’کپور حویلی کی مطلوبہ رقم نہ ملی تو اسے منہدم کرکے کمرشل پلازہ بنائیں گے’

اپ ڈیٹ 25 اکتوبر 2020

ای میل

خیبرپختونخوا کے محکمہ آثار قدیمہ نےبولی وڈ کے لیجنڈ اداکاروں کے گھروں کو خریدنے کے لیے سرکاری سطح پر کارروائی شروع کی تھی—فائل فوٹو: شکیل واحد اللہ
خیبرپختونخوا کے محکمہ آثار قدیمہ نےبولی وڈ کے لیجنڈ اداکاروں کے گھروں کو خریدنے کے لیے سرکاری سطح پر کارروائی شروع کی تھی—فائل فوٹو: شکیل واحد اللہ

خیبر پختونخوا (کے پی) کی حکومت کی جانب سے صوبائی دارالحکومت پشاور میں واقع دلیپ کمار اور راج کپور کے آبائی گھروں کو میوزیم میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

گزشتہ ماہ ستمبر کے اواخر میں خیبرپختونخوا کے محکمہ آثار قدیمہ و میوزیم کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالصمد نے بتایا تھا کہ صوبائی حکومت نے بولی وڈ کے لیجنڈ اداکاروں کے گھروں کو خریدنے کے لیے سرکاری سطح پر کارروائی شروع کی تھی۔

ان کے مطابق حکومت، دلیپ اور راج کمار کے گھروں کو خرید کر وہاں تزئین و آرائش کے بعد دونوں جگہوں کو میوزیم میں تبدیل کرکے سیاحت کو فروغ دے گی۔

مزید پڑھیں: کے پی حکومت کا دلیپ اور راج کپور کے گھروں کو میوزیم میں تبدیل کرنے کا فیصلہ

ڈاکٹر عبدالصمد کے مطابق دونوں اداکاروں کے گھروں کے حالیہ مالکان وہاں کمرشل پلازہ بنانے کے خواہاں ہیں اور انہوں نے اسی سلسلے میں دونوں تاریخی عمارتوں کی توڑ پھوڑ بھی شروع کردی تھی۔

بعدازاں اکتوبر ہی میں صوبائی حکومت نے دلیپ کمار کے گھر اور کپور حویلی پر سیکشن فور نافذ کردیا تھا جس کے مطابق اب یہ اراضی حکومت کی جانب سے خریدی جائے گی۔

—فائل فوٹو:ہندوستان ٹائمز
—فائل فوٹو:ہندوستان ٹائمز

تاہم اب کپور حویلی سے متعلق پشاور ہی کے ایک خاندان کا دعویٰ ہے کہ یہ حویلی ان کے والد حاجی خوشحال رسول نے ماضی میں ایک سرکاری نیلامی میں خریدی تھی اور بعد میں یہ حویلی ان کے 5 بیٹوں کے زیرِ ملکیت آئی۔

انڈیپنڈنٹ اردو کی رپورٹ کے مطابق حویلی کی ملکیت کا دعویٰ کرنے والے حاجی خوشحال رسول کے ایک بیٹے علی قادر نے انڈیپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کے خاندان نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ کپور حویلی کے عوض حکومت خیبرپختونخوا سے 2 ارب روپے وصول کریں گے۔

علی قادر نے کہا کہ یہ ایک قیمتی حویلی ہے، اس کی مثال نوادرات کی ہے اور نوادرات ہمیشہ مہنگے داموں فروخت ہوتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کپور حویلی میں 35 کمرے ہیں اور ہر کمرے میں دیودار کے لیے لکڑی استعمال ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دلیپ کمار کی پشاور میں واقع آبائی گھر کی تصاویر شیئر کرنے کی درخواست

علی قادر نے کہا کہ ہم نے برسوں اس حویلی کی حفاظت اور مرمت کی ہے اور اگر صوبائی حکومت ہمیں مطلوبہ رقم نہیں دے سکتی تو پھر ہم اسے منہدم کرکے ایک کمرشل پلازہ بنائیں گے۔

دوسری جانب کپور حویلی کو خریدنے سے متعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے محکمہ آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر عبدالصمد خان نے بتایا کہ اس حویلی کو سرکاری ملکیت بنانے کے لیے ایک باقاعدہ طریقہ کار اپنایا جا رہا ہے۔

حکومت سے حویلی کی 2 ارب روپے قیمت وصول کرنے کے مطالبے پر عبدالصمد خان نے کہا کہ مالکان تو 20 ارب روپے کا مطالبہ بھی کر سکتے ہیں لیکن ہم یہ دیکھیں گے کہ اس علاقے میں فی مرلہ اراضی کی قیمت کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کپور حویلی 6 مرلہ اراضی پر مشتمل ہے اور جس قیمت کا مطالبہ کیا جارہا ہے تو اس طرح تو ایک مرلہ 30 کروڑ روپے کا بنتا ہے۔

ڈاکٹر عبدالصمد نے مزید کہا کہ صوبائی محکمہ ریونیو مذکورہ اراضی کی اصل لاگت کے حوالے سے جو رپورٹ دے گا اس کے بعد کے پی حکومت وہ رقم ضلعی انتظامیہ کے اکاؤنٹ میں منتقل کرے گی۔

کپور حویلی کا عکس—فوٹو:انڈیپنڈنٹ اردو
کپور حویلی کا عکس—فوٹو:انڈیپنڈنٹ اردو

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رقم ضلعی انتظامیہ کے اکاؤنٹ میں منتقل ہونے کے بعد ڈپٹی کمشنر یہ رقم مالکان کے حوالے کریں گے۔

ڈاکٹر عبدالصمد خان نے کہا کہ کپور حویلی کی خریداری کے لیے ایک باقاعدہ طریقہ کار کے تحت سب کچھ کیا جائے۔

مزید پڑھیں: دلیپ کمار کا گھر خریدنے کیلئے حکومت فنڈ مہیا کررہی ہے، معاون خصوصی

اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس وقت یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ حویلی کے اصل مالکان کون ہیں۔

ڈاکٹر عبدالصمد خان نے کہا کہ انہیں آسٹریا سے بھی ایک ای میل موصول ہوئی تھی جس میں ایک شخص نے کپور حویلی کا اصل مالک ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ دلیپ کمار اور کپور حویلی کو خرید کر اس کی ضروری مرمت ہونے کے بعد ان دونوں عمارتوں کو میوزیم کا درجہ دے کر سیاحوں کے لیے کھول دیا جائے گا۔

ڈاکٹر عبدالصمد خان نے کہا کہ ان دونوں میوزیمز میں دلیپ کمار اور کپور خاندان کی فلمی زندگی اور پشاور سے تعلق پر مبنی سامان بھی رکھا جائے گا۔

علاوہ ازیں ایک سرکاری افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ کپور حویلی کی ملکیت کے دعویداروں کو کمروں میں استعمال شدہ قیمتی لکڑی کی رقم بھی ادا کی جائے گی۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ مالکان کی جانب سے جس ہوشربا قیمت کا مطالبہ کیا جارہا ہے وہ رقم کبھی نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اگر کپور حویلی کے مالکان کا یہ ماننا کہ حویلی نوادرات میں شامل ہے تو وہ یہ بھی جان لیں کہ ملک میں کوئی بھی چیز جب اس قدر قیمتی اور نادر ہو جائے تو وہ خودبخود ہی ریاست کی ملکیت بن جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سائرہ بانو پشاور میں بولی وڈ اداکاروں کے گھروں کو میوزیم بنانے کے فیصلے پر خوشی سے سرشار

خیال رہے کہ دلیپ اور راج کپور تقسیم ہند سے قبل متحدہ ہندوستان میں پشاور میں پیدا ہوئے تھے۔

دلیپ کمار کی پیدائش پشاور کے حالیہ علاقے قصہ خوانی بازار میں 1922 میں مسلمان گھرانے میں ہوئی تھی اور ان کا اصل نام محمد یوسف ہے۔

دلیپ کمار کو ان کی فلمی خدمات پر حکومت پاکستان نشان امتیاز سے بھی نواز چکی ہے۔

اسی طرح راج کپور کی پیدائش پشاور کے حالیہ علاقے حویلی دلگران میں ہندو خاندان میں 1924 میں ہوئی تھی۔

دونوں بولی وڈ لیجنڈز کے علاوہ بھی دیگر چند بولی وڈ شخصیات پشاور اور خیبرپختونخوا کے دیگر علاقوں میں پیدا ہوئی تھیں جب کہ متعدد شخصیات حالیہ پاکستان کے دیگر صوبوں پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے کچھ علاقوں میں بھی پیدا ہوئی تھیں۔