پاکستان میں کووڈ-19 کے حوالے سے غیر سنجیدہ رویے پر تشویش کا اظہار

اپ ڈیٹ 29 جولائ 2020

ای میل

تحقیق کے مطابق پاکستان میں ہر چھ میں سے ایک خاندان کو یقین ہے کہ وہ کووڈ-19 کے خطرے سے محفوظ ہے — فائل فوٹو: رائٹرز
تحقیق کے مطابق پاکستان میں ہر چھ میں سے ایک خاندان کو یقین ہے کہ وہ کووڈ-19 کے خطرے سے محفوظ ہے — فائل فوٹو: رائٹرز

پاکستان میں نجی یونیورسٹی کی تحقیق میں کورونا وائرس کے حوالے سے عوام کے غیر سنجیدہ رویے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہر 6 میں سے ایک خاندان کو یقین ہے کہ وہ کووڈ-19 کے خطرے سے محفوظ ہے۔

آغا خان یونیورسٹی اور چائنیز یونیورسٹی آف ہانگ کانگ نے ایک مشترکہ تحقیق کی جس میں مئی 2020 کے پہلے دو ہفتوں میں ایک آن لائن سروے کیا گیا تھا جس میں ایک ہزار 406 بالغ افراد نے حصہ لیا جس کے مطابق پاکستان کے ہر 6 میں سے ایک خاندان کا یہ ماننا ہے کہ وہ کووڈ-19 کے خطرے سے محفوظ ہے لہٰذا انہیں بلاوجہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت نہیں۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس سے دل کو ہارٹ اٹیک جیسا نقصان پہنچنے کا انکشاف

واضح رہے کہ ہانگ کانگ میں ابھی سی انداز کا ایک سروے کیا گیا اور اس کے نتائج کا پاکستان میں کیے جانے والے سروے سے موازنہ کیا گیا۔

کووڈ-19حکمت عملی کے حوالے سے ہانگ کانگ کو ایک کامیاب ملک سمجھا جا رہا ہے جہاں گزشتہ 6 ماہ میں صرف 2 ہزار 770 کیسز سامنے آئے اور 22 اموات رپورٹ ہوئیں۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ہانگ کانگ چین کا حصہ ہے اور عالمی وبا کے دوران وہاں لاک ڈاﺅن نہیں کیا گیا۔

البتہ اس کے برعکس مئی 2020 میں پاکستان میں ہر ایک لاکھ میں سے 137 افراد میں انفیکشن کی تشخیص ہوئی تھی) یہ تعداد ہانگ کانگ میں 33 تھی (جبکہ پاکستان میں ایک لاکھ افراد میں اموات کی شرح ہانگ کانگ کے مقابلے میں 3 گنا زیادہ یعنی 21 اموات تھی حالانکہ پاکستان میں ملک گیر لاک ڈاﺅن کی حکمت عملی بھی اپنائی گئی)۔

یہ بھی پڑھیں: ابوظبی میں عیدالاضحیٰ پر تقریب منعقد کرنے پر 10ہزار درھم جرمانہ عائد

آغا خان یونیورسٹی کے محکمہ کمیونٹی ہیلتھ سائنسز کے تحقیق کاروں کے مطابق اگر پاکستان اور ہانگ کانگ میں اس عالمی وبا کے دوران خطرے کے تصورات، ذہنی دباﺅ اور مقامی آبادی کے ردعمل کا موازنہ کیا جائے تو یہ جانچنے میں مدد ملے گی کہ پاکستان اس مرض کے پھیلاﺅ کو روکنے کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے یا نہیں۔

مطالعے سے معلوم ہوا کہ ہانگ کانگ کے شہریوں کے مقابلے میں پاکستانی شہریوں میں کووڈ-19 کی پیچیدگیوں کے متعلق تشویش نسبتاً کم پائی گئی اور وہ یہ محسوس کرتے تھے کہ وہ وائرس کے حملے میں محفوظ رہ پائیں گے۔

اس بات کا اندازہ ایسے لگایا جا سکتا ہے کہ ہانگ کانگ کے رہائشی 97 افراد نے کووڈ-19 کی علامات کو شدید یا شدید ترین گردانا جبکہ یہ پاکستان میں کیے جانے والے سروے میں یہ شرح محض 14 فیصد تھی۔

اسی طرح ہر دس میں سے7 پاکستانی افراد (70 فیصد) نے اس یقین کا اظہار کیا کہ ان کے مرض سے محفوظ رہنے یا بحالی کے زیادہ یا بہت زیادہ امکانات ہیں جبکہ یہ شرح ہانگ کانگ میں 36 فیصد تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ملک فرقہ وارانہ تصادم کا متحمل نہیں ہوسکتا، مفتی منیب

کووڈ-19 کا شکار ہونے کے خطرات اور مرض کی پیچیدگیوں کا خوف افراد کو حفاظتی یا احتیاطی تدابیر اپنانے پر راغب کرتا ہے) مثلاً چہرہ ماسک سے ڈھانپنا شامل ہے اور ہانک کانگ کے رہائشیوں نے ان احتیاطی تدابیر کو اپنایا۔

پاکستان میں احتیاطی تدابیر اور کووڈ-19 کی تشخیص کے لیے اہم علامات سے متعلق معلومات کے حصول کا رجحان بھی کم دیکھا گیا جبکہ ہانگ کانگ میں صورتحال اس سے مختلف تھی۔

مطالعے کی بنیادی تحقیق کار اور آغا خان یونیورسٹی میں ریسرچ کی ایسوسی ایٹ وائس پرووسٹ پروفیسر فوزیہ ربانی کے مطابق 'احتیاطی تدابیر اور مرض کا شکار ہونے کے متعلق تعلیم یافتہ پاکستانیوں کا غیر سنجیدہ رویہ تشویشناک ہے، خصوصاً عید کی چھٹیوں کے دوران ہمیں احتیاطی تدابیر کے حوالے سے زیادہ محتاط اور چوکس ہونے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اس مرض سے جنگ میں کامیاب ہو سکیں'۔

تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ہانگ کانگ کے شہریوں کے مقابلے میں پاکستانی شہری حکومت پر زیادہ اعتماد کرتے ہیں اور ہر دس میں سے آٹھ پاکستانی افراد (79 فیصد افراد) نے حکومتی معلومات کو بہت زیادہ قابل اعتماد بتایا، حکومتی معلومات پر اعتماد کی شرح ہانگ کانگ میں محض 16 فیصد پائی گئی۔

پروفیسر ربانی نے کہا کہ ہانگ کانگ میں شہریوں نے عالمی وبا کے دوران اپنی صحت کی ذمہ داری خود اٹھائی کیونکہ انہیں حکومت پر اعتماد نہیں تھا البتہ پاکستانی خوش قسمت ہیں کہ حکومت کی تیز اور متحرک تحریک کی بنا پر انہیں ماسک کے استعمال اور سماجی فاصلے سے متعلق آگاہی حاصل ہوئی تاہم افسوس کی بات ہے کہ وہ ان احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

تحقیق کاروں نے جمع کیے گئے اعدادوشمار کا صنف کی بنیاد پر بھی جائزہ لیا اور دیکھا کہ عالمی وبا کے دوران پاکستانی مردوں اور خواتین کے تصورات اور رویوں میں کیا فرق پایا گیا۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد سے لاہور منتقل کی جانے والی شیرنی کی دورانِ سفر موت

عمومی طور پر پاکستانی مردوں میں کووڈ-19سے منسلک خطرات/خوف کی شرح خواتین کے مقابلے میں کم پائی گئی اور حکومت کی جانب سے لاک ڈاﺅن کے اعلان کے باوجود صرف 71 فیصد مردوں نے گھر سے باہر جانے سے احتراز کیا جبکہ خواتین میں یہ شرح 87 فیصد رہی۔

اسی طرح لاک ڈاؤن کے دوران 62 فیصد خواتین نے ذہنی دباﺅ کی شکایت کی جبکہ مردوں میں یہ شرح کم (50فیصد) رہی، مردوں نے عالمی وبا کے متعلق معلومات کے لیے اہل خانہ اور دوستوں کو ترجیح دی۔

تحقیق کاروں نے بتایا کہ دونوں ممالک میں ہر دس میں سے سات افراد نے کلینک اور ہسپتال جانے میں ہچکچاہٹ محسوس کی اور ڈاکٹرز کے مطابق ایسے افراد جو غیر متعدی امراض کا شکار افراد کو باقاعدگی سے علاج اور دیکھ بھال کو یقینی بنانا چاہیے اور انہیں تمام تر احتیاطی تدابیر کے ساتھ ہسپتال یا کلینک جانا چاہیے۔