عدالت نے ٹرمپ کےخلاف 'انکشافات سے بھری کتاب' شائع کرنے کی اجازت دے دی

اپ ڈیٹ 15 جولائ 2020

ای میل

—فوٹو: دی گارجین
—فوٹو: دی گارجین

امریکا کی عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بھتیجی میری ٹرمپ کو اپنے چچا کے بارے میں چشم کشا انکشافات پر مشتمل کتاب کے بارے میں گفتگو کرنے اور اس کی اشاعت کی اجازت دے دی۔

واضح رہے کہ ٹرمپ خاندان نے کتاب کی 14 جولائی کو اشاعت روکنے کے لیے مقدمہ دائر کیا تھا۔

تصنیف بعنوان ’بہت زیادہ اور ہمیشہ ناکافی: کس طرح میرے خاندان نے دنیا کے سب سے خطرناک انسان کو تخلیق کیا‘ میں میری ٹرمپ نے اپنے چچا کو ایک دھوکے باز اور بدمعاش قرار دیا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ریاستی عدالت کے جج نے پبلشر سائمن اینڈ شسٹر کو کتاب کی اشاعت کے حق کی توثیق کردی۔

وائٹ ہاؤس نے کتاب میں کیے گئے دعوؤں کو پہلے ہی مسترد کردیا تھا تاہم کتاب کے کچھ اقتباسات امریکی میڈیا میں لیک ہوچکے ہیں۔

میری ٹرمپ کے وکیل نے کہا کہ ’عدالت نے عوامی نوعیت کے مسئلے پر ٹرمپ خاندان کی کتاب کے خلاف کوشش کو ناکارہ بنا دیا‘۔

یہ بھی پڑھیں: بھتیجی کے اپنے چچا ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں چشم کشا انکشافات

55 سالہ میری ٹرمپ کے خلاف اشاعت روکنے کی کوشش میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بھائی رابرٹ ٹرمپ نے مقدمہ دائر کیا۔

انہوں نے پٹیشن میں کہا تھا کہ میری ٹرمپ نے وراثت کے معاملے میں دو دہائی قبل رازداری کے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔

میری ٹرمپ نے کہا کہ آئندہ چند روز میں امریکی عوام ان کے اہم الفاظ پڑھ سکیں گے۔

'مجھے ٹرمپ کو نیچا دکھانا پڑا'

کتاب میں میری ٹرمپ نے بتایا کہ کس طرح انہوں نے نیویارک ٹائمز کو ٹیکس دستاویزات فراہم کیں جس نے ڈونلڈ ٹرمپ کی 1990 میں مشتبہ ٹیکس اسکیم سے متعلق 140 ہزار الفاظ پر مشتمل تحقیقاتی مضمون شائع کیا۔

میری ٹرمپ نے لکھا کہ ان سے صحافیوں نے 2017 میں ان کے گھر پر رابطہ کیا اور ابتدا میں وہ ان کی مدد کرنے سے گریزاں تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے نیو یارک ٹائمز کے صحافیوں سے رابطہ کرنے سے قبل ایک ماہ انتظار کیا اور لا فرم سے قانونی دستاویزات کے 19 ڈبے اسمگل کرنے کے بعد انہیں صحافیوں کو فراہم کیا اور اس لمحے کو ایسا لمحہ قرار دیا جس میں کئی مہینوں بعد انہیں بے پناہ خوشی محسوس ہوئی۔

میری ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میرے لیے شامی مہاجرین کی مدد کرنے والی تنظیم کے لیے رضاکارانہ طور پر یہ کرنا کافی نہیں تھا اور ’مجھے ڈونلڈ کو نیچا دکھانا پڑا'۔

یونیورسٹی داخلے میں دھوکا

میری ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے چچا نے ایک دوست کو اپنی جگہ ایس اے ٹی ٹیسٹ دینے کے لیے پیسوں کی ادائیگی کی جو یونیورسٹی میں داخلے کا امتحان ہوتا ہے، کیوں کہ انہیں فکر تھی کہ ان کے گریڈ اوسط ہیں اور وہ اپنی جماعت میں سب سے اوپر سے دور رہیں گے اور ان کی قابل قبول ہونے کی کوششوں میں رکاوٹ بنیں گے۔

میری ٹرمپ نے لکھا تھا کہ انہوں نے ’اچھے ٹیسٹ دینے کے حوالے سے شہرت رکھنے والے ایک ذہین بچے کی خدمات حاصل کیں تاکہ وہ ان کی جگہ ٹیسٹ دے سکے اور ڈونلڈ ٹرمپ، جن کے پاس کبھی پیسوں کی کمی نہیں تھی، نے اپنے دوست کو ٹھیک ٹھاک پیسے دیے‘۔

وائٹ ہاؤس نے امریکی صدر کی بھتیجی کے اس دعوے سے بھی انکار کیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے یونیورسٹی میں داخلے کے لیے دھوکے کا سہارا لیا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا: صدارتی امیدوار نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ’صدر ٹوئٹی‘ کا لقب دے دیا

ڈونلڈ ٹرمپ کو ان کے والد نے تباہ کیا

میری ٹرمپ نے ٹرمپ خاندان کے مبینہ طور پر ناکارہ ہونے کا الزام ٹرمپ خاندان کے سرپرست فریڈ ٹرمپ سینئر پر لگایا اور کہا کہ فریڈ ٹرمپ سینئر نے ڈونلڈ ٹرمپ کی نشوونما کرنے اور انسانی جذبات کے تجربہ کرنے کی صلاحیت میں مداخلت کرکے انہیں تباہ کردیا۔

انہوں نے کہا کہ ’نرمی فریڈ ٹرمپ سینئر کے لیے ناقابل تصور چیز تھی اور جب میری کے والد فریڈ ان سے معافی مانگتے وہ شدید غصے میں آجاتے‘۔

خواتین کے حوالے سے مسئلہ

میری ٹرمپ لکھتی ہیں کہ ان کے چچا نے ان سے ایک کتاب لکھنے کو کہا تھا جس کا نام 'آرٹ آف دی کم بیک' رکھنا تھا لیکن کتاب کے حوالے سے انٹرویو دینے سے انکار کردیا، تاہم ایک دن ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی بھتیجی کو ایک ریکارڈنگ کا ٹرانسکرپٹ فراہم کیا جس میں انہوں نے ان خواتین کی بے عزتی کی تھی جنہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کرنے سے انکار کیا۔

میری کا کہنا تھا کہ جو خواتین ان سے ملنے سے انکار کرتیں وہ ان کے لیے اچانک سب سے بُری، بدصورت اور موٹی بھدی ہوجاتی تھیں‘

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعد میں مجھے کسی نے نوکری سے نکال دیا اور میرے کام کا معاوضہ بھی نہیں دیا گیا۔

میری ٹرمپ نے اپنی کتاب میں یہ بھی لکھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کے جسم کے بارے میں اس وقت قابل اعتراض تبصرہ کیا جب وہ 29 برس کی تھیں حالانکہ وہ ان کی بھتیجی تھیں اور اس وقت ٹرمپ کی دوسری شادی ہوئی تھی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی موجودہ اہلیہ میلانیا کو بتایا کہ ان کی بھتیجی کو یونیورسٹی سے نکال دیا گیا تھا اور جب انہیں کتاب لکھنے کی نوکری دی گئی وہ منشیات لیتی تھیں، میری ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ انہوں نے کالج چھوڑ دیا تھا لیکن کبھی منشیات استعمال نہیں کیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کے چچا خود کو نجات دہندہ پیش کرنے کے لیے کہانیاں گھڑتے ہیں اور وہ کہانی کسی دوسرے سے زیادہ ان کے اپنے فائدے کے لیے ہوتی ہے۔

میری ٹرمپ کون ہیں؟

55 سالہ میری ٹرمپ امریکی صدر کے بڑے بھائی فریڈ ٹرمپ جونیئر کی بیٹی ہیں جو 1981 میں 42 سال کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔

فریڈ ٹرمپ جونیئر اپنی زندگی میں کثرت شراب نوشی کے مسائل کا شکار رہے اور ان کی قبل از وقت موت شراب نوشی کے باعث دل کے دورے سے ہوئی۔

گزشتہ برس واشنگٹن پوسٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر نے اپنے بھائی پر خاندانی بزنس میں حصہ لینے کے لیے دباؤ ڈالنے پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔

میری ٹرمپ اپنے چچا کے صدر بننے کے بعد سے گمنامی میں رہ رہی تھیں حالانکہ ماضی میں وہ ان کی سخت ناقد رہی ہیں اور 2016 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخاب میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اسے اپنی زندگی کا بدترین تجربہ قرار دیا تھا۔