این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ کم کرنے کا بل سینیٹ میں مسترد

اپ ڈیٹ 14 جولائ 2020

ای میل

سینیٹ میں مولانا عطالرحمٰن اور حکران جماعت کے علی محمد خان میں تلخ کلامی بھی ہوئی— فائل فوٹو: اے پی پی
سینیٹ میں مولانا عطالرحمٰن اور حکران جماعت کے علی محمد خان میں تلخ کلامی بھی ہوئی— فائل فوٹو: اے پی پی

اسلام آباد: اپوزیشن نے سینیٹ میں ایک آئینی ترمیم کی کوشش ناکام بنادی جو قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں صوبوں کے گزشتہ سالوں کے حصے میں کمی کرنے سے متعلق تھی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایوان نے متحدہ قومی موومنٹ کے بیرسٹر محمد علی سیف کی جانب سے آئین کی دفعہ 160 (3اے) میں ترمیم کے بل کو 17 کے مقابلے 25 اراکین کی اکثریت سے مسترد کردیا۔

بیرسٹر سیف کو صوبوں کی ضروریات کے مطابق فنڈ مختص کرنے کے لیے پیش کردہ ترمیم پر سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا، ان کی رائے تھی کہ آئین کی دفعہ 160 (3 اے) وسائل کی منصفانہ تقسیم اور مالیاتی توازن کے خلاف ہے۔

انہوں نے سینیٹ چیئرمین سے اس تجویز پر غور کرنے کے لیے کمیٹی کا اجلاس بلانے کی بھی درخواست کی۔

یہ بھی پڑھیں: 'صوبوں سے اختیارات واپس نہیں لینا چاہتے،این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلی ہونی چاہیے'

جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد، وہ پہلے شخص تھے، جنہوں نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے اسے وفاق کے لیے خطرناک قرار دیا ان کا کہنا تھا کہ وفاق پہلے ہی صوبوں کی گردن دبا کے بیٹھا ہے اور مجوزہ بل کو انہوں نے این ایف سی کی آئینی اسکیم کے لیے خود کش حملہ قرار دیا۔

دوسری جان سے ترمیمی بل کی سخت مخالفت کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی پارلیمانی رہنما شیری رحمٰن نے کہا کہ ’یہ صوبے ہیں جن کے جمع کیے گئے ٹیکس سے پاکستان چل رہا ہے وفاق نہیں جو اپنے وسائل صوبوں کو دینے کی شکایت کرتا ہے'۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ وفاق کے اتحاد اور استحکام پر پیٹھ پیچھے کیا گیا حملہ تھا، کیا لوگوں نے ملک کی تاریخ نہیں دیکھی جس میں صوبوں کے حقوق پر اس طرح کے حملوں کی وجہ سے پاکستان ٹوٹا؟'

انہوں نے مزید کہا کہ این ایف سی ایوارڈ پر حملہ ناقابل قبول ہے ’حکومت کی نااہلیت اور بے مثال بدانتظامی پاکستان کے لیے خطرہ ہے، صوبے ملک چلا رہے ہیں اور ہم وفاق کو عوام سے چوری نہیں کرنے دیں گے‘۔

ایوان میں قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز نے بل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ سمجھ نہیں آتی کہ اس طرح کی چیزوں کو ’نو گو ایریاز‘ کیوں بنا دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ متفقہ علیہ 1973 کے آئین میں بھی زمینی صورتحال اور حقائق کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ترمیم کی گنجائش ہے۔

دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر مولانا عطاالرحمٰن نے کہا ہے کہ 18ویں ترمیم کو اگر چھیڑا تو یہ ملک ہی نہیں رہے گا، اس بل پر بحث ملک توڑنے کے مترادف ہے اور ہم اس ملک کو ٹوٹنے نہیں دیں گے۔

پیر کو سینیٹ کے اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر مولانا عطاالرحمن نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بہت عرصے بعد آج ایوان میں بات کرنے کا موقع ملا ہے اور اس وقت جو موضوع زیر بحث ہے میں اس پر گفتگو کروں گا۔

مزید پڑھیں: 18ویں آئینی ترمیم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ پر اپوزیشن کی تنبیہ

ان کا کہنا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت زیر بحث لایا جارہا ہے اور اس وقت 18ویں ترمیم کو زیر بحث لانا یا این ایف سی ایوارڈ کو زیر بحث لانا ملک کو کمزور کرنے کی بات ہے۔

مولانا عطاالرحمٰن نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) نے جب یہ بازگشت پہلی بار سنی، پہلے تو ہم نے تمام اپوزیشن جماعتوں کے سربراہان سے رابطے کیے اور چاروں صوبوں میں ہم نے آل پارٹیز کانفرنسز کیں۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر بہت جلد قومی سطح پر آل پارٹیز کانفرنس بلائیں گے، اے پی سی کا موضوع بھی این ایف سی ایوارڈ اور 18ویں ترمیم ہے۔

اس موقع پر انہوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ تمام افراد صرف مہرے ہیں، اصل لوگ سامنے نہیں آرہے، 18ویں ترمیم میں بھی ان کو جو درد ہے وہ این ایف سی ایوارڈ نہیں بلکہ ان کا اصل درد ان کے اپنے اختیارات کی کمی ہے اور یہ تمام معزز افراد ان کے مہرے ہیں اور ان کے کہنے پر کام کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: 18ویں ترمیم کے خاتمے کی کوشش فیڈریشن پر حملہ ہوگا، ادارے پارلیمنٹ کا احترام کریں، زرداری

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما نے مزید کہا کہ آج بھی جو افراد پس پردہ حکومت کر رہے ہیں، ان کو اس قوم سے کچھ لینا دینا نہیں، وہ بس باہر کے ممالک کو خوش کر رہے اور اس ملک کو کھا رہے ہیں۔

انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ میں ان کو بتا دیتا ہوں کہ 18ویں ترمیم کو اگر چھیڑا تو یہ ملک ہی نہیں رہے گا اور جب یہ ملک نہیں رہے گا تو آپ لوگ کھائیں گے کیا؟

کسی کا نام لیے بغیر ان کا کہنا تھا کہ 'آج تک ان لوگوں کے بجٹ کا کوئی حساب نہیں ہے، آپ لوگوں نے آج تک کونسی جنگ لڑی ہے، اپنا کام آپ سے ہوتا نہیں اور ملک کے اندر اس طرح کی بحث چھیڑ کر کے آپ لوگ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟'

سینیٹر عطاالرحمٰن نے کہا کہ میں آج اس ایوان اور ان کو بھی وارننگ دیتا ہو، اگر اس بل پر اس طرح بحث کی گئی تو یہ ملک توڑنے کے مترادف ہوگا، ہم اس ملک کو توڑنے نہیں دیں گے۔

مزید پڑھیں: بلاول صاحب! 18ویں ترمیم کو بچانے کے لیے ضد اور نعرے کافی نہیں

ان کا کہنا تھا کہ اگر اپوزیشن نے مخالفت نہ کی تو جمعیت علمائے اسلام (ف) اس کی بھرپور مخالفت کرے گی، ہم گلیوں اور کوچوں میں اس کی مخالفت کریں گے۔

اس موقع پر تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان نے مداخلت کی کوشش کی تو مولانا عطاالرحمٰن نے کہا کہ آپ کو تو میں نے کچھ نہیں بولا، آپ لوگوں کو دیہاڑی پوری ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ میں کسی اور کے خلاف بات کر رہا ہو تو ان کو کیوں تکلیف ہورہی ہے، آج ان کی دیہاڑی اچھی لگ گئی ہے۔

علی محمد خان نے ان کی گفتگو کے درمیان میں بولنے کی کوشش کی تو جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما نے انہیں جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ ہوتے کون ہے بولنے والے بیچ میں، ہاں۔

اس موقع پر بیرسٹر سیف نے مولانا عطاالرحمٰن کی گفتگو پر انہیں ٹوکتے ہوئے کہا کہ آپ ملک دشمنوں کی زبان میں بات کر رہے اور جمعیت علمائے اسلام کے رہنما سے الفاظ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: 'حکومت اٹھارویں ترمیم ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی'

مولانا عطاالرحمٰن نے کہا کہ جی جب ہم اس بل کی مخالفت کریں گے تو دشمن ہی کھلائے گے لیکن آپ کو کیوں تکلیف ہورہی ہے۔

اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما رضا ربانی نے کہا کہ کشمیر میں یوم شہدا کی کال دی گئی ہے لیکن یوم شہدا کے برعکس پاکستان نے 20 مئی کو آرڈیننس جاری کیا۔

انہوں نے کہا کہ آرڈیننس بھارتی جاسوس کو سزا کے خلاف اپیل کرنے کا حق دینے سے متعلق ہے اور یہ آرڈیننس رات کے اندھیرے میں جاری کیا گیا اور اس آرڈیننس کو خفیہ رکھا گیا جبکہ آرڈیننس پارلیمان میں پیش نہیں کیا گیا۔

اس موقع پر سینیٹر جاوید عباسی نے پاکستان کمیشن آف انکوائری ترمیمی بل 2020 ایوان میں پیش کیا۔

جاوید عباسی نے کہا کہ ملک میں ہونے والی بعض تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ان رپورٹس کو خفیہ رکھا جاتا ہے، ان تحقیقاتی رپورٹس کو پبلک نہیں کیا جاتا، انکوائری کمیشن اگر پبلک نہیں ہوتی تو پارلیمان میں پیش کی جائے۔

مزید پڑھیں: 'صوبوں سے اختیارات واپس نہیں لینا چاہتے،این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلی ہونی چاہیے'

ان کا کہنا تھا کہ اگر رپورٹس میں کوئی حساس معلومات یا مواد ہے تو کم سے کم پارلیمان میں پیش کی جائیں اور ان رپورٹس کو ان کیمرہ اجلاس میں پیش کیا جائے۔

اس موقع پر بابر اعوان نے کہا کہ اس قانون میں گنجائش موجود ہے، کمیشن تجویز دے سکتا ہے کہ اس رپورٹ کو پبلک کیا جائے یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسی ہے کہ رپورٹس پبلک ہوں، رپورٹس ان کیمرہ نہیں بلکہ پبلک کی جائیں۔

بعد ازاں ایوان میں اس کے بعد دستور ترمیمی بل 2020 ایوان میں پیش کیا گیا اور اسے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔

پاکستان تحریک انصاف نے بل پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ بل پیش کرنے والے یا تو پارلیمانی نظام پر یقین نہیں رکھتے، پارلیمانی نظام کے تحت منی بل صرف نچلے ایوان سے منظوری ضروری ہوتی ہے، اگر یہ پارلیمانی نظام پر یقین نہیں رکھتے تو پھر صدارتی نظام لے آئیں۔

ولید اقبال کے صدارتی نظام سے متعلق بیان پر اپوزیشن نے ایوان میں احتجاج کیا جبکہ اپوزیشن نے بیرسٹر سیف کے بل کی مخالفت کی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا کہ پاکستان میں پارلیمان انڈر اٹیک ہے، این ایف سی ایوارڈ کی بات کی جا رہی ہے، یہ تو عوام کے ساتھ عمرانی معاہدہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نیب ترمیمی آرڈیننس پر حکومت، اپوزیشن کے مذاکرات جاری ہیں، شیخ رشید

انہوں نے کہا کہ عوام کے حقوق اور جمہوریت کے دل پر شب خون مارا جا رہا ہے، ذرا سی بات ہو تو صدارتی نظام پر بات کرنا شروع کی جاتی ہے۔

پیپلز پارٹی رہنما نے کہا کہ محصولات کا ٹارگٹ وفاق پورا نہیں کر پا رہا، پانچ ایف بی آر چیف تبدیل کیے گئے ہیں، اس وقت ملک کو معاشی طور پر صوبے چلا رہے ہیں اور وفاق پیچھے گرتا جا رہا ہے۔

جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ اس بل کو ملک کے لیے خطرناک تصور کرتا ہوں اور این ایف سی دستوری اسکیم پر خودکش حملہ نہ کریں۔