کیا کل جماعتی کانفرنس کا اصل ہدف شہباز شریف تھے؟

اپ ڈیٹ 21 ستمبر 2020

ای میل

‘اجتماعی استعفوں کا ‘مناسب’ وقت کیا ہوگا؟’

مولانا فضل الرحمٰن اسلام آباد کے فائیو اسٹار ہوٹل میں جب اپوزیشن کی پانچویں کل جماعتی کانفرنس (اے پی سی) کے 26 نکاتی اعلامیے اور ایکشن پلان کا اعلان کر رہے تھے، تو ایکشن پلان کا آخری نقطہ یہ تھا کہ ‘سلیکٹڈ حکومت کی تبدیلی کے لیے متحدہ حزبِ اختلاف پارلیمان کے اندر اور باہر جمہوری، سیاسی اور آئینی آپشن استعمال کرے گی، جن میں عدمِ اعتماد کی تحاریک اور مناسب وقت پر اسمبلیوں سے اجتماعی استعفوں کا آپشن شامل ہے‘۔

تو میں نے سوچا کہ مناسب وقت کے بارے میں سوال تو ضرور بنتا ہے، کیونکہ پہلے دن سے مولانا فضل الرحمٰن اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ قومی و صوبائی اسمبلیوں سے اپوزیشن کی تمام جماعتوں کو مستعفی ہوجانا چاہیے، اور اس بار پھر ایسا لگا کہ مولانا کی ‘فوری مستعفی‘ ہونے والی خواہش کو مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے مل کر ایک بار پھر دبا دیا۔

A photo posted by Instagram (@instagram) on

لیکن بدقسمتی سے اس اعلامیہ کے بعد سوال کرنے کا موقع نہیں ملا۔ اس کی وجہ شاید یہی ہے کہ ملکی سیاست کو گرما دینے والا جب بھی ایسا بڑا کوئی ایونٹ ہوتا ہے تو سوال کرنے میں وہی صحافی کامیاب ہوتے ہیں جو اونچی آواز میں بولنے کا ہنر جانتے ہوں یا پھر میزبان سے اچھے تعلقات رکھتے ہوں۔ اب ایک تو ہم اونچی آواز میں بولنے کے ہنر سے بالکل ناواقف ہیں دوسری بات یہ کہ سوال پوچھنے کے لیے صحافیوں کا انتخاب کرنے کی ذمہ داری میزبان پیپلز پارٹی کے بجائے مہمان جماعت (ن) لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب نے اپنے ہاتھ میں لے لی تھی، اور پیپلزپارٹی کے چیف میڈیا کوآرڈینٹر نذیر دھوکی بے بس دکھائی دیے۔

کانفرنس شروع ہونے سے پہلے ایسا ہی لگ رہا تھا کہ اس بار بھی یہ اے پی سی ’کھودا پہاڑ نکلا چوہا‘ جیسی ثابت ہوگی، لیکن نواز شریف کی تقریر نے سب کو ہی حیران کردیا۔ جب نواز شریف اے پی سی سے مخاطب تھے تو سب سے زیادہ پریشان شہباز شریف اور سب سے زیادہ خوش مریم نواز نظر آرہی تھیں۔

شہباز شریف کے مفاہمانہ رویوں کی وجہ سے حکومت مخالف ساری جماعتیں ناراض نظر آتی تھیں۔ سینیٹ چیئرمین کے خلاف تحریک عدمِ اعتماد سے لیکر حالیہ مشترکہ اجلاس میں ایف اے ٹی ایف تک ہونے والی قانون سازی سے پتہ چلتا تھا کہ ہر موقع پر اپوزیشن کی 2 بڑی جماعتوں نے حکومت کو محفوظ راستہ فراہم کیا ہے، اب یہ کسی خوف کے نتیجے میں تھا یا کسی کی خوشنودی کے لیے، اس بارے میں اپوزیشن کے قائدین کو ہی معلوم تھا، لیکن یہ بات بہت واضح ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن پہلے دن سے اپوزیشن کی ان 2 بڑی جماعتوں پر اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں تھے، لیکن اس کے باوجود ان کے ساتھ چلنے کے سوا ان کے پاس دوسرا کوئی آپشن بھی نہیں تھا۔

کچھ ہفتے قبل جب شہباز شریف کی مولانا سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات طے تھی تو اس ملاقات سے ڈھائی گھنٹے پہلے ہی نواز شریف کا قاصد مولانا کے پاس ایک پیغام لے کر پہنچا تھا اور ان کے ساتھ ناشتہ کر رہا تھا۔ مولانا قاصد کی آمد سے مطمئن ہوئے اور شہباز شریف سے ملاقات کے بعد جب میڈیا سے دونوں رہنماؤں کی بات چیت ہورہی تھی تو واضح لگتا تھا کہ اس ملاقات میں شہباز شریف کو کچھ حاصل نہیں ہوا۔

اے پی سی سے ایک رات پہلے بھی مولانا نے 2 بار نواز شریف سے رابطہ کیا تھا، ظاہر ہے کہ ان رابطوں میں بہت ساری باتیں اور وعدے بھی ہوئے، لیکن پوری گیم ان ہی دنوں ہو رہی تھی۔ یہ انہی دنوں کی بات ہے جب اسلام آباد میں یہ خبر بھی گرم رہی کہ ایف اے ٹی ایف کی قانون سازی کے دوران پارلیمانی رہنما، جن میں بلاول بھٹو زرداری، شہباز شریف اور دیگر ایک ‘غیر سویلین عشائیے’ میں مدعو تھے، لیکن حیران کن طور پر نہ اس کی تصدیق کھانے والے کرتے ہیں اور نہ کھلانے والے!

خیر، واپس آتے ہیں نواز شریف کی تقریر پر جس میں انہوں نے فیصلہ کن اقدامات پر زور دیا تھا لیکن اگر حکومت کے خلاف تیار کیے گئے ایکشن پلان کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کا قائم ہونے والا نیا اتحاد ایسے گل نہیں کھلائے گا، جس کی فوری طور توقع کی جارہی ہے، کیونکہ حکومت کے ساتھ قانون سازی میں تعاون نہ کرنے کا اعلان بتاتا ہے کہ انتخابی اصلاحات ممکن نہیں ہوسکے گی۔ خود مسلم لیگ (ن) کے دور میں انتخابی اصلاحات کا عمل 3 سال تک لے گیا تھا، اور اس حکومت کے تو ویسے بھی 3 سال ہی رہ گئے ہیں۔ پھر ایک اور اہم معاملہ یہ بھی ہے کہ مولانا خود اسمبلی کا حصہ نہیں، اپوزیشن کی باقی جماعتیں جن میں پختون خواہ ملی عوامی پارٹی (میپ)، جمعیت اہلِ حدیث، نیشنل پارٹی، جمعیت علمائے پاکستان (جے یو پی) اور قومی وطن پارٹی کی تو قومی اسمبلی میں نمائندگی تک نہیں۔ دوسری طرف سندھ میں پیپلزپارٹی کی اپنی حکومت ہے جبکہ قومی اسمبلی میں شہباز شریف اور پنجاب میں ان کے بیٹے اپوزیشن لیڈر ہیں تو یہ مراعات کس طرح چھوڑی جاسکتی ہیں، جب آپ کو کہیں سے کوئی واضح اشارہ بھی نہ ہو۔

اے پی سی کے دوران نواز شریف اور آصف زرداری آخر تک ویڈیو لنک کے ذریعے موجود رہے۔ ایک موقع پر آصف زرداری نے کہا کہ 1985ء میں پیپلزپارٹی نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تو نیا سیاسی طبقہ پاکستان میں سامنے آیا اور پاکستان کی جمہوریت کو نقصان ہوا، جس پر مولانا فضل الرحمٰن نے ہنس کر نواز شریف کو مخاطب کیا کہ میاں صاحب، زرداری صاحب آپ کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ جس کے بعد نواز شریف سمیت تمام شرکا مسکراتے رہے۔

لیکن آگے جانے سے پہلے اے پی سی کی میزبان جماعت کی طرف سے صحافیوں کی سہولت کے لیے جو انتظامات کیے گئے تھے، اگر اس کی تعریف نہ کی جائے تو یہ زیادتی ہوگی۔ بیٹ رپورٹرز مسلم لیگ (ن) کی کنجوسی اور شہری طرز میزبانی کا اکثر اوقات ذکر کرتے رہتے ہیں، لیکن اس بار تو یہ ذکر کچھ زیادہ ہی ہوتا رہا، کیونکہ اسلام آباد کے فائیو اسٹار ہوٹل میں اے پی سی کے انعقاد کے لیے پیپلزپارٹی نے ایک بڑا کانفرنس ہال بک کرایا تھا، تو دوسری جانب صحافیوں کے لیے بھی ایک الگ بڑے ہال کا بندوبست کیا گیا تھا۔ یوں تو یہ ہال اس وقت کام کا تھا، جب شام کو اے پی سی کے فیصلوں کا اعلان ایک پریس کانفرنس میں کیا جاتا، لیکن صحافیوں کے لیے یہ ہال صبح سے ہی بک تھا، جس میں پانی، کھانے اور چائے کا بندوبست بھی کیا گیا تھا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو شاید سخت گرمی میں صحافیوں، کیمرامین حضرات اور میڈیا ورکرز کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا اور مزید بیزاری جنم لیتی۔

ایک اہم بات یہ رہی کہ اے پی سی کا جو شیڈول تھا، سارے معاملات اس کے برخلاف ہوئے۔ یعنی 12 بجے جس کانفرنس کو شروع ہونا تھا وہ ایک گھنٹے بعد ایک بجے شروع ہوئی اور 5 بجے ختم ہونے کے بجائے رات ساڑھے 9 بجے ختم ہوئی۔ اپنے لیے مختص ہونے والے ہال میں صحافیوں کی اکتاہٹ واضح نظر آتی تھی، لیکن اے پی سی ختم ہونے کے بعد جب قائدین پریس کانفرنس کے لیے ہال میں پہنچے تو بلاول بھٹو اور مریم نواز کو چھوڑ کر شہباز شریف، مولانا فضل الرحمٰن اور دیگر قائدین کے چہروں سے تھکاوٹ کو محسوس کرنا کسی بھی طور پر مشکل نہیں تھا۔ ایک طرف عمر کا تقاضہ تو دوسری جانب ناکامی اور کم کامیابی کا حصول بھی تھا۔

اے پی سی تو ایک بجے شروع ہوئی، لیکن اس میں شرکت کے لیے صبح سے ہی ساری جماعتیں اپنے اپنے رہنماؤں سے میٹنگز کرتی رہیں، اس کے بعد ہوٹل پہنچ کر اے پی سی میں شرکت اور اہم فیصلوں کے لیے کسی نتیجے پر پہنچنا ایک تھکادینے والا عمل تھا۔

مریم نواز تو ایک دن پہلے ہی لاہور سے مری پہنچی تھیں۔ 20 ستمبر کو وہ صبح ساڑھے 9 بجے مری سے روانہ ہوئیں اور ساڑھے 10 بجے اسلام آباد میں میریٹ ہوٹل کے سامنے والی سڑک پر قائم منسٹر انکلیو میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی رہائش گاہ پہنچیں، جہاں پارٹی کے دیگر قائدین پہلے سے موجود تھے۔ میزبان بلاول بھٹو بھی اے پی سی کے وقت سے نصف گھنٹہ پہلے ہوٹل پہنچ چکے تھے، تاکہ وہ خود مہمانوں کا استقبال کرسکیں۔

تھکاوٹ کا ایک سبب تو قائدین کا 12 گھنٹے سے زائد اے پی سی کی سرگرمیوں میں شامل ہونا تھا، جبکہ دوسری جانب میاں نواز شریف کے خطاب نے کھیل کو تبدیل کردیا تھا۔ جو اعلامیہ جاری کیا گیا وہ بھی تھوڑے بہت نکات کو چھوڑ کر نواز شریف کی تقریر کے گرد گھومتا نظر آیا۔ ایسا لگتا تھا کہ اپنے پیسوں سے لگائے میلے کو (ن) لیگ کے ہاتھوں ہائی جیک کرنے کا فیصلہ پیپلزپارٹی نے سوچ سمجھ کر کیا تھا، یہی وجہ ہے کہ مریم نواز اور بلاول بھٹو کے چہرے دیگر قائدین کے برعکس زیادہ مطمئن نظر آتے تھے۔ اس اطمینان کے پیچھے بھی ایک کہانی ہے۔

مریم نواز اور بلاول بھٹو کے چہرے دیگر قائدین کے برعکس زیادہ مطمئن نظر آئے
مریم نواز اور بلاول بھٹو کے چہرے دیگر قائدین کے برعکس زیادہ مطمئن نظر آئے

معاملہ یہ ہے کہ ایک بے ضرر سی اے پی سی کی تاریخ کے اعلان سے 2 دن پہلے بلاول نے نواز شریف سے رابطہ کیا، یہاں یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ اے پی سی کے لیے (ن) لیگ نے جو پہلے 7 رکنی وفد کی تشکیل کا اعلان کیا تھا اس میں مریم نواز شامل نہیں تھیں۔ نواز شریف سے رابطے کے دوران انہیں اے پی سی میں خطاب کی دعوت بلاول بھٹو نے دی جو قبول کرلی گئی، لیکن یہ اعلان بھی (ن) لیگ کے بجائے پیپلزپارٹی نے کیا۔

کانفرنس سے ایک دن پہلے بلاول بھٹو کے ترجمان مصطفیٰ نواز کھوکھر نے بیان جاری کیا کہ نواز شریف اے پی سی میں ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوں گے بلکہ خطاب بھی کریں گے۔ انہی گھنٹوں میں مسلم لیگ (ن) نے اے پی سی میں شرکت کے لیے جو نیا وفد تشکیل دیا اس میں مریم نواز کا نام بھی شامل تھا۔ اس دوران ہی پیپلزپارٹی نے اعلان کیا کہ آصف زرداری بھی اس کانفرنس میں شریک ہوں گے۔

اس بار ہونے والی اے پی سی کا نچوڑ نکالا جائے تو اگرچہ اس بار بھی اجتماعی استعفوں سے متعلق مولانا کا مطالبہ پورا نہیں ہوا لیکن حکومت مخالف جدوجہد کا ٹائم فریم طے ہوگیا ہے، مگر اس میں بھی کچھ مسائل ہیں، اور سب سے بڑا مسئلہ جنوری کے مہینے میں لانگ مارچ اور دھرنا ہوگا۔

جنوری میں اس طرح کی حکمتِ عملی پر عمل نہ ہونے کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ سردی، یعنی ایک ایسا مہینہ جب اسلام آباد میں سردی دانت بجانے پر مجبور کردے، تو اپوزیشن کی مختلف جماعتیں اپنے کارکنوں کو کسی آزمائش میں کیسے ڈال سکتی ہیں؟ پھر دوسری اور اہم ترین وجہ یہ کہ یہ وہی وقت ہوگا جب سینیٹ انتخابات کی جوڑ توڑ شروع ہوجائے گی۔

اگر اپوزیشن کی 2 سالہ کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سینیٹ میں اکثریت اور قومی اسمبلی میں طاقتور ہونے کے باوجود اس نے اپنی نااہلی اور مجبوری کی بنیاد پر حکومت کی قوت میں اضافہ کیا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے لیے مشترکہ اجلاس میں قانون سازی کے دوران واضح ہوا کہ کس طرح اپوزیشن نے حکومت کو محفوظ راستہ فراہم کیا، ماضی میں بھی ایسا ہی ہوتا رہا، چاہے بجٹ منظوری کا عمل ہو، یا دوسری قانون سازی، ہر بار حکومت قومی اسمبلی میں قانون کی منظوری کے دوران اپوزیشن کو اشتعال دلانے میں کامیاب ہوجاتی ہے، اور یوں وہ ایوان سے واک آؤٹ کرکے نکل جاتے ہیں، جبکہ پیچھے حکومت اپنی واردات ڈال دیتی ہے۔

اس بار اے پی سی کے نتائج سے اندازہ ہوتا ہے کہ پیسے تو پیپلزپارٹی کے خرچ ہوئے لیکن میلہ مریم نواز نے لوٹا، اور مولانا کو میزبان نے خود اسٹیج حوالے کیا۔ مولانا اپوزیشن جماعتوں کا ایک باضابطہ اتحاد چاہتے تھے، اور وہ اس میں کامیاب رہے، تحریری اعلامیہ اور ایکشن پلان ان کی خواہش تھی جو پوری ہوئی۔ اس سارے منظرنامے میں نقصان شہباز شریف کا ہوا۔