قومی اسمبلی میں انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2020 منظور

اپ ڈیٹ 12 اگست 2020

ای میل

— فائل فوٹو: اے  پی پی
— فائل فوٹو: اے پی پی

قومی اسمبلی نے انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2020 منظور کرلیا اور بل پر اتفاق رائے کے بعد اپوزیشن نے اپنی ترامیم واپس لے لیں۔

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت منعقد ہوا، ایوان نے انسداد دہشت گردی ترمیمی بل اکثریت رائے سے منظور کر لیا اور ایوان نے شراکت داری محدود ذمہ داری ترمیمی بل بھی پاس کرلیا۔

دوران اجلاس کمپنیز ایکٹ ترمیمی بل سمیت پانچ بل پاس جبکہ ایک پر رائے شماری مؤخر کردی گئی۔

وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2020 ایوان میں پیش کیا جس کے بعد قومی اسمبلی اجلاس میں مسلم لیگ (ن) نے اپنی ترامیم واپس لے لیں۔

مزید پڑھیں: ایف اے ٹی ایف سے متعلق دو حکومتی بل قومی اسمبلی کی کمیٹی سے منظور

محسن شاہنواز رانجھا نے کہا کہ ہماری تجویز کردہ ترامیم حکومت نے شامل کرلی ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کا نام ٹیرر فنانسنگ کی لسٹ والے ممالک سے نکلے۔

وزیر قانون نے کہا کہ آج کا دن بہت اچھا ہے، پاکستان کے لیے حکومت و اپوزیشن ایک ہوگئے، ایف اے ٹی ایف قانون سازی پر حمایت کے لیے اپوزیشن کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

اجلاس میں ملائکہ بخاری کی طرف سے ترامیم پیش کی گئیں جو منظور کرلی گئیں۔

انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2020 کے تحت کالعدم تنظیموں، ان سے تعلق رکھنے والوں کو قرضہ یا مالی معاونت فراہم کرنے پر پابندی ہوگی جبکہ کوئی بینک یا مالی ادارہ ممنوعہ شخص کو کریڈٹ کارڈز جاری نہیں کر سکے گا۔

ترمیمی بل کے تحت پہلے سے جاری اسلحہ لائسنس منسوخ تصور ہوں گے اور منسوخ لائسنس کا حامل اسلحہ ضبط کر لیا جائے گا جبکہ منسوخ شدہ لائسنس کا حامل اسلحہ رکھنے والا سزا کا مرتکب ہوگا اور ایسے شخص کو نیا اسلحہ لائسنس بھی جاری نہیں کیا جائے گا۔

بل میں مزید کہا گیا کہ دہشت گردی میں ملوث افراد کو 5 کروڑ روپے تک جرمانہ ہوگا اور قانونی شخص کی صورت میں 5 سے 10 سال قید کی سزا ہوگی اور ڈھائی کروڑ روپے جرمانہ بھی ہوگا۔

اس ترمیم کے بعد ممنوعہ اشخاص یا تنظیموں کے لیے کام کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے اور ایسے افراد کی رقم، جائیداد بغیر کسی نوٹس کے منجمد اور ضبط کر لی جائے گی۔

ایف اے ٹی ایف کی تلوار بہت عرصے سے لٹک رہی ہے، نوید قمر

بل کی منظوری سے قبل پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف ایک ایسی تلوار ہے جو پاکستان پر بہت عرصے سے لٹک رہی ہے، اس میں ماضی کی حکومتوں کی بھی غلطی رہی اور ہمارا کاروباری طریقہ کار بھی اس کی وجہ ہے جس میں دنیا کے حساب سے کئی خامیاں ہیں، اس وقت اس پر زیادہ دباؤ آیا ہے تاکہ انہیں درست کیا جائے اور پاکستان آگے بڑھ سکے۔

انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف نے ہمیں دو طرف سے گھیرا ہوا ہے اور مشکل یہ ہے کہ جب انہوں نے ہمیں گھیرا ہے تو ہم نے بھی کافی چیزوں پر ان سے حامی بھری ہے، کچھ تو ایسی چیزیں ہیں جو ہمیں کرنی ہی چاہیے تھیں اور اچھا ہے کہ اس صورت میں ہم کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی میں شور شرابے کے دوران ایف اے ٹی ایف سے متعلق 2 بلز منظور

تاہم انہوں نے کہا کہ کچھ ایسی چیزیں ہیں جو ہم نے ان سے ڈر کر اپنے عوام اور پاکستانیوں پر قدغنیں لگائی ہیں اور بحیثیت اپوزیشن اپنا فرض سمجھتے ہوئے دیکھا کہ کیا کیا چیزیں ہیں جن کے بغیر پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا اور وہ کیا چیزیں جن کے ذریعے ہم اپنے لوگوں پر ظلم کر رہے ہیں۔

نوید قمر نے کہا کہ کچھ چیزوں میں ہم قائل ہو گئے اور کچھ چیزوں میں انہوں نے ہمیں قائل کر لیا لیکن کچھ ایسی چیزیں ہیں جن پر اتفاق نہیں ہوا اور وہ پاکستان کے آئین اور بنیادی حقوق کے لحاظ سے کسی بھی پاکستانی کے لیے ہضم کرنا بہت مشکل ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب انسداد دہشت گردی بل میں ان پر توجہ دی گئی ہے جن کے لیے یہ دراصل بل بنا ہے کیونکہ اس بل کا مقصد دہشت گردی کو ختم کرنا ہے، یہ بل کالعدم تنظیموں پر توجہ دی گئی ہے، دہشت گردوں کی شناخت کی جا رہی ہے اور پھر ان پر پابندی عائد کی جا رہی ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما کا کہنا تھا کہ ہم تمام پاکستانی اس بات پر متفق ہیں کہ جو بھی شخص پاکستان یا اسلام کے نام پر دنیا میں کہیں بھی دہشت گردی کرتا ہے، ہم مل کر اس سے لڑیں گے، ہم ان کی فنڈنگ روکنے کے لیے جو کچھ بھی ممکن ہو وہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ جو شخص دہشت گرد نہیں ہے اور اگر وہ کسی طرح اس قانون کی زد میں آ گیا ہے تو ہماری کوشش ہے کہ اس کے لیے بھی اس کا کوئی حل ہو، اس کے بعد مذاکرات ہوئے جس میں اس بات پر اتفاق ہوا کہ ایک طرف ہم دہشت گردی کو ختم کریں اور دوسری جانب اپنے لوگوں کے بنیادی حقوق کو بھی یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں بتدریج تبدیلی کرنا ہے، اگر ہم نے یکدم تبدیلی کی کوشش کی تو وائٹ منی والے بھی بھاگ جائیں گے اور اس طرح کی تبدیلیوں سے خامیاں پیدا ہوتی ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ جب اس قانون پر بات چیت ہو رہی تھی تو ہم نے آئین میں پاکستان کے شہریوں کے بنیادی حقوق اور مقامی کاروباری برادری کے اعتماد کو بھی مدنظر رکھا۔

اس موقع پر انہوں نے گزشتہ روز مریم نواز کی لاہور میں نیب دفتر میں پیشی کے موقع پر ہنگامہ آرائی کی کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ رانا تنوی کل اسپیکر صاحب آپ کے ساتھ چیمبر میں موجود تھے اور کل کے واقعے کی ایف آئی آر میں ان کا بھی نام موجود ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پنجاب حکومت مسلم لیگ (ن) کے کارکنان کے خلاف کتنی جھوٹی اور غلط کارروائی کر رہی ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ میں نے رانا تنویر صاحب کو تحریک استحقاق لانے کا کہا ہے جس پر اسپیکر نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ وہ انہیں تحریک استحقاق پیش کرنے دیں گے۔

اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ رانا تنویر وہاں نہیں تھے اور اگر ان کا نام ایف آئی آر میں آ گیا ہے تو ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے تھا اور اس کی تحقیق کی جا سکتی ہے، اگر بلاجواز ان کا نام آیا ہے تو ہم مل کر آپ کا ساتھ دیں گے۔

مزید پڑھیں: قومی اسمبلی میں آج انسداد دہشت گردی (ترمیمی) بل 2020 پر بحث ہوگی

شاہ محمود قریشی نے گزشتہ روز کے واقعے کی تفصیلات میں جاتے ہوئے کہا کہ کل لاہور والے واقعے پر تفصیلی بحث ہو سکتی ہے، لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ گاڑیوں میں یکدم پتھر کہاں سے نمودار ہو گئے، آپ نے تو اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کے لیے پیش ہونا تھا لیکن اس سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ سارا اسٹیج ڈراما کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں نوید قمر کی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ قانون سازی میں توازن ہونا چاہیے، دہشت گردوں کی مالی معاونت ایک لعنت ہے اور ہم نے اس کا مقابلہ کرنا ہے کیونکہ دنیا نے ہمیں اسی نگاہ سے دیکھا ہے اور ہم پر انگلیاں اٹھائی ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ منی لاندڑنگ ایسی وبا ہے جو اس ملک میں رہی ہے اور اس ملک میں بہت سے لوگوں نے اس کا فائدہ اٹھایا ہے اور ہم نے اس کا تدارک کرنا ہے۔

یہ وضاحت ہونی چاہیے کہ دہشت گردی اور اسلام میں بڑا فرق ہے، فروغ نسیم

فروغ نسیم نے کہا کہ ہم قانون سازی کو آسان کریں گے، بنیادی حقوق کو یقینی بنائیں گے کیونکہ بنیادی حق ہم سب سے زیادہ پاکستان کے عوام کا ہے اور وہ یہ کہ پاکستان کی معیشت بلیک سے وائٹ ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی بقا کے لیے بلیک سے وائٹ اکانومی کی طرف منتقلی ضروری ہے، ایک ترقی پذیر سے ترقی یافتہ ملک کی طرف جانا ہے تو ایف اے ٹی ایف اور منی لانڈرنگ کے خلاف جو مروجہ اصول ہیں ان کی پاسداری کرنا ہو گی۔

انہوں نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کی رکن اسمبلی شاہد اختر علی کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ مذہب اور دہشت گردی میں فرق ہونا چاہیے اور سب سے زیادہ امن کا مذہب اسلام ہے اور اسلام کی اصل روح کی ترجمانی ہونی چاہیے اور یہ وضاحت ہونی چاہیے کہ دہشت گردی اور اسلام میں بڑا فرق ہے۔

پہلے پاکستان کا آئین توڑنے والوں کو دہشت گرد قرار دیں، اختر مینگل

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل نے کہا کہ میں واضح کرتا چلوں کہ بلوچستان نیشنل پارٹی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ان بلوں پر ہونے والے اتفاق رائے کا حصہ نہیں ہے، جب ہم حکومت میں تھے تب بھی کسی فیصلے میں ہمیں اعتماد میں نہیں لیا جاتا تھا، اب بھی اپوزیشن کی طرز سے کوئی بل آتے ہیں تو ہمیں اعتماد میں نہیں لیا جاتا اور ہم آزاد بینچز پر بیٹھے ہوئے ہیں۔

اختر مینگل نے مزید کہا کہ ہم چلتی ہوئی گاڑی کہ مسافر نہیں کہ ایک گاڑی سے اتر کر دوسری گاڑی میں بیٹھ جائیں، ہمارے اپنے کچھ اصول اور نقطہ نظر ہیں جس سے ممکن ہے کہ ہمارے دوست اختلاف رکھتے ہوں لہٰذا ہم اس بل کی ہاں میں شامل ہیں اور نہ ہی ناں میں۔

اختر مینگل نے کہا کہ پہلے تو یہ وضاحت ہونی چاہیے کہ دہشت گرد ہے کیا چیز، اس کی تعریف ہے، کیا اس ملک کے ایک وزیر اعظم میاں نواز شریف کو بھی دہشت گرد قرار نہیں دیا گیا تھا، ایک دوسرے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کو بھی دہشت گرد قرار نہیں دیا گیا تھا اور مجھ سمیت میرے خیال میں اس ایوان کے اکثر اراکین کو انسداد دہشت گردی کورٹ میں پیش کردیا گیا اور بعض ایسے اراکین بھی ہوں گے جو اس دہشت گردی کے ضمرے میں آتے ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ کھڑکی کا شیشہ توڑنے والا تو دہشت گرد بن جاتا ہے لیکن پاکستان کا آئین توڑنے والا دہشت گرد نہیں ہوتا، شیشہ توڑنا اہم ہے یا پاکستان کا آئین، پہلے پاکستان کے آئین کو توڑنے والوں کو دہشت گرد قرار دیں پھر ہم اس بل پر آپ کے ساتھ ہیں۔

دیگر بل بھی منظور

قومی اسمبلی نے شراکت محدود ذمہ داری ترمیمی بل 2020 کی کثرت رائے سے منظوری دے دی، کمپنیز ایکٹ ترمیمی بل 2020، نشہ آور اشیا کی روک تھام ترمیمی بل 2020، علاقہ دارلحکومت اسلام آباد ٹرسٹ بل 2020 کی کثرت رائے سے منظوری دے دی گئی۔

اس کے علاوہ ایم ایم اے کے ارکان کے مطالبے پر دارالحکومت علاقہ جات وقف املاک بل 2020 پر اگلے اجلاس تک مؤخر کردیا گیا۔