چین میں بدترین سیلابی صورتحال، 33 دریا اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے

اپ ڈیٹ 14 جولائ 2020

ای میل

چین کے جنوب میں واقع خودمختار علاقے گوانگ ژی زھوانگ میں سیلابی صورتحال کا ایک منظر—
چین کے جنوب میں واقع خودمختار علاقے گوانگ ژی زھوانگ میں سیلابی صورتحال کا ایک منظر—

چین کو شدید بارشوں کے باعث 30 سال میں آنے والے بدترین سیلاب کا سامنا ہے جس کے سبب ملک کے 33 دریا تاریخ میں پہلی مرتبہ اپنی بلند ترین سطح تک پہنچ چکے ہیں اور بارش و سیلابی صورتحال سے کم از کم 141 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق چین کے آبی وسائل کے نائب وزیر یے جن چن نے پیر کو میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ یکم جون کو بارشوں کا سیزن شروع ہونے کے بعد 433 دریا کے ساتھ ساتھ ڈونگ ٹنگ، تائی اور پوینگ جیسی اہم جھیلیں بھی اپنی خطرناک سطح سے زیادہ بلند ہو چکی ہیں۔

مزید پڑھیں: چین کا دنگ کردینے والا تعمیراتی منصوبہ مکمل

ان کا کہنا تھا کہ جولائی کے اختتام سے اگست تک سیلابی کیفیت کم ہونے کا امکان ہے البتہ ینگتزے اور تائی جھیل کی صورتحال میں زیادہ کمی نہیں آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ چین کے وسطی علاقوں میں تباہی مچانے والا بارش کا یہ سیزن اب ملک کے شمالی علاقے کا رخ کرے گا، یہ 1961 میں ریکارڈ مرتب کیے جانے کے بعد سے چین کو اس وقت اوسطاً سب سے زیادہ بارشوں کا سامنا ہے۔

سرکاری نیوز ایجنسی ژن ہوا کے مطابق ملک کے سب سے بڑے دریا ینگتزے 28.77 میٹر کی بلند ترین سطح سے کم ہو کر 28.74 میٹر پر آ گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چین کا ایک اور تعمیراتی عجوبہ عوام کے لیے کھول دیا گیا

وزارت ایمرجنسی نے گزشتہ جمعے اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ملک میں اب تک بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں 141 افراد ہلاک یا لاپتا ہوئے ہیں اور چین کو 8.57 ارب ڈالر کے نقصان کا اندیشہ ہے۔

سیلاب سے متعلق ریسکیو حکام نے کہا کہ ژیاننگ، جیو جیانگ اور نین چینگ جیسی آبادیوں میں پہلے ہی وارننگ جاری کردی گئی جبکہ پوینگ جھیل میں بھی ریڈ الرٹ جاری کردیا گیا، جہاں پانی کی سطح 3 میٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔

سیلاب سے متاثرہ کچھ علاقوں میں فوج اور ریسکیو اداروں نے دریا کے کنارے پر ریت کے تھیلے لگائے ہیں تاکہ نقصان میں کمی کی جا سکے اور ریسکیو اداروں کے نمائندے کشتیوں میں متاثرہ افراد تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

وزارت آبی وسائل کے اعدادوشمار کے مطابق ہم نے جو وارننگ جاری کی تھی، اس سطح کی 70 مرتبہ خلاف ورزی ہو چکی ہے اور 3 ریزروائرز میں پانی کی سطح وارننگ کی سطح سے بھی چھ میٹر بلند ہو کر 153.2 میٹرز تک پہنچ گئی ہے۔

مزید پڑھیں: چین سے سرحدی تنازع: بھارت نے ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش مسترد کردی

چین کے محکمہ موسمیات کا کہنا تھا کہ جنوب مغربی علاقوں میں بارش میں وقتی طور پر کچھ کمی آ سکتی ہے البتہ چین کے وسطی اور مشرقی حصوں میں طوفان و سیلاب کے اثرات برقرار رہیں گے۔

چین میں خطرہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ 1998 کے بدترین سیلاب کی طرز پر چین کو ایک مرتبہ پھر بحرانی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لیکن حکام کا کہنا تھا کہ یہ خطرہ ٹل گیا ہے اور اس کا فی الحال کوئی امکان نہیں۔

سیلاب سے تباہی

چین میں اب تک سیلاب سے 3 کروڑ 70 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں، اس عرصے میں 141افراد ہلاک یا لاپتا ہوئے جبکہ 28 ہزار گھر تباہ ہوئے۔

چین کے 27 صوبائی اضلاع میں سیلاب کے باعث 2 لاکھ 24ہزار 600 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جا چکا ہے۔

دوسری جانب چین کے 'تھری گورجز ڈیم' کی اہلیت پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں جسے دریائے ینگتزے میں سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بنایا گیا تھا تاہم موجودہ سیلابی صورتحال کے بعد اس کی دوبارہ سے جانچ شروع کردی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چین کا ایک اور دنگ کردینے والا منصوبہ

ماہرین کا کہناتھا کہ مذکورہ بند وہ کام کرنے سے قاصر ہے جس کے لیے اسے تعمیر کیا گیا تھا جس کا ثبوت یہ کہ ینگتزے اور اس سے متعلقہ جھیلوں میں پانی کی سطح بلند ہوتی جا رہی ہے۔

جغرافیہ کے ماہر ڈیوڈ شینک مین نے کہا کہ 2 ہزار 297 ریزروائرز میں 64.7 ارب کیوبک میٹرز سیلابی پانی محفوظ ہو چکا ہے جس میں سے 3.9 ارب کیوبک میٹرز تھری گورجز میں محفوظ ہوا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ محفوظ شدہ پانی سے 88 فیصد ریزروائر بھر چکے ہیں اور اب اس میں زیادہ گنجائش باقی نہیں۔