پی آئی اے کو عمانی فضائی حدود کی بندش کا بھی خطرہ

اپ ڈیٹ 14 جولائ 2020

ای میل

امریکا اور یورپی ممالک کی پی آئی اے کی پروازں پر پابندی لگاچکے ہیں — فائل فوٹو: اے پی پی
امریکا اور یورپی ممالک کی پی آئی اے کی پروازں پر پابندی لگاچکے ہیں — فائل فوٹو: اے پی پی

راولپنڈی: پاکستان ایوی ایشن ریگولیٹر اور قومی ایئر لائن کو گزشتہ ماہ سے اپنی ساکھ کو متاثر کرنے والے بحران کا سامنا ہے اور اب پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی پروازوں کو عمان کی فضائی حدود کی بندش کا خطرہ بھی درپیش ہے۔

تاہم سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کی جانب سے عمانی ایوی ایشن حکام کو یقین دلایا گیا ہے کہ فلائٹ سیفٹی یقینی بنانے کے لیے تمام پائلٹس کی اسناد کی جانچ پڑتال کی گئی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ پی آئی اے کی سیفٹی کے حالیہ معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عمانی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے پاکستان کو خبردار کیا کہ پی آئی اے کو اس کی فضائی حدود کے استعمال سے روکا جاسکتا ہے۔

مزید پڑھیں: 7 ممالک میں کام کرنے والے 95 فیصد پاکستانی پائلٹس کے لائسنسز کلیئر

ذرائع نے بتایا کہ عمانی حکام نے اسلام آباد سے یہ بھی کہا کہ وہ یہ بتائیں کہ پروازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کیا احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں۔

اس حوالے سے ذرائع نے مزید کہا کہ پاکستان سی اے اے نے عمانی سول ایوی ایشن اتھارٹی کو بتایا کہ جن پائلٹس کو پرواز کرنے کی اجازت دی گئی تھی ان سب کی اسناد کی جانچ اجازت دینے سے قبل کی جاچکی تھی۔

ذرائع کے مطابق عمانی حکام کو مزید بتایا گیا کہ پاکستانی حکام نے سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایت پر چند برس قبل پائلٹس کی جانچ پڑتال شروع کی تھی۔

علاوہ ازیں ذرائع نے بتایا کہ جب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت اقتدار میں آئی تو جانچ پڑتال کا عمل تیز ہوا لیکن ہمارے پائلٹ لائسنس کبھی جعلی نہیں ہوتے، بعض اوقات صرف ان کی درستی کے مسائل ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جعلی لائسنس والے پی آئی اے کے 28 پائلٹس کو فارغ کردیا گیا، شبلی فراز

ذرائع نے کہا کہ امتحانات میں بے ضابطگی ہوئی تھی جس کے بعد ان پائلٹس کو فرانزک رپورٹ کی روشنی میں گراؤنڈ کردیا گیا تھا۔

ساتھ ہی ذرائع نے بتایا کہ طیارہ اڑانے والے پی آئی اے کے تمام پائلٹس کو جانچ پڑتال کے بعد کلیئر کردیا گیا تھا اور وہ سب تجربہ کار تھے۔

خیال رہے کہ ہوا بازی کے بحران کے باعث دیگر 7 ممالک جہاں پاکستانی پائلٹس مختلف ایئر لائنز میں ملازمت کررہے ہیں، انہوں نے اسلام آباد سے ان پائلٹس کی اسناد کی تصدیق کرنے کا کہا تھا۔

اگرچہ عمانی سی اے اے نے سرکاری طور پر وہاں موجود پاکستانی پائلٹس کی تصدیق کے لیے کوئی مخصوص فہرست نہیں ارسال کی لیکن حکام نے صرف اسلام آباد سے یہ وضاحت طلب کی ہے کہ پروازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کیا احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں تاکہ پی آئی اے کو عمان کی فضائی حدود کے استعمال سے نہ روکا جائے۔

28 پائلٹس کے لائسنسز منسوخ

ادھر 28 پاکستانی پائلٹس کے کمرشل فلائنگ لائسنسز کو منسوخ کردیا گیا ہے، 2018 میں ان کے 'مشکوک' لائسنسز کا سراغ لگایا گیا تھا اور قانونی کارروائیوں کے بعد انہیں ایئر لائن کی ملازمت سے فارغ کردیا جائے گا۔

'مشکوک' لائسنس کے حامل 262 پائلٹس میں سے 34 کو ایوی ایشن ڈویژن کی جانب سے معطل کردیا گیا ہے، دیگر 24 پائلٹس کو 11 جولائی کو معطل کیا گیا تھا جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز میں مزید 30 سے 40 پائلٹس کو معطل کرنے کا امکان ہے۔

7 ممالک کو پائلٹس کی تصدیق کردی گئی

ذرائع نے کہا کہ سی اے اے نے پہلے ہی مختلف ممالک میں ملازمت کرنے والے 142 پاکستانی پائلٹس کی اسناد کی تصدیق کردی تھی اور ان 7 ممالک بشمول ملائیشیا کے حکام کو تصدیق نامے ارسال کردیے تھے۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی آف ملائیشیا (سی اے اے پی) کے پبلک ریلیشنز افسر نے ای میل کے جواب میں کہا کہ 'سی اے اے ایم کو یہ بتاتے ہوئے خوشی ہوئی ہے کہ پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (پی سی اے اے) نے اس وقت ملائیشیا میں ملازمت پیشہ پاکستانی لائسنسز کے حامل پائلٹس کی تصدیق کے سلسلے میں ہماری درخواست پر بہت تعاون کیا ہے'۔

ای میل کے جواب میں کہا گیا کہ پی سی اے اے کو 20 سے کم نام بھیجے جاچکے ہیں اور پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ان کے لائسنسز درست ہونے کی توثیق کی ہے۔

مزید پڑھیں: پائلٹس کے لائسنس جعلی یا مشکوک؟ اصل معاملہ آخر ہے کیا؟

سی اے اے ایم کے علاوہ ایتھوپیا نے بھی حکومت پاکستان سے وہاں کام کرنے والے 5 پاکستانی پائلٹس کے لائسنس کی تصدیق کرنے کے لیے کہا تھا اور پاکستان سی اے اے نے ایتھوپیا میں ملازمت کرنے والے تمام 5 پاکستانی پائلٹس کے لائنسنز کلیئر کردیے ہیں۔

کچھ پاکستانی پائلٹس کویت، سعودی عرب اور عمان کی مختلف ایئرلائنز میں بھی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

سی اے اے کے ایک سینئر عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ پیر (13جولائی) تک پاکستانی پائلٹس کے لائسنسز کی تصدیق کے لیے اسلام آباد کو موصول ہونے والی تمام درخواستوں کو پورا کردیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ان ممالک میں کام کرنے والے تمام پائلٹس کے لائسنسز کلیئر کردیے گئے ہیں جبکہ پاکستان میں خدمات سرانجام دینے والے پائلٹس کی تصدیق کا عمل ایک ہفتے میں مکمل کیا جائے گا۔

پاکستان کی ایئرسیفٹی ریٹنگ میں کمی

دوسری جانب برطانوی خبررساں ادارے 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق اسی حوالے سے پیش رفت میں امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) نے منگل (14 جولائی) کو ایجنسی کی جانب سے پائلٹ سرٹیفکیشن سے متعلق خدشات کے باعث پاکستان کی ایئر سیفٹی ریٹنگ میں کمی کردی۔

اس فیصلے کا انکشاف امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کی ویب سائٹ پر شائع کی گئی 15 جولائی کی ایف اے اے کی اسپریڈشیٹ میں کیا گیا اور ادارے کے عہدیدار نے اس کی تصدیق کردی۔

یہ بھی پڑھیں: ’پائلٹس کے مشتبہ لائسنس کا معاملہ صرف پی آئی اے سے منسلک نہیں‘

جس کا مطلب ہے کہ امریکی ایئر سیفٹی ایجنسی نے یہ تعین کیا ہے کہ پاکستان، بین الاقوامی معیار پر پورا نہیں اترتا اور اب اسے کیٹیگری 2 ریٹنگ حاصل ہے۔   تاہم واشنگٹن میں واقع پاکستانی سفارتخانے نے اس حوالے سے تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔

نئی درجہ بندی کا مطلب ہے کہ پاکستان ایئرلائنز کو امریکی ایئرپورٹس پر اضافی جانچ کا سامنا ہوسکتا ہے اور وہ اضافی پروازیں شامل نہیں کرسکتیں۔  

پائلٹس کے 'مشکوک' لائسنسز کا معاملہ

خیال رہے کہ پائلٹس کے مشکوک یا جعلی لائسنسز کے معاملے کا آغاز 24 جون کو اس وقت ہوا جب قومی اسمبلی میں کراچی مسافر طیارہ حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا تھا کہ 860 پائلٹس میں سے 262 ایسے پائے گئے جن کی جگہ کسی اور نے امتحان دیا تھا۔

جس کے بعد پاکستان نے 26 جون کو امتحان میں مبینہ طور پر جعل سازی پر پائلٹس کے لائسنسز کو 'مشکوک' قرار دیتے ہوئے انہیں گراؤنڈ کردیا تھا۔

غلام سرورخان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ 'جن پائلٹس پر سوالات اٹھائے گئے ہیں وہ 262 ہیں، پی آئی اے میں 141، ایئربلیو کے 9، 10 سرین، سابق شاہین کے 17 اور دیگر 85 ہیں'۔

جس کے بعد پی آئی اے کی انتظامیہ نے اپنے 150 پائلٹس کو گراؤنڈ کرنے (کام کرنے سے روکنے) کا فیصلہ کیا تھا۔

29 جون کو ویتنام کی ایوی ایشن اتھارٹی نے عالمی ریگولیٹرز کی جانب سے پائلٹس کے ’مشکوک لائسنس‘ رکھنے کی تشویش پر مقامی ایئرلائنز کے لیے تمام پاکستانی پائلٹس کو گراؤنڈ کردیا تھا۔

اگلے روزیورپین یونین ایئر سیفٹی ایجنسی (ایاسا) نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے یورپی ممالک کے فضائی آپریشن کا اجازت نامہ 6 ماہ کے لیے عارضی طور پر معطل کردیا تھا جس پر 3 جولائی سے اطلاق ہوا۔

اسی روز اقوام متحدہ کے ڈپارٹمنٹ آف سیفٹی اینڈ سیکیورٹی (یو این ڈی ایس ایس) نے پاکستانی ایئرلائن کو اپنی 'تجویز کردہ فہرست' سے ہٹا دیا تھا۔

جس کے بعد یکم جولائی کو برطانیہ کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اپنے 3 ایئرپورٹس سے پی آئی اے کی پروازوں پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا جبکہ متحدہ عرب امارت نے بھی سول ایوی ایشن اتھارٹی سے مختلف فضائی کمپنیوں میں کام کرنے والے پاکستانی پائلٹس اور انجینئرز کے کوائف کی تصدیق کی درخواست کی تھی۔

اس کے بعد 3 جولائی کو ملائشیا کے ایوی ایشن ریگولیٹر نے پاکستانی لائسنس رکھنے والے اور مقامی ایئر لائنز میں ملازمت کرنے والے پائلٹس کو عارضی طور پر معطل کردیا تھا۔

جس کے بعد 4 جولائی کو وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا تھا کہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد مزید 30 ’مشتبہ لائسنس' کے حامل پائلٹس کو اظہار وجوہ کے نوٹسز بھیجے جاچکے ہیں۔

7 جولائی کو یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی (ایاسا) نے 32 رکن ممالک کو 'پاکستان میں جاری کردہ پائلٹ لائسنسز سے متعلق مبینہ فراڈ' کے حوالے سے خط لکھا اور ان پائلٹس کو فلائٹ آپریشن سے روکنے کی سفارش کی تھی۔

اسی روز سول ایوی ایشن اتھارٹی نے 'مشکوک' لائسنسز سے متعلق انکوائریاں مکمل ہونے کے بعد پی آئی اے کے 34 پائلٹس کے کمرشل فلائنگ لائسنسز معطل کردیے تھے۔

بعدازاں 9 جولائی کو امریکا نے بھی پاکستانیوں کی واپسی کے لیے قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کی خصوصی پروازوں کے اجازت نامے کو منسوخ کردیا تھا۔

10 جولائی کو ایوی ایشن ڈویژن نے مختلف ممالک کی ایئرلائنز میں کام کرنے والے 95 فیصد پائلٹس کے لائسنز کلیئر کردیے تھے جبکہ باقی کی تصدیق کا عمل آئندہ ہفتے مکمل کرنے سے متعلق آگاہ کیا تھا۔