اپوزیشن جماعتوں کا چیئرمین نیب سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 09 اگست 2020

ای میل

چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال — تصویر: فائل فوٹو: ڈان نیوز
چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال — تصویر: فائل فوٹو: ڈان نیوز

قومی احتساب بیورو (نیب) پر سخت تنقید جاری رکھتے ہوئے ملک کی 2 بڑی اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے افعال اور تعیناتیوں سے متعلق سپریم کورٹ کے حالیہ حکم نامے اور ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) کی بیورو کو سیاسی آلہ کے طور پر استعمال کرنے کی رپورٹ کے بعد چیئرمین نیب سے ایک مرتبہ پھر مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری اطلاعات مریم اورنگزیب نے ایک بیان میں کہا کہ ’پاکستان تحریک انصاف کے سیاسی مخالفین کو نوٹسز بھیجنے کے بجائے چیئرمین نیب کو مستعفی ہوجانا چاہیے‘۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ لوگوں کے خلاف ریفرنس دائر کرنے سے قبل ہی کیسز سے متعلق معلومات میڈیا کو فراہم کر کے نیب توہین عدالت کا مرتکب ہورہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پیراگون سٹی کیس: ’نیب ملک و قوم کی خدمت کے بجائے اسے ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا رہا ہے‘

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے حکم نامے میں واضح کیا ہے کہ نیب لوگوں کے میڈیا ٹرائل میں ملوث ہے اور ساتھ ہی بیورو کو ریفرنس دائر کرنے سے قبل کوئی خبر میڈیا کو نہ دینے کی ہدایت کی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ’ذرائع‘ سے میڈیا کو خبریں فراہم کرنا سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے احکامات کی خلاف ورزی اور توہین ہے۔

یاد رہے کہ پیراگون سٹی کے تفصیلی حکم نامے میں عدالت نے افسوس کا اظہار کیا تھا کہ نیب یقیناً قومی مفاد کی خدمت نہیں کررہا بلکہ اس کے بجائے ملک، قوم اور معاشرے کو متعدد طریقوں سے ناقابل تلافی نقصان پہنچارہا ہے۔

جسٹس مقبول باقر نے کہا تھا کہ حالانکہ لوٹ مار اور بدعنوانی سے لڑنا ایک نیک مقصد ہے لیکن اس کے لیے اختیار کیا جانے والا طریقہ، کارروائی اور میکانزم قانون کے دائرے میں ہونا چاہیے۔

فیصلے میں وضاحت کیا گیا کہ ’کسی شخص کی گرفتاری ایک بڑا معاملہ ہے لیکن گرفتاری کے لیے طاقت کے غلط استعمال سے سنگین نتائج مرتب ہوئے ہیں اس لیے اسے بہت احتیاط اور حساس طریقے سے انجام دینے کی ضرورت ہے‘۔

مزید پڑھیں: نیب توقع کے مطابق فرائض انجام نہیں دے رہا، شبلی فراز

چنانچہ مریم اورنگزیب نے 21 جولائی کے پیراگون سٹی کیس میں عدالت عظمیٰ کے حکم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’خواجہ سعد رفیق کیس میں سپریم کورٹ کے حکم نامے کے باوجود نیب اب تک فعال کیوں ہے‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ عدالتوں کے علاوہ اسلامی نظریاتی کونسل، آئین و قانون کے ماہرین اور کئی بار ایسوسی ایشنز نے نیب کا ’سیاہ چہرہ‘ بے نقاب کیا ہے۔

دوسری جانب ایک نیوز کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ نیب اپنی ساکھ کھو بیٹھا اور ایسے ادارے کو تحلیل کردینا چاہیے۔

سینیٹر مولا بخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ ایچ آر ڈبلیو کی رپورٹ یہ ظاہر کرتی ہے کہ نیب سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کا ادارہ بن چکا ہے جسے غیر پیشہ ور لوگ چلا رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ میں پی ٹی آئی حکومت کو ناقدین کو حراست میں لینے کے لیے نیب کا استعمال روکنے پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ ملک کی پارلیمان کو انسداد بدعنوانی کا ادارہ آزاد بنانے کے لیے اصلاحات کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کا نیب سے قیدیوں کی تذلیل نہ کرنے کا مطالبہ

ایک میڈیا بیان میں ایچ آر ڈبلیو کا کہنا تھا کہ حکام کو غیر قانونی حراستوں اور دیگر بدسلوکیوں میں ملوث نیب عہدیداروں کے خلاف تحقیقات اور کارروائی کرنی چاہیے۔

دوسری جانب پی پی پی کی سیکریٹری اطلاعات ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے نیب میں ہونے والی تعیناتیوں کی تفصیلات جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ نیب میں میرٹ کے خلاف بھرتیاں کی گئی ہیں اور پسندیدہ افراد کو پر آسائش دفاتر دے کر اپوزیشن کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔