تعلیمی اداروں کا کھلنا اور والدین کی بڑھتی پریشانی!

28 ستمبر 2020

ای میل

کیا آپ بھی ان والدین میں شامل ہیں جو آج کل اس الجھن کا شکار ہیں کہ اپنے بچوں کو 6 ماہ کے تعلیمی تعطل کے بعد اسکول، کالج اور یونیورسٹی بھیجیں یا نہیں، کیونکہ آپ کے نزدیک ‘جان ہے تو جہاں ہے’۔

یا پھر آپ کا شمار ان والدین میں ہوتا ہے جو اتنے طویل وقفے کے بعد تعلیمی ادارے کھلنے پر بے حد خوش اور پُرجوش ہیں اور ان دنوں بچوں کے ساتھ نئے یونیفارم، کتابیں اور دیگر درسی لوازمات کی خریداری میں مصروف ہیں۔

ممکن ہے آپ ان والدین کی فہرست میں آتے ہوں جن کے نزدیک موجودہ وبائی دور میں تعلیمی اداروں کا کھولنا ‘بچوں کی جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہے اور اس کا بہترین حل متبادل، آن لائن طریقہ تعلیم کا فروغ ہے’۔

سچ تو یہ ہے کہ آپ واحد نہیں جو اس کشمکش کا شکار ہوں۔ اس حوالے سے اقوامِ متحدہ کی اگست 2020ء میں جاری کردہ رپورٹ ‘Education during Covid-19 and beyond’ کے مطابق ‘دنیا کے طول و عرض میں پھیلے 190 ممالک میں تقریباً 1 ارب 60 کروڑ طلبہ کا تعلیمی سلسلہ کورونا کی وبا کے باعث بُری طرح متاثر ہوا ہے۔ عالمی سطح پر تعلیمی اداروں کی بندش کی وجہ سے رواں سال 94 فیصد طلبہ کا تدریسی عمل تعطل کا شکار ہوا جن میں سے بڑی تعداد کا تعلق ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک سے ہے’۔

مزید پڑھیے: اسکول جانے والے بچوں کو اپنی حفاظت کے لیے کیا کرنا چاہیے؟

اندیشہ یہ ہے کہ یہ وبا امیر اور غریب طبقے کے درمیان تعلیمی خلیج کو مزید بڑھا دے گی اور ایک محتاط اندازے کے مطابق ‘دنیا بھر میں تقریباً 2 کروڑ 30 لاکھ بچے، بچیاں اور نوجوان اپنی درس گاہوں کو مختلف معاشی اور سماجی دباؤ کی وجہ سے خیرباد کہہ دیں گے’۔

اقوامِ متحدہ کے جاری کردہ یہ اعداد و شمار بین الاقوامی سطح پر دانشوروں اور منصوبہ سازوں کے لیے باعثِ تشویش ہیں، تاہم اس وقت مقامی سطح پر درس و تدریس سے وابستہ افراد بشمول والدین، اساتذہ، طلبہ اور انتظامیہ کو جو فکر دامن گیر ہے وہ یہ کہ تعلیمی ادارے کھلنے کے بعد پاکستان میں صحت عامہ کی کیا صورت حال ہوگی؟ بقول ناقدین، جو اسکول برسہا برس گزرنے کے باوجود جوؤں اور لیکھوں پر قابو نہ پاسکے ہوں وہ کورونا جیسے نادیدہ اور مہلک وائرس کی روک تھام کس طرح کرسکیں گے؟

اس وقت جو اندیشہ والدین کو گھیرے ہوئے ہے وہ یہ کہ نوجوان اور بچے کس حد تک سماجی فاصلوں، ماسک اور دیگر حفاظتی اقدامات کے نرغے میں تعلیمی عمل جاری رکھ سکیں گے اور اگر کسی بھی سطح پر غفلت کے باعث کورونا کی دوسری لہر نوجوانوں اور بچوں کے ذریعے ملک میں پھیلی تو اس کے اثرات کتنے دُور رس اور ہلاکت خیز ہوں گے۔

ان حالات میں جہاں ملک بھر میں تعلیمی ادارے بتدریج کھولے جا رہے ہیں، وہاں ابہام، اندیشے اور قیاس آرائیاں ایک فطری عمل ہے۔ دوسری طرف ملک میں اسکول اور کالج کھلنے کے ساتھ کورونا کے بڑھتے کیسز کی خبر بھی گرم ہے جو والدین کو مزید پریشان کیے ہوئے ہے۔

اس لیے اب سوال یہ ہے کہ اس تناظر میں کیا جائے تو کیا؟

جواب ایک ہی ہے، یعنی احتیاط، احتیاط اور احتیاط۔ کیونکہ ‘پرہیز علاج اور پچھتاوے سے بہتر ہے’۔

اسکول، کالج اور یونیورسٹی کی تیاری سے لے کر واپسی تک ہمیں خود کو اور اپنے بچوں کو ایک نئے اور یکسر مختلف معمول کا عادی بنانا ہوگا۔ سو بچوں کے اور آپ کے پاس اپنے اپنے ماسک (کم از کم دو ہوں تاکہ ایک گم ہونے کی صورت میں دوسرا استعمال کیا جاسکے)، ٹشوز اور سینیٹائزر کی موجودگی، ان کے استعمال سے واقفیت اور اہمیت سے آگاہی لازمی ہے۔ اس حوالے سے جہاں بے شمار آن لائن ویڈیوز اور کتابچے موجود ہیں، وہاں اس کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ آپ خود بحیثیت والدین اور استاد ان تمام ایس او پیز پر خوش دلی اور تندہی سے عمل کریں، بالکل ویسے ہی جیسی امید آپ اپنے بچوں اور طلبہ سے رکھتے ہیں۔

دوسرا مرحلہ اسکول، کالج اور یونیورسٹی پہنچنے کا ہے۔ اوّل تو کوشش کریں کہ بچوں کو ذاتی سواری پر چھوڑیں اور واپس لیں، لیکن اگر کسی وجہ سے یہ ممکن نہ ہو تو وین اور بسوں کے ڈرائیور حضرات اور مالکان سے بات کرکے بچوں کے درمیان فاصلے کو یقینی بنائیں اور ساتھ ساتھ اس بات پر بھی زور دیں کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر بسوں اور کلاسوں میں سیٹوں، دروازوں بالخصوص ہینڈلز اور ٹچ پوائنٹز کی صفائی، ماسک کے استعمال اور ہوا کے مناسب گزر کا ہر ممکن خیال رکھیں۔ اس حوالے سے والدین اور اسکول انتظامیہ کو مشترکہ اور سخت اصولی رویہ اپنانا ہوگا ورنہ اس پر عمل درآمد دشوار ہے۔

تیسرا مرحلہ تعلیمی اداروں کے اندر آمد و رفت کے وقت طلبہ اور عملے کی جانچ، ان کے درمیان مناسب سماجی فاصلہ برقرار رکھنے اور بھیڑ سے بچانے کا ہے۔ سو اس کے لیے طلبہ کو چھوٹے چھوٹے گروپوں میں تقسیم کرکے مختلف اوقات اور دنوں میں بلانے کا لائحہ عمل تیار کیا گیا ہے۔ نیز فی الوقت ہر قسم کے اجتماع بشمول صبح کی اسمبلی، کھیل کود کے مقابلوں اور کھانے کے وقفے کے دوران میل ملاقات سے اجتناب بھی بہت ضروري ہے۔

کوشش کریں کہ اپنے بچوں کے لیے گھر سے تازہ اور صحت بخش لنچ اور پانی کی بوتل لے جانے کی عادت ڈالیں اور خود بھی یہ عادت اپنائیں۔ نیز اسکولوں، کالجوں اور جامعات کے اندر بیت الخلاء کی مناسب صفائی اور دیکھ بھال، پانی، صابن، سینیٹائزر اور ٹشو پیپرز کی وافر مقدار میں مستقل فراہمی وہ بنیادی اور توجہ طلب معاملات ہیں جن پر اسکول انتظامیہ کو ہر صورت پابند کرنا ہوگا۔

ہر تعلیمی ادارے میں کم از کم ایک تربیت یافتہ ڈاکٹر یا نرس کی موجودگی، بنیادی طبّی امداد، آلات، خصوصاً تھرمامیٹر، ماسک، ان ہیلر اور ادویات کی فراہمی بھی موجودہ وقت کی ضرورت ہے۔ کسی بھی ہنگامی صورت حال سے مناسب طریقے سے نمٹنے میں یہ انتظامات کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ طلبہ، اساتذہ اور عملے میں سے کسی میں کورونا یا اس سے ملتی جلتی علامات ظاہر ہونے پر ان کو باقیوں سے فی الفور الگ کرنا اور محفوظ مقام پر منتقل کرنا اس شعبہ کی اوّلین ترجیح ہونی چاہیے۔

تعلیمی اداروں خصوصاً کلاسوں کے اندر یہ ذمہ داری منتظمین اور اساتذہ پر عائد ہوتی ہے کہ تمام تر احتیاطی تدابیر پر خود بھی سختی سے عمل کریں اور بچوں کو بھی اس کا پابند کریں جبکہ ان کی حدود سے باہر یہ فریضہ والدین، طلبہ سمیت ہر اس شخص کا ہے جو اس تعلیمی نظام کا حصہ ہے، خواہ وہ دروازے پر کھڑا چوکیدار ہو، ٹریفک پولیس کا سپاہی ہو یا بس کا ڈرائیور اور کنڈیکٹر۔

اس معاشرے کے ایک ذمہ دار فرد کی حیثیت سے ہم سب پر یہ لازم ہے کہ ایک دوسرے کی تربیت بھی کریں اور اصلاح بھی، اور اگر ہماری کسی بد احتیاطی پر کوئی توجہ دلائے تو چراغ پا ہونے کے بجائے خندہ پیشانی سے اسے مانیں اور سدھاریں۔

مزید پڑھیے: کیا ان حالات میں اسکولوں کو دوبارہ کھولنا ٹھیک ہے؟

6 ماہ کے وقفے کے بعد تعلیمی ادارے کھلنے کا یہ سفر طلبہ، والدین، انتظامیہ اور اساتذہ کے لیے یکساں دشوار اور صبر آزما ہے جس کو باہمی رواداری اور تحمل کے ساتھ ہی آسان بنایا جاسکتا ہے

کورونا نے جہاں کئی خاندانوں سے ان کے پیاروں کو چھینا، وہاں بہت سے کنبے اس موذی مرض سے لڑ کر صحتیاب بھی ہوئے اور کچھ افراد اب بھی اس سے نبردآزما ہیں۔ بہت سے لوگوں کی نوکری گئی اور کئی افراد کا کاروبار اس سے بُری طرح متاثر ہوا۔ نیز طویل عرصے گھر میں محدود رہنے کی وجہ سے سونے جاگنے اور کھانے پینے کے روزمرہ معمولاتِ زندگی بھی یکسر بدل گئے۔ تعلیمی اداروں میں واپس آنے والے بیشتر طلبہ اور کئی اساتذہ و عملہ ان حالات کا شکار رہے ہوں گے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ بحالی کے اس سفر میں ہم ایک دوسرے کا جذباتی سہارا بنیں اور جسمانی صحت و حفاظت کے اصولوں پر عمل درآمد کرنے اور کرانے کے ساتھ ساتھ طلبہ کے گوناگوں نفسیاتی مسائل کو بھی سمجھیں اور اس حوالے سے انہیں انفرادی توجہ، مدد، وقت اور موقع دیں۔

اس لیے یہ تو طے ہے کہ مستقبل کا تعلیمی منظرنامہ ماضی اور حال سے یکسر مختلف ہوگا اور اگر ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو آنے والے مشکل وقت کے لیے تیار کرنا ہے تو صحت اور تعلیم کو سرکاری اور نجی دونوں سطح پر اوّلین ترجیحات میں رکھنا یوگا۔ ان بنیادی شعبوں کے لیے مختص وسائل دیانتداری سے بروئے کار لاتے ہوئے ایک طرف آن لائن مرکب نظامِ تعلیم کی ترویج و ترسیل کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے تو دوسری جانب احتیاطی تدابیر کی پابندی کرتے ہوئے مرحلہ وار تعلیمی اداروں کو کھولنا ہوگا نیز ان پر مستقل اور کڑی نظر بھی رکھنی ہوگی تاکہ نئی نسل کی تعلیم و تربیت کا سلسلہ بھی رواں دواں رہے اور ان کی صحت و زندگی کی خاطر خواہ حفاظت بھی ہوسکے۔