درمیانی عمر میں توند جلد موت کا خطرہ بڑھائے

24 ستمبر 2020

ای میل

یہ چربی سنگین امراض کا خطرہ بڑھاتی ہے— شٹر اسٹاک فوٹو
یہ چربی سنگین امراض کا خطرہ بڑھاتی ہے— شٹر اسٹاک فوٹو

پیٹ اور کمر کے ارگرد جتنی زیادہ چربی ہوگی تو اس سے کسی بھی وجہ سے قبل از وقت موت کا خطرہ اتنا زیادہ بڑھ جائے گا چاہے مجموعی طور پر جسمانی وزن بہت زیادہ نہ بھی ہو۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ درمیانی عمر میں بیشتر افراد کو توند نکلنے کا سامنا ہوتا ہے جو جسمانی طور پر بدوضع بنانے کے ساتھ جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

طبی جریدے جرنل بی ایم جے میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ توند کی چربی بہت زیادہ خطرناک ہوتی ہے اور جسمانی وزن کے مقابلے میں صحت کی پیشگوئی کے لیے زیادہ مددگار ہے۔

اس تحقیق دوران ایران اور کینیڈا کے طبی اداروں نے 72 تحقیقی رپورٹس کا تجزیہ کیا جن میں 25 لاکھ سے زیادہ افراد کا جائزہ 3 سے 24 سال تک لیا گیا تھا۔

تمام تحقیقی رپورٹس میں فٹنس کو جانچنے کے لیے کم از کم 3 پیمانے مقرر کیے گئے تھے یعنی کمر کی چوڑائی، کمر سے کولہوں کی چوڑائی اور جسمانی ساخت۔

محققین نے دریافت کیا کہ توند کی چربی سے کسی بھی وجہ سے قبل از وقت موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

مثال کے طور پر کمر کی چوڑائی میں ہر 4 انچ کے اضافے سے کسی بھی وجہ سے جلد موت کا خطرہ 11 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ کولہوں میں ربی کا جمع ہونا فائدہ مند اور رانوں کا حجم زیادہ ہونا حفاظت کرنے والے مسلز کے حجم کی جانب نشاندہی کرتا ہے۔

تحقیق میں ان وجوہات پر تو روشنی نہیں ڈالی گئی جو توند کی چربی اور جلد موت کے درمیان تعلق کی وضاحت کرسکیں۔

مگر نتائج سے ماضی کے نتائج کو تقویت ملتی ہے جن میں بتایا گیا کہ توند کا بڑھنا صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔

ایسا مانا جاتا ہے کہ مردوں میں کمر کا حجم 40 انچ سے زیادہ ہونا اور خواتین میں 34 انچ سے زیادہ ہونا ذیابیطس ٹائپ ٹو اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔

کچھ شواہد سے یہ عندیہ بھی ملتا ہے کہ پیٹ اور کمر کے ارگرد چربی کا اجتماع زیادہ ہونے سے دماغی افعال بھی متاثر ہوتے ہیں۔

کچھ عرصے قبل امریکا کے مایو کلینک کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ جن لوگوں کی کمر پھیل جاتی ہے اور پیٹ باہر نکل آتا ہے، ان میں ہارٹ اٹیک یا فالج کا خطرہ دوگنا بڑھ جاتا ہے اور ایسے افراد کو اپنا طبی معائنہ لازمی کرانا چاہئے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ توند میں اضافی چربی جمع ہوتی ہے جو کہ ابنارمل فیٹ ڈسٹری بیوشن کا باعث بنتی ہے۔

اور یہ چربی بہت زیادہ خطرناک ہوتی ہے، جو کہ معدے کے ٹشوز کی گہرائی میں اکھٹی ہوتی ہے اور اہم ترین اعضاءکے قریب ہوتی ہے۔

یہ چربی ایسے کمپاﺅنڈ خارج کرتی ہے جو کہ جگر کے افعال کو نقصان پہنچاتے ہیں، جبکہ ہائی بلڈ پریشر اور نقصان دہ کولیسٹرول کا خطرہ بڑھتا ہے جبکہ انسولین کی حساسیت کا امکان بھی ہوتا ہے جو کہ ذیابیطس ٹائپ ٹو کا باعث بن سکتا ہے۔

محققین نے انتباہ کیا کہ اگر آپ کی توند نکل چکی ہے تو اپنے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے۔

تحقیق میں ایسے افراد کا جائزہ لیا جو عام جسمانی وزن کے حامل تو تھے مگر ان کی توند نکل چکی تھی اور ایسے افراد میں دل کے مسائل کی شرح زیادہ پائی گئی۔

2 دہائیوں تک ان رضاکاروں کی صحت کا جائزہ لینے کے بعد یہ نتیجہ نکالا گیا۔

محققین کا کہنا تھا کہ عام وزن کے باوجود توند نکلنا دل کے مسائل کا خطرہ دوگنا بڑھا دیتا ہے، خصوصاً ہارٹ اٹیک یا فالج کا۔

انہوں نے کہا کہ توند نکلنا عام طور پر سست طرز زندگی، لو مسلز ماس اور بہت زیادہ ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس کھانے کا نتیجہ ہوتا ہے، خصوصاً مردوں میں تو چربی اسی جگہ جمع ہوتی ہے، لہذا توند نکلنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔