جھوٹی، بدنیتی پر مبنی خبروں کے خلاف علی ظفر کی آن لائن کورٹس کی تجویز

اپ ڈیٹ 28 ستمبر 2020

ای میل

—فائل فوٹو: انسٹاگرام
—فائل فوٹو: انسٹاگرام

پاکستان کے معروف گلوکار و اداکار علی ظفر نے سوشل میڈیا پر جھوٹی، بدنیتی پر مبنی خبروں کے خلاف آن لائن کورٹس کی تجویز دے دی۔

خیال رہے کہ سوشل میڈیا کے جہاں ہزاروں فوائد ہیں وہیں کچھ ٹرینڈز کبھی کسی کی دل آزاری یا ساکھ کو نقصان پہنچانے کا باعث بھی بنتے ہیں۔

اسی حوالے سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر مختلف ٹوئٹس میں علی ظفر نے اپنے مداحوں سے پوچھا کہ آن لائن سوشل میڈیا کورٹس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

مزید پڑھیں: علی ظفر کے کورونا وائرس پر بنائے گانے سے شائقین ناراض

انہوں نے لکھا کہ آزادی اظہار رائے کے نام پر غیر اخلاقی اور جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کو حقائق کے ساتھ ان کے غیر قانونی اور غیر اخلاقی اقدامات پر بے نقاب کرنا چاہیے اور ان کی خودساختہ سچائی کو ختم کیا جانا چاہیے۔

علی ظفر کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ ہے کہ موجودہ نظام میں، جب تک بدنام کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا اور بے نقاب کیا جاتا ہے اس وقت تک کافی نقصان ہوچکا ہوتا ہے کیونکہ بدنیتی یا ایجنڈے پر مبنی بیانیہ چند منٹوں میں جنگل کی آگ کی طرح پھیلتا ہے اور روایتی قانونی کارروائی میں سالوں لگ سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید لکھا کہ ایسے بہتان کے دفاع کے لیے 'خاموش کرائے جانے'، 'آزادی اظہار رائے' کی دلیل کو آلے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جبکہ اس حوالے سے قوانین اور لٹریچر موجود ہیں جو آزادی اظہار رائے اور اس سے جڑی ذمہ داریوں کی وضاحت کرتے ہیں۔

علی ظفر نے کہا کہ یہ سمجھنا اور ماننا کہ ایک شخص دوسرے کے مقابلے میں زیادہ شعور رکھتا ہے درحقیقت فکری تکبر ہے جبکہ اصل شعور رکھنے کے لیے ہمیں حقیقتاً ہمدرد، شائستہ منکسرالمزاج ہونا ہے۔

گلوکار و اداکار نے کہا کہ دنیا کے تمام تنازعات اس اصول پر مبنی ہیں کہ میرے عقائد، میرے اصول اور میرے خیالات آپ سے بہتر ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا اس سے بحث سے لےکر اس سے بڑے جھگڑے جنم لیتے ہیں، اب سوشل میڈیا بھی انسان کے اسی رویے کا نیا عکس ہے کہ میں صحیح ہوں اور آپ غلط ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: علی ظفر کا پاکستانی فلم میں ڈیبیو

علی ظفر نے لکھا کہ ہم میں سے اکثر لوگ سوشل میڈیا پر پوری طرح تحقیق یا حقائق سمجھے بغیر ایسے خیالات، بیانیوں یا ہیش ٹیگز کی طرف دیکھتے ہیں جو 'کول' لگتے ہیں۔

بعدازاں انہوں نے آزادی اظہار رائے سے متعلق آئین کے آرٹیکل 19 اور سوشل میڈیا پر کنٹرول سے متعلق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے اشتہار کی تصاویر شیئر کی اور لکھا کہ پی ٹی اے کو سوشل میڈیا پر مجرمان پر نگاہ رکھنے کا اختیار ہے۔