11 جولائی کی مناسبت سے ایک تقریب رکھی تھی اور سربرینکا کا یوم آزادی قرار دیا۔

قوم پرست جماعت کے چیئرمین سیفک نے مطالبہ کیا کہ نسل کشی کو مسترد کرنے کو باقاعدہ طور پر قانون شکل دی جائے۔

اجتماع سے خطاب میں نسل کشی کے تاثر کو یکسر رد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'جب تک حملوں کو ہم خود نہیں دیکھتے اس وقت تک ان واقعات کی سچائی پر ہم اعتماد نہیں کرسکتے ہیں'۔