متحدہ عرب امارت کی پاکستانی پائلٹس کے کوائف کی تصدیق کی درخواست

اپ ڈیٹ 01 جولائ 2020

ای میل

اماراتی اتھارٹی نے کہا کہ سی اے اے سے جاری لائسنسز کی بنیاد پر امارات کے لائسنسز کے حامل پائلٹس کے کوائف کی تصدیق چاہتے ہیں — فائل فوٹو:رائٹرز
اماراتی اتھارٹی نے کہا کہ سی اے اے سے جاری لائسنسز کی بنیاد پر امارات کے لائسنسز کے حامل پائلٹس کے کوائف کی تصدیق چاہتے ہیں — فائل فوٹو:رائٹرز

حکومت پاکستان کی جانب سے 'مشکوک' لائسنسز کی بنیاد پر 262 پائلٹس کو گراؤنڈ کرنے کے بعد متحدہ عرب امارت نے مختلف فضائی کمپنیوں میں کام کرنے والے پاکستانی پائلٹس اور انجنیئرز کے کوائف کی تصدیق کے لیے سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) سے درخواست کردی۔

خیال رہے کہ پاکستان نے 26 جون کو امتحان میں مبینہ طور پر جعل سازی پر پائلٹس کے لائسنسز کو 'مشکوک' قرار دیتے ہوئے انہیں گراؤنڈ کردیا تھا۔

وزیر ہوابازی غلام سرورخان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ 'جن پائلٹس پر سوالات اٹھائے گئے ہیں وہ 262 ہیں، پی آئی اے میں 141، ایئربلیو کے 9، 10 سرین، سابق شاہین کے 17 اور دیگر 85 ہیں'۔

مزید پڑھیں: یورپی ممالک کیلئے پی آئی اے کی پروازوں پر پابندی

برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کی جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل سیف محمد السویدی نے 29 جون کو پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل حسن ناصر کو ارسال کیے گئے خط میں اپنے ملک میں کام کرنے والے پاکستانی پائلٹس، ایئر کرافٹ مینٹیننس انجینئر اور فلائٹ آپریشن افسران کے کوائف کی تصدیق کی درخواست کی تھی۔

خط میں کہا گیا تھا کہ 'ہم آپ کے دفاتر سے فہرست میں موجود پائلٹس کے لائسنز کی تصدیق کی درخواست کرتے ہیں جو اس وقت پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی سے جاری کردہ لائسنسز کی بنیاد پر متحدہ عرب امارت کے پائلٹ لائسنسز کے حامل ہیں'۔

تاہم پاکستان کی وزارت ہوا بازی کی جانب سے اس حوالے سے رائٹرز کی جانب سے رابطے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

گزشتہ روز یورپی یونین ایئر سیفٹی ایجنسی (ایاسا) نے لائسنسز کے حوالے سے تحفظات کے باعث پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کے یورپی ممالک کے فضائی آپریشن کے اجازت نامے کو 6 ماہ کے لیے عارضی طور پر معطل کردیا تھا۔

دوسری جانب پاکستان ایئرلائنز پائلٹ ایسوسی (پالپا) نے ایک بیان میں الزام عائد کیا کہ 'مشکوک' لائسنسز سے متعلق اعلان پائلٹس کے خلاف حکومتی منصوبہ بندی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: برطانیہ نے بھی قومی ایئرلائن کی پروازیں معطل کردیں

پالپا نے کہا کہ کچھ لوگوں کی جانب سے پائلٹس کی تعداد میں کمی کی کوشش کی ذہنیت کے ساتھ بدنیتی پر مبنی کوششوں کے نتیجے میں پی آئی اے صرف کاغذ تک ہی ایئرلائن رہ گئی ہے۔

ساتھ ہی پالپا نے مشکوک لائسنسز سے متعلق حکومتی فہرست کو مسترد کیا اور نشاندہی کی کہ فہرست میں تضادات موجود ہیں، پالپا نے عدالتی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔

علاوہ ازیں برطانیہ کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے قانون کے مطابق اپنے 3 ایئرپورٹس سے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی پروازوں پر پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے۔

برطانوی خبررساں ادارے 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق برطانوی اتھارٹی کے ترجمان نے بتایا کہ 'برمنگھم، لندن ہیتھرو اور مانچسٹر ایئرپورٹس سے پی آئی اے کی پروازیں فوری طور پر معطل کی جاتی ہیں'۔

چند روز قبل ویتنام کی سول ایوی ایشن کے حکام نے مبینہ جعلی لائنسس اسکینڈل سامنے آنے کے بعد متعلقہ وزارت کی ہدایت پر پاکستان سے تعلق رکھنے والے کم از کم 20 پائلٹس کو معطل کردیا تھا۔

مزید پڑھیں: مشکوک لائنس کا معاملہ: ویتنام نے پاکستانی پائلٹس کو گراؤنڈ کردیا

ویتنام کی سول ایوی ایشن (سی اے اے وی) کے ڈائریکٹر ڈنھویٹ تھنگ کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ وزارت ٹرانسپورٹ کی ہدایت پر کیا گیا تھا۔

ڈنھویٹ تھنگ نے کہا تھا کہ تقریباً 20 پائلٹس کو معطل کردیا گیا ہے اور یہ تمام پاکستان کے شہری تھے اور پاکستان سے ہی لائسنس حاصل کیا تھا۔