ٹریفک اہلکار قتل کیس: بلوچستان پولیس کی مجید اچکزئی کی بریت کےخلاف درخواست

18 ستمبر 2020

ای میل

کوئٹہ کی ماڈل کورٹ نے ٹریفک پولیس اہلکار قتل کیس میں عبدالمجید خان اچکزئی کو باعزت بری کر دیا تھا — فائل فوٹو
کوئٹہ کی ماڈل کورٹ نے ٹریفک پولیس اہلکار قتل کیس میں عبدالمجید خان اچکزئی کو باعزت بری کر دیا تھا — فائل فوٹو

محکمہ پولیس بلوچستان نے ٹریفک سارجنٹ عطااللہ کے قتل کیس میں عبدالمجید اچکزئی کی بریت کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی۔

محکمہ پولیس کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ ٹریفک سارجنٹ کے کیس میں استغاثہ کے بیانات کو زیر غور نہیں لایا گیا اور ٹرائل کورٹ نے استغاثہ کے موقف کو نظر انداز کیا۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ میں زیر بحث نہ لائے جانے والے نکات کو ہائی کورٹ میں سامنے لانے کا حق رکھتے ہیں۔

واضح رہے کہ بلوچستان حکومت نے 8 ستمبر کو ٹریفک پولیس اہلکار کے قتل کیس میں نامزد ملزم سابق رکن صوبائی اسمبلی عبدالمجید خان اچکزئی کی بریت کے خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

مزید پڑھیں: بلوچستان حکومت کا عبدالمجید اچکزئی کی بریت کے خلاف اپیل دائر کرنے کا فیصلہ

ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی نے ڈان نیوز سے بات چیت کے دوران بتایا تھا کہ فیصلے کے خلاف درخواست کی تیاری آخری مراحل میں ہے۔

لیاقت شاہوانی کا کہنا تھا کہ تفصیلی فیصلے اور دستاویزات کا جائزہ لے کر درخواست کو حتمی شکل دیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ کی خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف جلد بلوچستان ہائی کورٹ میں اپیل دائر کریں گے۔

بعد ازاں ترجمان بلوچستان حکومت نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ محکمہ پولیس نے ٹریفک پولیس اہلکار کے قتل کیس کو ہائی کورٹ لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ 4 ستمبر کو کوئٹہ کی ماڈل کورٹ نے ٹریفک پولیس اہلکار قتل کیس کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے عدم ثبوت پر سابق چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے رہنما عبدالمجید خان اچکزئی کو باعزت بری کر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ٹریفک پولیس اہلکار قتل کیس: عدم ثبوت پر سابق ایم پی اے عبدالمجید اچکزئی بری

ماڈل کورٹ کے جج دوست محمد مندوخیل نے ٹریفک پولیس اہلکار قتل کیس کی سماعت کی تھی۔

یاد رہے کہ یہ کیس 2017 سے زیر سماعت ہے اور ابتدا میں یہ کیس انسداد دہشت گردی عدالت میں زیر سماعت تھا کیونکہ مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات کو شامل کیا گیا تھا تاہم بعد ازاں ملزم کے وکلا کی جانب سے درخواست دی گئی تھی کہ کیس انسداد دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتا اسے ماڈل کورٹ منتقل کیا جائے۔

جس کے بعد کیس سے دہشت گردی کی دفعات کو ختم کرکے اسے ماڈل کورٹ منتقل کردیا گیا تھا۔