ایران نے بھارت کو چاہ بہار ریلوے منصوبے سے الگ کردیا

اپ ڈیٹ 14 جولائ 2020

ای میل

افغانستان کی سرحد سے متصل اس منصوبے کے لیے ایران نے نئی دہلی سے 4 سال قبل معاہدہ کیا تھا۔ فائل فوٹو:اے ایف پی
افغانستان کی سرحد سے متصل اس منصوبے کے لیے ایران نے نئی دہلی سے 4 سال قبل معاہدہ کیا تھا۔ فائل فوٹو:اے ایف پی

ایرانی حکومت نے چاہ بہار بندرگاہ سے زاہدان تک ریلوے منصوبے کو خود سے تعمیر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

واضح رہے کہ افغانستان کی سرحد سے متصل اس منصوبے کے لیے ایران نے نئی دہلی سے 4 سال قبل معاہدہ کیا تھا۔

ایرانی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ 628 کلومیٹر طویل ریلوے لائن کی تعمیر کے اس منصوبے کے لیے بھارت کی جانب سے فنڈز میں تاخیر، اسے کروڑوں ڈالر کے اس منصوبے سے الگ کرنے کی وجہ بنی۔

بھارتی خبر رساں ادارے دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق ایران، بھارت سے مالی معاونت پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے ایرانی نیشنل ڈیولپمنٹ فنڈ میں سے 40 کروڑ ڈالر اس منصوبے کے لیے استعمال کرے گا۔

ریلوے منصوبہ، جسے مارچ 2022 تک مکمل ہونا ہے، کے تحت پٹڑی لگانے کے مرحلے کا ایرانی وزیر ٹرانسپورٹ محمد اسلامی نے گزشتہ ہفتے افتتاح کیا تھا۔

مزید پڑھیں: ایران پر امریکی پابندیوں سے چاہ بہار بندرگاہ منصوبہ بھی متاثر

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب چین، ایران کے ساتھ 400 ارب ڈالر کے اسٹریٹجک شراکت داری کے منصوبے کو حتمی شکل دے رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ امور اور بھارتی ریلوے کنسٹرکشنز لمیٹڈ (ارکون) نے معاملے پر رائے دینے سے انکار کردیا۔

تاہم جب سوال کیا گیا کہ کیا مفاہمتی یادداشت منسوخ ہوگئی ہے کیونکہ منصوبہ اس کے بغیر ہی شروع ہوگیا ہے تو بھارتی حکام کا کہنا تھا کہ 'بھارت اس میں بعد میں بھی شمولیت اختیار کرسکتا ہے'۔

مزید پڑھیں: چاہ بہار سے پاکستان کو کتنا نقصان ہوگا؟

بھارت اور ایران کے درمیان معاہدہ

ایرانی ریلویز اور بھارت کی سرکاری کمپنی ارکون کے درمیان یہ ریلوے منصوبہ بھارت کو افغانستان اور وسطی ایشیا تک کا متبادل راستہ فراہم کرنے کے لیے تھا۔

مئی 2016 میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی ایرانی صدر حسن روحانی اور افغانستان کے صدر اشرف غنی کے ساتھ چاہ بہار معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے تہران گئے تھے جہاں ارکون نے ایرانی وزارت ریلوے کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

مفاہمتی یادداشت کا مقصد 'چاہ بہار سے زاہدان تک ریلوے لائنز کی تعمیر تھا جو بھارت، ایران اور افغانستان کے مابین سہ فریقی معاہدے میں راہداری اور ٹرانسپورٹ راہداری کے حصے کے طور پر تعمیر ہونا تھا'۔

یہ بھی پڑھیں: تہران اور نئی دہلی کا 'چاہ بہار بندرگاہ' منصوبہ جلد مکمل کرنے پر اتفاق

ارکون نے اس منصوبے کے لیے تمام خدمات، سپر اسٹرکچر کام اور مالی اعانت (تقریبا ایک ارب 60 کروڑ ڈالر) فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

تاہم ارکون انجینئرز کے سائٹ کے متعدد مرتبہ دورے اور ایرانی ریلوے کی تیاریوں کے باوجود بھارت نے کبھی بھی اس کام کا آغاز نہیں کیا جو بظاہر امریکی پابندیوں کے خدشے کے سبب تھا۔

امریکی پابندیوں کی وجہ سے بھارت پہلے ہی ایران سے اپنے تیل کی درآمد کو ختم کر چکا ہے۔

ایران کی اس بندرگارہ کو پاکستان کی گوادر بندرگاہ کے مقابلے میں تعمیر کیا جانا تھا۔