خاتون ڈاکٹر سے بدزبانی کے الزام میں ڈاکٹر برطرف، ینگ ڈاکٹرز کی حکومت پر تنقید

اپ ڈیٹ 19 ستمبر 2020

ای میل

صدر وائی ڈی اے نے لاہور میں پریس کانفرنس کی —فوٹو:ڈان نیوز
صدر وائی ڈی اے نے لاہور میں پریس کانفرنس کی —فوٹو:ڈان نیوز

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائی ڈی اے) پنجاب کے صدر سلمان حبیب نے سوشل میڈیا میں مبینہ طور پر خاتون ڈاکٹر کے ساتھ بدزبانی اور دھمکیوں پر نوجوان ڈاکٹر کی برطرفی پر حکومت پنجاب کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سلمان حبیب نے کہا کہ 'وائی ڈی اے کسی کو بھی ایک شہری کا ذریعہ معاش چھیننے کی اجازت نہیں دے گی'۔

انہوں نے کہا کہ 'بدزبان اور نظریاتی طور پر بدحال لوگوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے اور یاد رکھیں انہیں طب کے شعبے پر حملے کی اجازت نہیں دی جائے گی'۔

سلمان حبیب نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے فوکل پرسن برائے ڈیجیٹل میڈیا اظہر مشوانی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا، جنہوں نے خاتون ڈاکٹر مریم کی جانب سے کی جانے والی ٹوئٹس کا نوٹس لیا تھا۔

انہوں نے اپنے ٹوئٹس میں خاتون ڈاکٹر کو آگاہ کیا تھا کہ صوبائی محکمہ صحت مذکورہ واقعے پر ڈاکٹر کے خلاف نوٹس لے چکا ہے، جنہوں نے فحش زبان استعمال کی اور دھمکیاں دیں۔

قبل ازیں ٹوئٹر پر مریم نامی صارف نے متعدد ٹوئٹس کیے تھے، جس میں ان کا کہنا تھا کہ لاہور جنرل ہسپتال میں کام کرنے والے ایک میڈیکل پروفیشنل نے 'جنسی طور پر نامناسب الفاظ استعمال' کیے۔

مذکورہ ڈاکٹر نے مریم کی جانب سے حال ہی میں لاہور-سیالکوٹ موٹروے پر پیش آنے والے گینگ ریپ سے متعلق پوسٹ کی جانے والی ایک تصویر کے جواب میں سخت الفاظ استعمال کیے تھے۔

اپنے ٹوئٹس میں مریم نے کہا تھا کہ انہوں نے مذکورہ افسر کے خلاف شکایت درج کرادی ہے اور ایک دن بعد اظہر مشوانی نے ان کے ٹوئٹ کا جواب دیا۔

اظہر مشوانی نے کہا تھا کہ 'پنجاب کے محکمہ صحت نے آگاہ کیا ہے کہ ان کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے'۔

وائی ڈی اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ 'پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سوشل میڈیا کی خاتون رکن کی شکایت پر' ڈاکٹر کو برطرف کیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ حکام کی جانب سے ڈاکٹر کا مؤقف سنے اور اپنا دفاع کرنے کا موقع دیے بغیر ان کے خلاف کارروائی کی گئی۔

وائی ڈی اے نے کہا کہ 'ہم جمہوری معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں ہر کسی کو اظہار رائے کی آزادی ہے'۔

خیال رہے کہ ینگ ڈاکٹروں کے بیان کے جواب میں پی ٹی آئی کی جانب سے تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا اور نہ ہی سائبر کرائم سیل کو آگاہ نہیں کیا گیا جبکہ دونوں فریقین کا مؤقف بھی نہیں سنا گیا۔

وائی ڈی اے نے اپنے بیان میں کہا کہ 'ہم کسی کے بھی خلاف اور خاص کر خواتین کے خلاف بدزبانی کو قبول نہیں کرسکتے' اور مطالبہ کیا کہ سائبر کرائم سیل کو لاہور جنرل ہسپتال کے ڈاکٹر اور پی ٹی آئی سوشل میڈیا کی خاتون رکن دونوں کا مؤقف سن کر فیصلہ دینا چاہیے۔

ڈاکٹر کی برطرفی کے بعد سلمان حبیب نے اپنی ٹوئٹس میں مریم اور اظہر مشوانی کو آڑے ہاتھوں لیا اور ایک ٹوئٹ میں خاتون سے کہا کہ 'شرم کی بات ہے کہ اگر یہ خاتون سوشل میڈیا میں لڑائی پر قابو نہیں کر سکتی تھیں تو پھر شروع کیوں کی'۔

انہوں نے اپنی دوسری ٹوئٹ میں کہا کہ 'میں نے اپنے ڈاکٹر کی بدزبانی کی حمایت نہیں کی بلکہ دونوں فریقین غلط تھے'۔

سلمان حبیب کا کہنا تھا کہ 'اشتعال انگیز، فحش اور ذو معنی الفاظ معاشرے کے طور پر سب شرم ناک ہیں لیکن کسی ڈاکٹر کی میڈیا ٹرینڈ پر برطرفی کی حمایت نہیں کی جاسکتی'۔