افغانستان: ننگرہار میں خود کش کار بم دھماکا، 15 افراد ہلاک

اپ ڈیٹ 03 اکتوبر 2020

ای میل

حملے میں زخمی ایک بچی کو ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے— فوٹو: اے ایف پی
حملے میں زخمی ایک بچی کو ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے— فوٹو: اے ایف پی

افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار میں سرکاری عمارت میں خودکش کار بم دھماکےسے کم از کم 15 افراد ہلاک اور تین درجن سے زائد زخمی ہو گئے۔

خبر ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق صوبہ ننگرہار کے گورنر کے ترجمان عطااللہ خان خوگیانی نے بتایا کہ حملے میں سرکاری عمارت کو نشانہ بنایا گیا، ضلع غنی خیل میں واقع اس انتظامی عمارت میں کچھ دفاتر اور تنصیبات ہیں۔

مزید پڑھیں: افغان حکومت نے پیدائشی سرٹیفکیٹ میں والدہ کا نام شامل کرنے کی منظوری دے دی

انہوں نے بتایا کہ ضلعی صدر دفتر کی اس عمارت کے داخلی دروازے پر دھماکا کیا گیا، حملے کے بعد کئی مسلح افراد نے عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن سیکیورٹی فورسز نے انہیں ہلاک کردیا۔

صوبائی پولیس کے ترجمان نے بھی دھماکے اور اموات کی تصدیق کی۔

انہوں نے کہا کہ حملے میں ہلاک ہونے والوں میں اکثریت سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی ہے لیکن متعدد شہری بھی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

وزارت داخلہ کے ترجمان طارق آریان نے خبر ایجنسی اے پی سے گفتگو میں کہا کہ دھماکے میں 38 افراد زخمی بھی ہوئے جبکہ حملہ جو ایک ایسے موقع پر کیا گیا جب مقامی افراد ظہر کی نماز کے لیے جمع ہو رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: افغان حکومت نے پیدائشی سرٹیفکیٹ میں والدہ کا نام شامل کرنے کی منظوری دے دی

صوبائی گورنر کے ترجمان عطااللہ خوگیانی نے کہا کہ حملے کے بعد متعدد مسلح حملہ آوروں نے عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن اس کوشش کو ناکام بنا دیا گیا اور تمام حملہ آور مارے گئے۔

ابھی تک کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی لیکن داعش اور طالبان اس علاقے میں فعال ہیں اور دونوں افغان حکومت اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں بھی ملوث ہیں۔

واضح رہے کہ یہ حملہ ایک ایسے موقع پر کیا گیا ہے کہ جب تقریباً دو دہائیوں پر محیط پر اس خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے طالبان اور افغان حکومت کے درمیان قطر میں مذاکرات جاری ہیں۔