کورونا کی وبا کے باعث ’مولان‘ کو آن لائن ریلیز کرنے کا اعلان

ای میل

فلم کو 4 ستمبر کو ریلیز کیا جائے گا—اسکرین شاٹ
فلم کو 4 ستمبر کو ریلیز کیا جائے گا—اسکرین شاٹ

دنیا بھر میں دسمبر 2019 سے پھیلی کورونا کی وبا کے باعث جہاں مارچ 2020 سے سینما ہالز بند ہیں، وہیں حال ہی میں ہولی وڈ کے معروف پروڈکشن ہاؤس وارنر برادرز نے فلم ’ٹینیٹ‘ کو 26 اگست سے دنیا بھر میں ریلیز کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اگرچہ تاحال دنیا کے متعدد ممالک میں جزوی طرح لاک ڈاؤن نافذ ہے اور کئی ممالک میں تاحال سینما ہالز بند ہیں، لیکن اس باوجود وارنر برادرز نے ’ٹینیٹ‘ کو رواں ماہ کے آخر سے سلسلسہ وار دنیا کے 70 ممالک میں ریلیز کرنے کا اعلان کیا تھا۔

وارنر برادرز کے بر عکس ڈزنی نے اپنی آنے والی میگا بجٹ لائیو ایکشن فلم ’مولان‘ کو بڑے پردے پر ریلیز کرنے کے بجائے آن لائن ریلیز کرنے کا اعلان کردیا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ڈزنی اسٹوڈیو کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) نے تصدیق کی کہ ’مولان‘ کو آئندہ ماہ 4 ستمبر کو ویب اسٹریمنگ ڈزنی پلس پر ریلیز کیا جائے گا۔

اداکارہ لیویفائے مرکزی کردار میں دکھائی دیں گی—اسکرین شاٹ
اداکارہ لیویفائے مرکزی کردار میں دکھائی دیں گی—اسکرین شاٹ

ڈزنی پلس ویب سائٹ کمپنی کی اپنی سبسکرپشن ویب سائٹ ہے، جہاں پر اسٹوڈیو کی کئی فلمیں ریلیز کی جا چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: چینی جنگجو لڑکی ’مولان‘ کی تلوار بازی دیکھ کر دنیا دنگ

تاہم یہ پہلا موقع ہوگا کہ ڈزنی کی کسی میگا بجٹ فلم کو براہ راست ویب سائٹ پر ریلیز کیا جائے گا۔

ڈزنی پلس ویب اسٹریمنگ ویب سائٹ متعدد ممالک میں سروس فراہم نہیں کرتی اور کمپنی کے مطابق جن ممالک میں ویب سائٹ نہیں چلتی، وہاں بعد میں فلم کو سینما ہالز میں ریلیز کیا جائے گا۔

ڈزنی نےجہاں ’مولان‘ کو ویب اسٹریمنگ ویب سائٹ پر ریلیز کرنے کا اعلان کردیا، وہیں کمپنی نے فلم کو جاری کرنے پر صارفین سے تقریبا 29 ڈالر اضافی فیس بھی لینے کا اعلان کردیا۔

ڈزنی پلس پر ’مولان‘ کو دیکھنے والے صارفین اب 29 امریکی ڈالر یعنی پاکستانی تقریبا 5 ہزار روپے اضافی فیس ادا کریں گے۔

مولان چینی اداکارہ لیویفائے کی پہلی بڑی ہولی وڈ فلم ہوگی—فائل فوٹو: فیس بک
مولان چینی اداکارہ لیویفائے کی پہلی بڑی ہولی وڈ فلم ہوگی—فائل فوٹو: فیس بک

’مولان‘ کو ابتدائی طور پر رواں برس مارچ میں ریلیز کرنے کا اعلان کیا گیا تھا مگر کورونا کی وبا کے باعث اس کی نمائش جولائی تک ملتوی کردی گئی تھی۔

تاہم دنیا بھر میں کورونا کے کیسز میں اضافے کے باعث ایک بار پھر ’مولان‘ کی ریلیز کی نئی تاریخ کا اعلان کیا گیا تھا اور پھر چوتھی بار بھی فلم کی نئی تاریخ کا اعلان کرتے ہوئے اسے اگست میں ریلیز کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

لیکن دنیا بھر میں کورونا کے کیسز کم نہ ہونے کے باعث جولائی کے آخر میں ہی ڈزنی نے ’مولان‘ کو غیر معینہ مدت تک ریلیز نہ کرنے کا اعلان کیا تھا اور اب کمپنی نے فلم کو آن لائن ریلیز کرنے کا اعلان کردیا۔

’مولان‘ فلم دراصل 1998 میں ریلیز ہونے والی فلم ’مولان‘ کا ریمیک ہے اور یہ فلم چین کی جنگجو خاتون کی بہادری کے گرد گھومتی ہے۔

مزید پڑھیں: کمزور سے بہادر بننے والی خوبرو چینی لڑکی ’مولان‘

ڈزنی اسٹوڈیو نے فلم بنانے کا اعلان 2016 میں کیا تھا، تاہم ڈزنی اسٹوڈیو کو فلم کی ہیروئن ڈھونڈنے میں سخت مشکلات درپیش آئیں۔

ڈزنی اسٹوڈیو نے ہیروئن کو دنیا کے پانچ بر اعظموں اور ایک ہزار لڑکیوں کے اوڈیشن کے بعد چینی اداکارہ لیو یفائے کو مرکزی کردار کے لیے منتخب کیا تھا۔

مولان‘ لائیو ایکشن کی ہدایات نکی کیرو نے دی ہیں جب کہ اس کی کہانی رک جفا، امنڈا سلور، ایلزبیتھ مارٹن اور لارین ہارنک کی لکھی گئی تاریخی نظم سے لی گئی ہے۔

فلم کی کہانی ’مولان‘ نامی چینی جنگجو لڑکی کے گرد گھومتی ہے، جو چین کی حقیقی جنگجو خاتون تھیں۔

فلم کی کہانی پانچویں صدی میں چین کی مارشل آرٹ کی ماہر اور جنگجو خاتون ’ہوا مولان‘ کی زندگی کے گرد گھومتی ہے، جنہوں نے 25 سال تک مختلف جنگیں لڑیں۔

فلم کا ٹریلر گزشتہ برس جاری کیا گیا تھا—اسکرین شاٹ
فلم کا ٹریلر گزشتہ برس جاری کیا گیا تھا—اسکرین شاٹ

ہوا مولان سے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ چینی مارشل آرٹ کے مختلف اسٹائل کی ماہر تھیں۔

جنگجو خاتون کا کردار چینی اداکارہ لیویفائے نے ادا کیا ہے، فلم کا ٹریلر گزشتہ برس ہی جاری کیا گیا تھا۔

فلم کے ٹریلر میں چینی اداکارہ لیو یفائے کو چینی جنگجو لڑکی کے کردار میں ڈھلتے ہوئے اور دشمنوں کو تلواروں سے زیر کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

ٹریلر میں دکھایا گیا ہے کہ ہوا مولان کی گھر میں ہی ایسی تربیت کی جاتی ہے کہ وہ جوان ہوکر جنگجو بن جاتی ہیں اور حریفوں کو سبق سکھاتی ہیں۔