سینیٹ کمیٹی نے چیف الیکشن کمشنر کے تقرر میں عدلیہ کو شامل کرنے کی مخالفت کردی

اپ ڈیٹ 14 جولائ 2020

ای میل

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے جنرل (ر)  عبدالقیوم پر زور دیا کہ وہ سینیٹ میں جمع کروائے گئے اس بل سے دستبردار ہوں۔ اے پی پی: فائل فوٹو
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے جنرل (ر) عبدالقیوم پر زور دیا کہ وہ سینیٹ میں جمع کروائے گئے اس بل سے دستبردار ہوں۔ اے پی پی: فائل فوٹو

اسلام آباد: پارلیمانی کمیٹی نے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) کے تقرر میں عدلیہ کو شامل کرنے کی مخالفت کردی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے تحریک چلانے والے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل عبدالقیوم پر زور دیا کہ وہ سینیٹ میں جمع کروائے گئے بل سے دستبردار ہوں۔

اس بل میں حکومت کی جانب سے الیکشن کمشنر کی نامزدگی کے سلسلے میں اتفاق رائے حاصل کرنے میں ناکامی پر معاملے کو سپریم کورٹ میں بھیجنے کی تجویز پیش کی گئی۔

مزید پڑھیں: چیف الیکشن کمشنر نے صدر مملکت سے خفیہ ملاقاتوں کے الزامات مسترد کردیے

کمیٹی کے اراکین فاروق ایچ نائیک، ڈاکٹر مصدق ملک، مصطفیٰ نواز کھوکھر، میاں رضا ربانی، ولید اقبال، ثنا جمالی، ذیشان خانزادہ اور محمد غوث محمد خان نیازی نے سی ای سی کے تقرر کے طریقہ کار کو تبدیل کرنے کے لیے آئینی ترمیم کے بل کی مخالفت کی۔

یہ اقدام وزیر اعظم عمران خان اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ممبران کے ناموں پر اتفاق رائے حاصل کرنے میں ناکامی کا نتیجہ تھا۔

جنرل عبدالقیوم کا یہ اقدام سی ای سی اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے دو ممبران کے تقرر میں ایک ماہ سے جاری تعطل کے جواب میں تھا جس کی وجہ سے معاملے میں قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اس معاملے پر فیصلہ سنانے کے بجائے اس معاملے کو پارلیمنٹ میں بھیج دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ملک میں پہلی مرتبہ تمام صوبوں میں خواتین ضلعی الیکشن کمشنر تعینات

سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے نشاندہی کی کہ عدلیہ اس معاملے میں مداخلت نہیں کرنا چاہتی ہے اور یہ غیر منصفانہ ہوگا کہ پارلیمنٹ قانون سازی کرے اور سپریم کورٹ کو اختیار دے کہ وہ ان تعیناتیوں میں حتمی فیصلہ کرے۔

بحث کا حصہ بنتے ہوئے ولید اقبال کا کہنا تھا کہ یہ خوش قسمتی کی بات ہے کہ اس کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی اور انہوں نے ایک دانشمندانہ فیصلہ لیا۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں معلوم نہیں کہ اگر معاملے کی سماعت سپریم کورٹ میں ہوتی تو کیا نتیجہ نکلتا۔

سیکریٹری قانون اور انصاف خاشور رحمٰن نے کمیٹی کو بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے مثال قائم کی ہے کہ پارلیمنٹ ملک کا ایک اعلیٰ ادارہ ہے جسے اس طرح کے معاملات کا فیصلہ خود ہی کرنا چاہیے۔

بعد ازاں کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر جاوید عباسی نے جنرل (ر) عبدالقیوم پر زور دیا کہ وہ اس بل کو واپس لیں اور رضا ربانی اور فاروق ایچ نائیک کی تجاویز کے مطابق اس میں ترمیم کریں۔

کمیٹی کے دیگر ممبران کا بھی مؤقف تھا کہ اس معاملے کو سپریم کورٹ میں بھیجنے کے بجائے مستقبل میں اس طرح کے مسئلے پر سینیٹ کے چیئرمین اور قومی اسمبلی کے اسپیکر کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی کی جانب سے حل تلاش کرنا چاہیے۔