بھارتی سفارت کار کی دفتر خارجہ طلبی، ایل او سی پر بلااشتعال فائرنگ پر احتجاج

اپ ڈیٹ 13 جولائ 2020

ای میل

پاکستان نے شدید احتجاج ریکارڈ کروایا—فائل/فوٹو:ڈان
پاکستان نے شدید احتجاج ریکارڈ کروایا—فائل/فوٹو:ڈان

پاکستان نے اسلام آباد میں تعینات بھارت کے سینئر سفارت کار کو دفترخارجہ طلب کرکے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارتی فورسز کی بلااشتعال فائرنگ سے شہریوں کو زخمی کیے جانے پر احتجاج ریکارڈ کرا دیا۔

ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ 'بھارتی قابض فورسز کی جانب سے 12 جولائی کو ایل او سی پر فائرنگ کے معاملے پر ایک سینئر بھارتی سفارت کار کو دفتر خارجہ طلب کرکے پاکستان کی جانب سے شدید احتجاج ریکارڈ کرا دیا گیا'۔

انہوں نے کہا کہ 'اس واقعے میں 6 معصوم شہری شدید زخمی ہوئے تھے'۔

مزید پڑھیں:ایل او سی پر بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ سے خاتون زخمی

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ 'ایل او سی کے رکھ چکری اور خوراٹا سیکٹر میں 12 جولائی کو مقبوضہ کشمیر پر قابض بھارتی فورسز کی بلاشتعال فائرنگ کے نتیجے میں 57 سالہ نسیم بی بی، 35 سالہ شبنم بی بی، 11 سالہ ادیبہ، 20 سالہ عادل حمید، 32 سالہ پرویز اور 35 سالہ جاوید حسین شدید زخمی ہوئے'۔

انہوں نے کہا کہ زخمی ہونے والے شہری کرنی، جیجوٹ بہادر اور جگپال گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں۔

دفترخارجہ کا کہنا تھا کہ بھارتی قابض فورسز ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری میں شہری آبادی کوآرٹلری فائر، مارٹرز اور خودکار ہتھیاروں سے مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔

بیان کے مطابق بھارت نے رواں برس ایک ہزار 659 مرتبہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی جس کے نتیجے میں 14 شہادتیں ہوئی اور 129 معصوم شہری شدید زخمی ہوئے۔

دفترخارجہ نے ان اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ فائرنگ واضح طور پر 2003 کے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے اور انسانی اقدار اور پیشہ ورانہ فوجی قواعد کے بھی خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت بین الاقوامی قانون کی خلاف وزی کرتے ہوئے ایل او سی کے اطراف میں کشیدگی کو بڑھا رہا ہے، جو خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایل او سی: بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ سے بزرگ خاتون جاں بحق

دفترخارجہ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ایل اور ورکنگ باؤنڈر میں کشیدگی کو ہوا دے کر بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی گھمبیر صورت حال سے دنیا کی توجہ نہیں ہٹا سکتا۔

بھارت سے 2003 کے معاہدے کی پاسداری کا مطالبہ کرتے ہوئے دفتر خارجہ نے کہا کہ ان واقعات کی تفتیش کرکے ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر امن کو برقرار رکھا جائے۔

دفترخارجہ نے بھارت پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کے فوجی مبصر مشن کو سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق کردار ادا کرنے کی اجازت دے۔

خیال رہے کہ بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ کے واقعات میں اضافہ دیکھا جارہا ہے اور آئے روز آزاد کشمیر میں ایل او سی کے مختلف سیکٹرز پر بلااشتعال فائرنگ کی جاتی ہے۔

اس سے قبل 6 جولائی کو ایل او سی پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں 5 شہری زخمی ہوگئے تھے۔

بھارتی فوجیوں نے ایل او سی پر نکیال سیکٹر میں رات گئے شہری آبادی کو نشانہ بنایا تھا۔

اس سے ایک روز قبل یعنی 5 جولائی کو ایل او سی پر بھارتی فوج کی فائرنگ سے ایک شہری زخمی ہوگیا تھا۔

اسی طرح 25 جون کو ایل او سی کے کریلا سیکٹر میں بلااشتعال فائرنگ سے خاتون زخمی ہوگئی تھیں۔

بھارتی فوج نے 16 جون کو ایل او سی سے ملحق بگسر سیکٹر میں بلااشتعال فائرنگ کرک شہری آبادی کو نشانہ بنایا تھا جس میں ایک شہری زخمی ہو گیا تھا۔

مزید پڑھیں: ایل او سی پر بلااشتعال فائرنگ پر پاکستان کا احتجاج،سینیئر بھارتی سفارتکار دفترخارجہ طلب

مزید یہ کہ بھارتی فوج نے 12 جون کو بھی آزاد جموں و کشمیر کے مختلف سیکٹرز پر بلااشتعال فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں بزرگ خاتون جاں بحق اور 2 افراد زخمی ہوئے تھے۔

علاوہ ازیں آزاد جموں کشمیر کے سیکریٹری شہری دفاع اور ڈیزاسٹر منیجمنٹ سید شاہد محی الدین قادری نے بتایا تھا کہ رواں سال بلا اشتعال فائرنگ سے جاں بحق شہریوں کی تعداد 14 ہوگئی ہے۔

انہوں نے بتایا تھا کہ دشمن کی گولہ باری سے 25 مکانات اور 8 دکانیں بھی تباہ بھی ہو چکی ہیں اور 227 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے جبکہ اس کے علاوہ 87 مویشیوں کی ہلاکت بھی ہوئی ہے۔