سامنے آتے ہی پاکستانی ’چڑیلز‘ کے چرچے

ای میل

چڑیلز کو 11 اگست کو ریلیز کیا گیا—اسکرین شاٹ
چڑیلز کو 11 اگست کو ریلیز کیا گیا—اسکرین شاٹ

پاکستان کی پہلی اوریجنل ویب سیریز کا اعزاز رکھنے والی ہدایت کار عاصم عباسی کی ایکشن تھرلر سیریز ’چڑیلز‘ کو ریلیز کردیا گیا۔

’چڑیلز‘ کو ویب اسٹریمنگ ویب سائٹ زی فائیو پر 11 اگست کو ریلیز کیا گیا۔

ویب اسٹریمنگ ویب سائٹ پر ’چڑیلز‘ کے پہلے سیزن کی تمام 10 اقساط کو ہی جاری کردیا گیا، جن کے ریلیز ہوتے ہی دنیا بھر میں ان کے چرچے ہونا شروع ہوگئے۔

’چڑیلز‘ کی کہانی شوہروں کی بے وفائی کے بعد جاسوس بن جانے والی چار خواتین کے گرد گھومتی ہیں جو سیریز میں اپنی جیسی دوسری عورتوں کی زندگی بچانے کے لیے اپنی زندگی خطرے میں ڈالتی دکھائی دیتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: شوہروں کی بے وفائی سے پردہ اٹھاتی بہادر بیویوں کی کہانی ’چڑیلز‘

A photo posted by Instagram (@instagram) on

ویب سیریز میں چاروں خواتین کو گھریلو زندگی چھوڑ کر دھوکا کرنے والے شوہروں کو بے نقاب کرتے دکھایا گیا ہے۔

ویب سیریز میں ثروت گیلانی نے سارہ، یاسرا رضوی نے جگنو، نمرا بچہ نے بتول اور مہربانو نے زبیدہ کا کردار ادا کیا ہے اور ویب سیریز میں ان چار مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کو ایک گینگ کے طور پر دکھایا گیا ہے۔

بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس نے ’چڑیلز‘ کے ابتدائی تبصرے میں پاکستان کی پہلی اوریجنل ویب سیریز کو خواتین کو مضبوط کرداروں میں دکھائے جانے کی سیریز قرار دیا۔

تبصرے میں ’چڑیلز‘ کو ایکشن تھرلر سیریز قرار دیتےہوئے بتایا گیا کہ ویب سیریز میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح جاسوس بن جانے والی خواتین سماج میں ہونے والی جسم فروشی، بچوں کے استحصال، کم عمری کی شادیوں اور خواتین کے ساتھ ہونے والے نازیبا رویوں سے پردہ اٹھاتی ہیں۔

مزید پڑھیں: وکیل، باکسر، ویڈنگ پلانر و قاتل خاتون کا ’چڑیلز‘ گینگ

ویب سیریز میں چاروں خواتین کو ایک فیشن بوتیک کے بینر تلے جاسوسی کا گینگ چلاتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور اس کام کے دوران انہیں انتہائی خطرناک مصیبتوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

ویب سیریز میں ’چڑیلز‘ گینگ کی جاسوس خواتین کو ’مرد کو درد ہوگا‘ اور ’آگے برقع، پیچھے بندوق‘ جیسے ڈائیلاگ بولتے ہوئے بہادر کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

’چڑیلز‘ کے پہلے سیزن کی تمام 10 اقساط کو ویب اسٹریمنگ ویب سائٹ زی فائیو پر دیکھا جا سکتا ہے۔

A photo posted by Instagram (@instagram) on