لبنان: مشتعل مظاہرین کا سرکاری دفاتر پر دھاوا، پولیس کے ساتھ جھڑپیں

اپ ڈیٹ 09 اگست 2020

ای میل

—فوٹو: الجزیرہ
—فوٹو: الجزیرہ

لبنان کے شہر بیروت میں ہونے والے حالیہ دھماکے کے بعد ہزاروں مشتعل مظاہرین نے وزارت خارجہ اور وزارت اقتصادیات کے دفاتر پر دھاوا بول دیا۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق مظاہرین نے وسطی بیروت میں پارلیمنٹ کی عمارت تک جانے کی کوشش کی اور اس دوران مظاہرین اور پولیس کے مابین ہنگامہ آرائی بھی ہوئی۔

پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا اور براہ راست فائرنگ بھی کی۔

رپورٹ کے مطابق مظاہرین کا ایک گروپ بیروت میں واقع وزارت اقتصادیات کے دفتر میں گھس گیا اور دفتری کاغذات اور لبنانی صدر کی تصاویر کو پھینک دیا۔

لبنانی ریڈ کراس نے بتایا کہ بیروت کے احتجاجی مقام سے کم از کم 32 مظاہرین کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔

علاوہ ازیں 110 سے زائد زخمی مظاہرین کو 'شہید اسکوائر' پر طبی امداد فراہم کی گئی۔

دوسری جانب لبنانی فوج کے ریٹائرڈ فوجی افسران کی سربراہی میں مظاہرین کے ایک گروپ نے وزارت خارجہ پر دھاوا بولا اور اسے 'انقلاب کا صدر مقام' قرار دیا۔

مظاہرین نے صدر مشعل عون کی تصویر بھی نذر آتش کردی۔

مظاہرین میں شامل ایک نے میگا فون پر کہا کہ 'ہم لبنانی عوام سے تمام وزارتوں پر قبضہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں'۔

لبنانی فوج نے اپنے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری بیان میں مظاہرین سے سرکاری اور نجی املاک کو تباہ یا نقصان نہ پہنچانے کی اپیل کی۔

بیان میں کہا گیا کہ 'آرمی کمانڈ لبنانی عوام کے درد کو محسوس کرسکتے ہیں اور ہم مظاہرین کو پرامن طریقے سے اظہار رائے کی تلقین کرتے ہیں، سڑکوں کو مسدود کرنے اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے اور اس پر قبضے کرنے سے گریز کریں'۔

وزیر اعظم کا قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ

لبنان کے وزیر اعظم حسن دیب نے دھماکے کے بعد قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کے بحران سے نکلنے کا واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ قبل از وقت انتخابات کی تجویز پیش کرنے والا مسودہ بل پیش کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کرائے بغیر ملک کے انتظامی بحران سے باہر نہیں نکل سکتے، ہمیں ایک نئی سیاسی طاقت اور نئی پارلیمنٹ کی ضرورت ہے'۔

واضح رہے کہ لبنان کے دارالحکومت بیروت کے وسط میں واقع ساحلی ویئرہاؤس میں چند روز قبل ہونے والے دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 158 سے تجاوز کر گئی ہے اور 5 ہزار افراد زخمی ہوئے ہیں۔

حکام کا کہنا تھا کہ اموات میں اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ ریسکیو اور ایمرجنسی ادارے ملبے کے ڈھیر سے لاشیں نکال رہے ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ دھماکے سے ہونے والے نقصانات کے باعث 2 لاکھ 50 افراد بے گھر ہوگئے ہیں جبکہ گھروں کا سامان سڑکوں میں بکھر گیا ہے۔

یہ معاشی بحران سے دوچار اور کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز سے نبردآزما بیروت میں گزشتہ کئی سالوں کے دوران ہونے والا سب سے بڑا دھماکا ہے۔

صدر مشعل عون نے کہا کہ 2 ہزار 750 ٹن امونیم نائٹریٹ کا فرٹیلائزر اور بموں میں استعمال کیا گیا جسے بغیر کسی حفاظتی تدابیر کے چھ سال سے پورٹ پر ذخیرہ کیا جا رہا تھا اور یہ عمل ناقابل قبول ہے۔

سیکیورٹی ذرائع نے بتایا تھا کہ ہلاک و زخمی ہونے والوں کو بیرون شہر سے باہر لے جایا جا رہا ہے کیونکہ بیروت کے ہسپتال زخمیوں سے بھر چکے ہیں جبکہ ملک کے جنوبی اور شمالی علاقوں سے تمام ایمبولینسز کو طلب کر لیا گیا۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ دھماکا ایک ایسے وقت میں ہوا جب اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ عدالت 3 دن بعد ہی 2005 بم دھماکوں میں ملوث حزب اللہ کے چار ملزمان کے مقدمے کا فیصلہ سنانے والی تھی۔

2005 میں بیروت میں ٹرک دھماکے میں سابق وزیر اعظم رفیق الحریری سمیت 22 افراد ہلاک ہو گئے تھے اور وہ دھماکا بھی ساحل سے محض دو کلومیٹر دور ہوا تھا۔