راجستھان میں پاکستانی خاندان کا قتل، بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے ہندو برادری کا احتجاج

اپ ڈیٹ 26 ستمبر 2020

ای میل

وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ وہ پاکستان کی خواتین اور بچے تھے—فوٹو: محمد عاصم
وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ وہ پاکستان کی خواتین اور بچے تھے—فوٹو: محمد عاصم

اسلام آباد: ملکی تاریخ میں ممکنہ طور پر پہلی مرتبہ ہندو برادری کے سیکڑوں افراد نے بھارت میں 11 پاکستانی ہندوؤں کے قتل کے خلاف وفاقی دارالحکومت میں سفارتی انکلیو کے اندر داخل ہو کر بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے احتجاج کیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے قانون ساز اور پاکستان ہندو کونسل (پی ایچ سی) کے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر رمیش ونکوانی کی سربراہی میں ملک کے متعدد حصوں خصوصاً سندھ سے جمع ہونے والے مظاہرین جمعرات کی رات اسلام آباد پہنچے اور ریڈ زون میں داخل ہوئے۔

مزیدپڑھیں: بھارت: راجستھان میں پاکستانی مہاجر خاندان کے 11 افراد ہلاک

پولیس کے ساتھ معمولی جھڑپ کے بعد پاکستان ہندو کونسل کے اراکین نے حکام کو قائل کیا کہ وہ انہیں بھارت کے شہر جودھ پور میں ایک ہندو تارکین وطن خاندان کے 11 افراد کے پراسرار قتل پر اپنے خدشات کا اظہار کرنے کے لیے سفارتی انکلیو کے اندر بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے احتجاج کی اجازت دے۔

پاکستان ہندو کونسل کے تحت ہونے والے اس احتجاج میں مطالبہ کیا گیا کہ اس واقعے کی تحقیقات کا آغاز کیا جائے جس کے نتیجے میں 11 افراد کی موت واقع ہوئی کیونکہ مذکورہ خاندان پاکستان سے بھارت ہجرت کرچکا تھا۔

ادھر وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا اور شرکا سے ہمدردی کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کی ہندو برادری سے اظہار یکجہتی کے لیے احتجاجی کیمپ میں آئے ہیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ ان لوگوں سے تعلقات ختم نہیں ہوئے جو ملک چھوڑ چکے تھے، 'یہ پاکستان کی خواتین اور بچے تھے اور بھارتی حکومت کا سلوک نامناسب ہے'۔

فواد چوہدری نے کہا کہ متاثرہ ہندو خاندان کی ایک بیٹی نے کہا کہ وہ (بھارتی حکام کے دباؤ) میں پاکستان کے خلاف بیان دینے پر مجبور ہوئی، یہ مناسب نہیں ہے جبکہ نریندر مودی کی سربراہی میں برسر اقتدار بھارتی پارٹی کو خود ہی شرم آنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں ہلاک 11 پاکستانی ہندوؤں کے متعلق تحقیقات سے آگاہ نہیں کیا گیا،ترجمان دفتر خارجہ

اس موقع پر ڈاکٹر رمیش نے احتجاجی شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دھرنے کی واحد وجہ بھارتی ریاست جودھ پور میں مارے گئے 11 پاکستانی ہندوؤں کے لیے انصاف کا مطالبہ کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'وزارت خارجہ نے مجھے بتایا ہے کہ متعدد مرتبہ فون کرنے کے باوجود بھارتی حکومت نے خاندان کے افراد کی ہلاکت کے بارے میں ضروری معلومات جاری نہیں کیں'۔

ڈاکٹر رمیش کاکہنا تھا کہ خاندان کے افراد کی موت حکومت اور پاکستانی عوام خصوصا پاکستانی ہندو برادری کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے۔

انہوں نے متاثرہ خاندان کے مرنے والے سربراہ کی بیٹی شری متی کے اس بیان کا حوالہ دیا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ انیلیسیس ونگ (را) مبینہ طور پر والد، والدہ اور خاندان کے دیگر افراد کے قتل میں ملوث تھی جبکہ ایجنسی انہیں پاکستان میں جاسوسی کرنے اور پاکستان مخالف بیانات دینے پر قائل کرنے میں ناکام رہی۔

انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ اس معاملے کی ایک جامع اور شفاف تحقیقات کرے اور اس کے نتائج کو فوری طور پر پاکستان کے ساتھ شیئر کرے۔

علاوہ ازیں جمعہ کی رات اسسٹنٹ کمشنر غلام مرتضیٰ چانڈیو کے ساتھ پی ایچ سی اراکین اور شری متی کا ایک چھوٹا گروپ ڈپلومیٹک انکلیو کے اندر بھارتی ہائی کمیشن پہنچا۔

چونکہ ہائی کمیشن سے کوئی بھی مظاہرین کی قرار داد وصول کرنے نہیں نکلا لہٰذا اس لیے ڈاکٹر رمیش نے اسے کمیشن کے مرکزی دروازے کی دیوار پر چسپاں کردیا۔

مزیدپڑھیں: پاکستان کی بھارت کو ایک بار پھر کلبھوشن تک قونصلر رسائی کی پیشکش

اس کے بعد وہ دوسروں کے ساتھ مل کر ڈپلومیٹک انکلیو سے باہر نکلے اور مظاہرین کو بتایا کہ بھارت میں قتل ہونے والے 11 افراد کے انصاف کے لیے ان کی جدوجہد کا پہلا قدم مکمل ہوا۔

انہوں نے کہا کہ انصاف کے حصول تک جدوجہد جاری رہے گی۔

انہوں نے اپنے مطالبے کا اعادہ کیا کہ بھارتی حکومت دہلی میں پاکستان کے ہائی کمیشن کو انکوائری رپورٹ تک رسائی فراہم کرے۔


یہ خبر 26 ستمبر 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی