کشمیر پر حکومت کے پاس تقریر، تحریر اور ٹیلی فون کے علاوہ کچھ نہیں، شہباز شریف

اپ ڈیٹ 06 اگست 2020

ای میل

وزیر خارجہ نے لمبی چوڑی قرارداد پیش کی اور مودی ہٹلر ثانی کے مظالم کی لفاظی کی حد تک مذمت کی، شہباز شریف — فوٹو: ڈان نیوز
وزیر خارجہ نے لمبی چوڑی قرارداد پیش کی اور مودی ہٹلر ثانی کے مظالم کی لفاظی کی حد تک مذمت کی، شہباز شریف — فوٹو: ڈان نیوز

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ آج کشمیر پر خاموشی ہے، آج کشمیر ایشو پر مایوسی پھیل رہی ہے اور اس معاملے پر حکومت کے پاس تقریر، تحریر اور ٹیلی فون کے علاوہ کچھ نہیں۔

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قومی اسمبلی کے مہمانوں کی گیلریز کو بھی ہال کا درجہ دیا گیا۔

اراکین پارلیمنٹ نے گیلریز میں بیٹھ کر کارروائی میں حصہ لیا، فیصلہ کورونا وائرس کے پیش نظر کیا گیا تھا۔

مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ وزیر خارجہ نے لمبی چوڑی قرارداد پیش کی اور مودی ہٹلر ثانی کے مظالم کی لفاظی کی حد تک مذمت کی۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جن ہزاروں لوگوں نے جام شہادت نوش کیا ان کے خون سے وادی سرخ ہو چکی ہے، خواتین کے آنچل نوچے جارہے ہیں، بزرگوں اور بچوں کو شہید کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 70 سال سے لاک ڈاؤن تو تھا لیکن ایک سال سے کشمیری بدترین لاک ڈاؤن کا شکار ہیں، تاہم کشمیر پر حکومت کے پاس تقریر، تحریر اور ٹیلی فون کے علاوہ کچھ نہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ آج کشمیر پر خاموشی ہے، آج کشمیر ایشو پر مایوسی پھیل رہی ہے، کشمیر پر بات نہ کرنے دینے کا مطلب کشمیر کاز نقصان پہنچانا ہے، ایک طرف عمران خان ارطغرل دیکھنے کا کہتے ہیں دوسری طرف مودی کی کال کا انتظار کرتے ہیں۔

ایک سال میں مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر رکارڈ اجاگر ہوا، شاہ محمود

— فوٹو: ڈان نیوز
— فوٹو: ڈان نیوز

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں کہا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے آخری اجلاس میں عالمی برادری نے پاکستان کی کاوشوں کو سراہا لیکن انہیں پاکستان سے کچھ مزئد ترامیم درکار تھیں، ترامیم کے لیے پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کے کردار کا اعتراف کرتا ہوں، آپ نے یہ حکومت کے لیے نہیں پاکستان کے لیے کیا۔

انہوں نے کہا کہ دونوں بڑی جماعتوں نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جس پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں، کاش دیگر اپوزیشن جماعتیں بھی ایسا ہی رویہ دکھاتیں جو دو بڑی جماعتوں نے دکھایا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کی شرائط پر عمل کرنا پاکستان کی مجبوری ہے، پاکستان کا گرے لسٹ میں ہونا ورثے میں ملا جبکہ بھارت پاکستان کو بلیک لسٹ میں دھکیلنا چاہتا تھا۔

میوچوئل لیگل اسسٹنس بل سے متعلق انہوں نے کہا کہ بل کو اسٹریم رول نہیں لیا گیا بلکہ گھنٹوں ایک ایک جملے پر مشاورت کی گئی، جن شقوں پر اتفاق رائے نہیں تھا وہ پیدا کیا، ہم نے اتفا رائے کیا اسٹریم رول تب ہوتا اگر اپنا فیصلہ اپوزیشن پر مسلط کرتے۔

کشمیر کے حوالے سے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومتیں مسئلہ کشمیر پر ہمیشہ یکسوئی دکھاتی رہی ہیں، متفقہ قرارداد کی منظوری کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے خاص پیغام تھا، اظہار پر کوئی پابندی نہیں ہے لیکن ان دو معاملات پر کارروائی پر ہم آہنگی تھی، اس کے بعد جو قائدین بات کرنا چاہتے وہ کر سکتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل میں کوئی ایک ملک بھی بحث کو بلاک کر سکتا تھا، رکن ممالک پاکستان کی جیب میں نہیں ہیں ان سب کے اپنے مفادات ہیں، چین کئی ممالک کو کھٹکتا ہے اس کے باجود مسئلہ کشمیر زیر بحث آیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت نہیں چاہتا تھا کہ مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں زیر بحث آئے، ایک سال میں مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر رکارڈ اجاگر ہوا ہے، یورپی یونین میں بھی موجودہ حکومت میں مسئلہ کشمیر زیر بحث لایا گیا اور بھارت کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر کٹہرے میں کھڑا کیا گیا، جبکہ برطانوی دارالعوام میں مسئلہ کشمیر کو زیر بحث لایا گیا۔

اپوزیشن ارکان نے وزیر خارجہ کی طویل تقریر پر احتجاج کیا جس پر شاہ محمود قریشی نے برہمی ہوتے ہوئے کہا کہ اگر میں بات نہیں کروں گا تو آپ بھی بات نہیں کر سکیں گے۔

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ وہ حریت قیادت بھی اب پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے جو نئی دلی کے تابع تھی، ایل او سی کی خلاف ورزیوں پر اعلیٰ سطح کے فورمز پر مراسلے بھیج کر احتجاج رکارڈ کرایا ہے، صرف کورونا کے چار ماہ میں 40 وزرائے خارجہ سے مسئلہ کشمیر اور ایل او سی پر بات کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے سرحد کے ساتھ پاکستانی خاندانوں کے لیے بنکرز بنانے کا منصوبہ بنایا ہے۔

یہ وزیر اعظم ہر جنگ میں بزدل رہا ہے، بلاول بھٹو زرداری

— فوٹو: ڈان نیوز
— فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بل کی منظوری سے قبل تقاریر کا موقع دیا جاتا تو بہتر تھا، آج کی حکومت تقریر کر کے خوش ہوتی ہے، مودی کے کشمیر پر قبضے کو ایک سال گزر چکا ہے آج تک پاکستان کی طرف سے کیا جواب آیا ہے؟

انہوں نے کہا کہ کیا ہوا اس بات کا جو ہر جمعہ کو باہر نکلنا تھا، کشمیر کے عوام حکومت کے کردار سے مطمئن نہیں ہیں، پاکستان کے عوام بھی آپ کے کردار سے مطمئن نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک سال کے بعد وزیر خارجہ کو خیال آیا کہ اجلاس بلانا چاہیے تھا، ایک سال بعد انہیں او آئی سی کا خیال آیا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کشمیر کی بات ہو رہی تھی اور یہ وزیراعظم ڈر گیا، قرارداد متفقہ طور پر منظور ہو رہی ہے اور وزیراعظم ایوان میں نہیں، کٹھ پتلی وزیر اعظم ایک فون کال پر ڈر گیا اور یہ وزیراعظم ہر جنگ میں بزدل رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کوئی واجپائی یا من موہن سنگھ نہیں، یہ بُچر آف گجرات کے بعد بُچر آف کشمیر ہے، پلوامہ واقعے کے بعد بھی وزیراعظم کہتا ہے کہ مودی الیکشن جیتے گا تو مسئلہ کشمیر حل ہوگا، پلوامہ عمل کے بعد کہا کہ مل کر نماز پڑھیں گے، جبکہ انہوں نے مریم نواز اور فریال تالپور کو گرفتار کر کے مودی کی نقل کی۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم صرف اپنی پارٹی، فیس بک اور ٹوئٹر کا وزیراعظم ہے، ہر کشمیری کو پتہ ہے کہ انہوں نے کشمیر کا سودا کردیا ہے، جب تک احسان اللہ احسان یوں بھاگ جائے گا، جب تک وزیراعظم اسامہ بن لادن کو شہید قرار دے گا تب تک آپ کی کوئی بات نہیں مانے گا۔

میوچوئل لیگل اسسٹنس بل 2020 کثرت رائے سے منظور

قبل ازیں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی اور بھارتی اقدامات کی مخالفت کی قرارداد پیش کی گئی جسے متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔

قرارداد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے پیش کی گئی۔

وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے میوچوئل لیگل اسسٹنس (کرمنل میٹرز) ترمیمی بل 2020 پیش کیا۔

جماعت اسلامی، جے یو آئی (ف)، نیشنل پارٹی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) اور آزاد اراکین محسن داوڑ اور علی وزیر نے بل کی مخالفت کی اور 'نامنظور، نامنظور' کے نعرے لگائے۔

وزیر قانون فروغ نسیم نے بل میں ترامیم پیش کیں جبکہ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے حکومت سے معاہدے کے بعد اپنی ترامیم واپس لے لیں۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے میوچوئل لیگل اسسٹنس بل 2020 کی منظوری دے دی۔