برطانیہ نے بھی قومی ایئرلائن کی پروازیں معطل کردیں

اپ ڈیٹ 01 جولائ 2020

ای میل

ترجمان برطانوی اتھارٹی کے مطابق 3 ایئرپورٹس سے پی آئی اے کی پروازیں فوری طور پر معطل کی جاتی ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی
ترجمان برطانوی اتھارٹی کے مطابق 3 ایئرپورٹس سے پی آئی اے کی پروازیں فوری طور پر معطل کی جاتی ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی

برطانیہ کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اپنے 3 ایئرپورٹس سے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی پروازوں پر پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے۔

برطانوی خبررساں ادارے 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق برطانوی اتھارٹی کے ترجمان نے بتایا کہ 'برمنگھم، لندن ہیتھرو اور مانچسٹر ایئرپورٹس سے پی آئی اے کی پروازیں فوری طور پر معطل کی جاتی ہیں'۔

خیال رہے کہ برطانیہ کے مذکورہ تینوں ایئرپورٹس ایئرلائن کی بڑی منازل ہیں۔

برطانیہ کی جانب سے یہ اعلان یورپی یونین ایئر سیفٹی ایجنسی (ایاسا) کے آئندہ 6 ماہ تک پی آئی اے کے آپریشن معطل کرنے کے فیصلے کے بعد کیا گیا۔

مزید پڑھیں: یورپی ممالک کیلئے پی آئی اے کی پروازوں پر پابندی

24 جون کو قومی اسمبلی میں کراچی مسافر طیارہ حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے کہا تھا کہ 860 پائلٹس میں سے 262 ایسے پائے گئے جن کی جگہ کسی اور نے امتحان دیا تھا۔

جس کے بعد 26 جون کو وزیر ہوابازی غلام سرورخان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ 'جن پائلٹس پر سوالات اٹھائے گئے ہیں وہ 262 ہیں، پی آئی اے میں 141، ایئربلیو کے 9، 10 سرین، سابق شاہین کے 17 اور دیگر 85 ہیں'۔

چند روز قبل ویتنام کی سول ایوی ایشن کے حکام نے مبینہ جعلی لائنسس اسکینڈل سامنے آنے کے بعد متعلقہ وزارت کی ہدایت پر پاکستان سے تعلق رکھنے والے کم از کم 20 پائلٹس کو معطل کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: مشکوک لائنس کا معاملہ: ویتنام نے پاکستانی پائلٹس کو گراؤنڈ کردیا

ویتنام کی سول ایوی ایشن (سی اے اے وی) کے ڈائریکٹر ڈنھویٹ تھنگ کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ وزارت ٹرانسپورٹ کی ہدایت پر کیا گیا تھا۔

ڈنھویٹ تھنگ نے کہا تھا کہ تقریباً 20 پائلٹس کو معطل کردیا گیا ہے اور یہ تمام پاکستان کے شہری تھے اور پاکستان سے ہی لائسنس حاصل کیا تھا۔

یورپی ممالک میں پی آئی اے فلائٹ آپریشن معطل

گزشتہ روز پی آئی اے کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ اس کا اطلاق یکم جولائی 2020 کو رات بجے سے ہوگا اور کہا تھا کہ اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی جاسکے گی۔

قومی ایئرلائن کا کہنا تھا کہ یورپی یونین ایئرسیفٹی ایجنسی کے اس فیصلے کے نتیجے میں پی آئی اے یورپ کی تمام پروازیں عارضی مدت کے لیے منسوخ کررہا ہے۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ جن مسافروں کے پاس پی آئی اے کی بکنگ ہے ان کے پاس اختیار ہوگا کہ وہ بکنگ آگے کروا لیں یا رقم واپس لے لیں۔

یہ بھی پڑھیں: ’پائلٹس کے مشتبہ لائسنس کا معاملہ صرف پی آئی اے سے منسلک نہیں‘

ترجمان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے یورپی یونین کی فضائی سیفٹی کے ادارے کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور ان کے خدشات کو دور کرنے کے لیے اصلاحی اقدامات کررہا ہے۔

بعدازاں پی آئی اے نے کہا تھا کہ یورپی یونین نے قومی ایئرلائن کو 3 جولائی تک آپریشن جاری رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔

ترجمان پی آئی اے عبداللہ حفیظ نے کہا تھا کہ سیکریٹری خارجہ کی جانب سے یورپی حکام سے رابطے کے بعد یورپی یونین نے فلائٹ آپریشن میں توسیع کی۔

انہوں نے کہا کہ پی آئی انتظامیہ ،دفتر خارجہ اور پاکستانی سفرا یورپی حکام سے رابطے میں ہیں۔

ترجمان نے ڈان کو بتایا کہ پی آئی کی پراوزیں پی کے -785 اور پی کے-786 معمول کے مطابق آپریٹ کریں گی جبکہ دیگر پروازوں کے شیڈول کا اعلان جلد کیا جائے گا۔

اس حوالے سے پی آئی اے نے ٹوئٹ بھی کیا تھا کہ یکم جولائی کو اسلام آباد سے لندن ہیتھرو جانے والی پرواز پی کے 785 اور لندن ہیتھرو سے اسلام آباد جانے والی پرواز پی کے 786 معمول کے مطابق آپریٹ کرے گی۔

پالپا کا 'مشکوک' پائلٹس کی فہرست پر اعتراض

مزید برآں پاکستانی پائلٹس اور ان کی یونین، پاکستان ایئرلائنز پائلٹس ایسوسی ایشن (پالپا) نے کہا کہ مشکوک لائسنسز کے حامل پائلٹس سے متعلق حکومتی فہرست میں تضادات ہیں اور انہوں نے عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ پی آئی نے کہا کہ جب ایئرلائنز کو فہرست موصول ہونے کے بعد اس میں تضادات ظاہر ہوئے، 141 میں سے 36 پائلٹس ریٹائرڈ ہوگئے تھے یا باہر منتقل ہوگئے تھے۔

مزید پڑھیں: 28 پائلٹس کے لائسنس جعلی ثابت، کیس کابینہ میں لے جانے کا فیصلہ

ایئربلیو نے کہا کہ فہرست میں شامل 7 پائلٹس اب ان کے لیے کام نہیں کرتے۔

پالپا کے صدر چوہدری سلمان نے کہا کہ ' اس فہرست میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور قابل پائلٹس کے نام شامل ہیں جنہوں نے تمام ٹیسٹس پاس کیے تھے'۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس معاملے کا منصفانہ اور غیر جانبدارانہ حل چاہتے ہیں۔

پاکستان کی وزارت ہوا بازی کے ترجمان عبدالستار کھوکر نے کہا کہ ان کے پاس فہرست میں تضادات سے متعلق مکمل تفصیلات نہیں اور ایئرلائنز اور سول ایوی ایشن کی مشاورت سے معاملے کو حل کیا جارہا ہے۔