مقبوضہ کشمیر میں بھارت کا ایک اور متنازع قانون، غیر کشمیریوں کو زمین خریدنے کی اجازت

اپ ڈیٹ 27 اکتوبر 2020

ای میل

مقبوضہ جموں و کشمیرکے سابق وزیراعلیٰ نے اس قانون پر شدید تنقید کی—فائل/فوٹو: اے ایف پی
مقبوضہ جموں و کشمیرکے سابق وزیراعلیٰ نے اس قانون پر شدید تنقید کی—فائل/فوٹو: اے ایف پی

بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے لیے زمینوں سے متعلق قانون میں ترامیم متعارف کروا دی ہیں جس کے تحت بھارت کی کسی بھی ریاست کا شہری مقبوضہ علاقے میں اراضی حاصل کر پائے گا۔

بھارت کے مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق بھارت کی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ نیا قانون ‘یونین ٹریٹری آف جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن(ایڈاپٹیشن آف سینٹرل لاز) تھرڈ آرڈر 2020’ کا نفاذ فوری طور پر ہوگا۔

اس سے قبل مقبوضہ جموں و کشمیر کے مستقل رہائشی ہی خطے میں اراضی خرید سکتے تھے لیکن اب اس قانون کو بھی ختم کردیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: بھارت نے مقبوضہ کشمیر کیلئے ڈومیسائل کے نئے قوانین متعارف کرادیے

خیال رہے کہ 5 اگست 2019 کو بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے آرٹیکل 370 کے تحت حاصل مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد دیگر کئی قوانین بھی متعارف کروائے جاچکے ہیں۔

بی جے پی حکومت نے قانون بنایا تھا کہ بھارت کی کسی بھی ریاست کا شہری مقبوضہ خطے میں جائیداد بنا سکتا اور ملازمت بھی حاصل کرسکتا ہے۔

بھارت نے نیا متنازع قانون ایک ایسے وقت میں متعارف کروایا ہے جب مقبوضہ جموں و کشمیر اور دنیا بھر میں کشمیری 27 اکتوبر کو بھارتی قبضے کے خلاف احتجاجاً ‘یوم سیاہ’ کے طور پر منا رہے ہیں جب 73 برس قبل 1947 میں بھارت کی فوج خطے میں داخل ہوئی تھی۔

مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے متنازع قانون پر رد عمل دیتے ہوئے وفاقی وزیر سیفران اور کشمیر کمیٹی کے سربراہ شہریار آفریدی کا کہنا تھا کہ ‘بھارتی حکومت نے یوم سیاہ پر ایک اور سفاک قانون متعارف کروایا ہے اور یاد دلا رہا ہے کہ بھارتی قابض فورسز کشمیریوں کے تمام حقوق کو کیسے غصب کر رہی ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ ‘اب بھارتی اور غیر ملکیوں کو بھی بھارت کی جانب سے غیر قانونی طور پر قبضہ کیے ہوئے جموں و کشمیر میں زمینیں خریدنے کی اجازت دی گئی ہے’۔

دوسری جانب مقبوضہ جموں و کشیر کے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی ٹوئٹر پر اپنے بیان میں بی جے پی حکومت کے اس اقدام کی شدید مذمت کی۔

یہ بھی پڑھیں: آرٹیکل 370 کی منسوخی، مقبوضہ کشمیر آج دو حصوں میں تقسیم ہوجائے گا

انہوں نے کہا کہ ‘مقبوضہ جموں و کشمیر کی زمینوں کی ملکیت کے حوالے سے ترامیم ناقابل قبول ہیں، ڈومیسائل قانون کے تحت بھی غیر زرعی اراضی کی خریداری اور زرعی اراضی کی منتقلی کو آسان بنا دیا گیا تھا یہاں تک کہ وہ بھی ختم ہوگیا’۔

عمر عبداللہ نے کہا کہ ‘اب مقبوضہ جموں و کشمیر کو برائے فروخت کردیا گیا ہے، جس سے غریب زمینداروں کو مشکلات کا سامنا ہوگا’۔

مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے اقدامات کے خلاف احتجاج ہوتا رہا ہے لیکن 5 اگست 2019 کے بعد بڑے پیمانے پر پابندیاں اور لاک ڈاؤن جاری ہے۔

ڈومیسائل قانون میں ترامیم

نریندر مودی کی حکومت نے رواں برس کے اوائل میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے لیے ڈومیسائل کا نیا قانون بنایا تھا جس کے تحت جموں و کشمیر میں 15 سال سے مقیم فرد اپنے ڈومیسائل میں مقبوضہ علاقے کو اپنا آبائی علاقہ قرار دے سکے گا۔

جموں و کشمیر سول سروسز ایکٹ میں واضح کیا گیا کہ ڈومیسائل میں مقبوضہ علاقے کو اپنا آبائی علاقہ قرار دینے والے شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ جموں و کشمیر کے وسطی علاقے میں 15 سال تک رہائش اختیار کرچکا ہو یا 7 سال کی مدت تک تعلیم حاصل کی ہو یا علاقے میں واقع تعلیمی ادارے میں کلاس 10 یا 12 میں حاضر ہوا اور امتحان دیے ہوں۔

اس سے قبل مذکورہ جموں و کشمیر کے آئین کی دفعہ 35 اے میں شہری سے متعلق تعریف درج تھی کہ صرف اسی شخص کو مقبوضہ جموں و کشمیر کا ڈومیسائل جاری کیا جائے گا جو مقبوضہ علاقے میں ریلیف اینڈ ریبلٹیشن کمشنر کے پاس بطور تارکین وطن رجسٹرڈ ہو۔

مزید پڑھیں: احتجاج کے بعد بھارت نے مقبوضہ کشمیر ڈومیسائل قانون میں ترمیم کردی

نئے قانون میں بھی مرکزی حکومت کے عہدیداران بشمول آل انڈیا سروسز آفیسرز، پی ایس یوز اور مرکزی حکومت کے خود مختار ادارے کے عہدیداران، پبلک سیکٹر کے بینکوں و مرکزی جامعات کے عہدیداران، مرکزی یونیورسٹیز کے عہدیداران اور مرکزی حکومت کے تسلیم شدہ تحقیقی اداروں کے بچے بھی شامل ہیں ’جنہوں نے جموں و کشمیر میں 10 سال کی مدت تک خدمات انجام دی ہیں یا ایسے والدین کے بچے جو سیکشن میں کسی بھی شرائط کو پورا کرتے ہیں۔

مقامی افراد کو بھی مستقل شہریت کے لیے نئے ڈومیسائل کے لیے درخواست دینا ہوگی، اس کے لیے انہیں مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ (پی آر سی) دکھانا ہوگی، جس کا اطلاق 1927 سے ہوگا جبکہ پی آر سی اس کے بعد بے معنی ہوجائے گا۔

بھارت میں اس قانون کے نفاذ کے بعد احتجاج شروع ہوا تھا کیونکہ 20 کروڑ مسلمانوں کو خوف ہے کہ نریندر مودی بھارت کو ایک ہندو ریاست بنانے کے درپے ہیں جبکہ نریندر مودی نے اس کی تردید کردی تھی۔